4سال کے دوران ترقیاتی منصوبوں میں 550ارب کی بچت

4سال کے دوران ترقیاتی منصوبوں میں 550ارب کی بچت

 اسلام آباد (اے پی پی) چارسال کے دوران پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام کے ذریعے بے مثال ترقی ‘معیار اور بچت کی پالیسی پر عمل پیرا ہے ، ترقیاتی منصوبوں میں 550 ارب کی بچت کی گئی ہے اور تمام تر قیاتی منصوبوں پر شفافیت کو یقینی بنایا گیا ‘ملک کی ترقی اور معیشت کے استحکام کو اولین ترجیحات میں رکھا، موجودہ حکومت نے اقتدار سنبھالنے کے بعد معیشت، ملک کی ترقی کو ترجیح دی اور اقتصادی اعشاریوں کو بہتر بنایا۔موجودہ حکومت بین الاقوامی مالیاتی اداروں کا اعتماد حاصل کر رہی ہے اور عالمی بینک، اے ڈی بی پی اور آئی ڈی بی پی جیسے ادارے اقتصادی اور سماجی شعبوں میں موجودہ حکومت کے ساتھ بھرپور تعاون کررہی ہے ۔پلاننگ کمیشن کے حکام نے ’’اے پی پی‘‘ کو بتایا کہ حکومت بچت اور معیار کی پالیسی پر عمل پیرا ہے ، ترقیاتی منصوبوں میں 550 ارب کی بچت کی گئی ہے اور تمام تر قیاتی منصوبوں پر شفافیت کو یقینی بنایا گیا ، منصوبہ بندی کے قابل اہلکاروں اور افسران کی محنت کی بدولت ہم اس قابل ہوئے کہ قومی خزانے کے550 ارب روپے بچا سکے۔حکام کے مطابق وفاقی حکومت نے پلاننگ کمیشن کو دوبارہ خودمختار حیثیت دی تاکہ پیشہ ورانہ مہارت کے حامل افراد کے ذریعے منصوبہ بندی کا عمل موثربنایا جاسکے۔انہوں نے بتایا کہ لواری ٹنل ، نیو اسلام آبادائیر پورٹ،نیلم جہلم ہائیڈرو پاور پراجیکٹ اس سال مکمل ہوجائیں گے،وزرات منصوبہ بندی نے ماضی کے برعکس ماہرین کی مشاورت سے قابل عمل منصوبوں کا آغاز کیا، بلوچستان کی کچی کنال کے لیے فنڈ جاری کیے جس سے صوبے بھر کو پانی کی سہولت میسر ہو جائے گی،آج ماضی کے ان تمام قابل عمل منصوبوں پر کام جاری ہے جنہیں منصوبہ بندی کے فقدان کی وجہ سے فنڈز میں کمی کا بہانہ بنا کر روک دیا ۔انہوں نے بتایا کہ مئی 2017ء تا مئی 2018ء تک قومی گرڈ میں 10ہزار میگاواٹ بجلی مرحلہ وار شامل کردی جائے گی۔2025ء تک پاکستان کا شمار دنیاکی 25بڑی معیشتوں میں ہو گا۔ موجودہ حکومت کے 4 سال کے دوران سرکاری شعبہ کے ترقیاتی منصوبوں کے اعداد و شمارکے مطابق سرمایہ کار دوستانہ پالیسیوں کے ذریعے ملک میں توانائی بحران کے خاتمے کے لئے جنگی بنیادوں پر کام شروع کردیا ہے ۔ توانائی کے بحران پر قابو پانے کے لئے جامع حکمت عملی پر عمل پیرا ہوتے ہوئے مختلف قلیل اور طویل مدتی منصوبوں پر کام تیز کر دیا ہے، چین کی معاونت سے آئندہ 8 سے 10 سال میں 21 ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کی جائے گی جس سے نہ صرف لوڈ شیڈنگ کا خاتمہ ہوگا بلکہ زراعت اور صنعتی شعبے کو بھی ترقی ملے گی۔ داسو ڈیم، دیامر بھاشا ڈیم، نیلم جہلم ہائیڈرو پاور پراجیکٹ، تربیلا فور توسیعی منصوبہ، نندی پور پاور پراجیکٹ، اوچ II پاور پراجیکٹ، گڈو پاور سٹیشن اور گڈانی پاور پراجیکٹ جیسے منصوبوں کی تکمیل سے ملک توانائی کے بحران کا ہمیشہ ہمیشہ کے لئے خاتمہ ہو جائے گا۔ حکومت نے معیشت کو پائیدار ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کیلئے 2013-16ء کے لئے درمیانی مدت کا بجٹ فریم ورک بھی تیار کیا ہے۔ حکومت نے غیرملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں خاطر خواہ اضافہ کیا‘ملک کے اقتصادی اشاریئے، معاشی بحالی کی واضح علامت ہیں، معیشت کے تمام بڑے اشاریئے اس حقیقت کا مظہر ہیں کہ معیشت نے بحالی کی علامات ظاہر کرنا شروع کر دی ہیں جو درست سمت میں گامزن ہے۔

مزید : کامرس