ڈگیا کھوتی توں تے غصہ .........

ڈگیا کھوتی توں تے غصہ .........
 ڈگیا کھوتی توں تے غصہ .........

  


لو جی ہاتھی نکل گیا تو پونچھل کے وقت وفاقی وزرأ نے جے آئی ٹی پر عدم اعتماد کرتے ہوئے اعلان کردیا کہ پہلے قطری شہزادے کو مانو ورنہ ہم تمہیں نہیں مانیں گے۔ شہزادے کو موقع تو ملنا چاہئے، کسی کو اعتراض نہ ہی رہے تو اچھا۔

محترم سراج الحق کا کہنا ہے اسلام آباد میں چوہے بلی کا کھیل کھیلا جا رہا ہے، تب سے سوچ رہا ہوں، بلی کون ہے اور چوہا کون؟ مجھے تو سارے ہی شیر ببر شیر، ہاتھی اور بھیڑئیے نظر آتے ہیں، بلکہ اسلام آباد میں بانکے کی آواز آرہی ہے وہ بلی کے لئے ہے نہ چوہے کے لئے۔ اس طرح کا سازو سامان تو شیر کے شکار کے لئے ہوتا ہے۔ ایک شخص نہر میں غوطے کھا رہا تھا، حکام پہنچے، ان میں سے ایک نے کہا تمہیں نہیں معلوم تھا کہ یہاں نہر میں نہانا منع ہے۔ وہ غوطوں کے غوں غاں میں ایسے بولا (جیسے آج کل وفاقی وزراء لوگ بول رہے ہیں) اوئے میں ڈوب رہا ہوں، حکام واپس ہوتے ہوئے بولے اچھا ہم سمجھے تم نہا رہے ہو۔ بھائی ہمیں لوگوں کے لہجے میں چھپے غوں غاں کو سمجھنا چاہئے۔ بیانات اور نزعی بیانات کا فرق سمجھنا ضروری ہے۔ ہاں یہ بات قابل غور ہے کہ یہ غوں غاں میں عمران خان کہاں سے آجاتا ہے، تو آپ غوں غاں والوں کو اتنا حق تو دیں۔ بندہ کھوتی سے گرے تو کیا کمہار کو بھی گالیاں نہ دے۔ بھائی گرنے والا اب کسے کہے؟ جو گر رہا ہے اس کو کیسے کہہ سکتے ہیں۔ گرانے والا آپ کو مزید رول بھی سکتا ہے اور مدھول بھی۔ سو کمہار کا کیا ہے۔ بے چارہ کھوتے کھوتیوں میں رہ رہ کے اپنی مت مار بیٹھتا ہے۔ ایک بابا گن لٹکائے جا رہے تھے۔ راستے میں کسی نے کہا چودھری صاحب بندہ مارن چلے او۔ وہ بولے پتر بندے وچ غیرت ہووے تو او گل نال ای مر جاندا اے۔ بندوق تے میں کتے بلیاں لئی رکھی اے۔ عزت بڑی چیز ہے لیکن ڈھٹائی بھی بڑی چیز ہے۔

کہا جا رہا ہے کہ جے آئی ٹی کے بعد میاں نواز شریف کی چھٹی ہوسکتی ہے۔ چلیں وہ کون سا سکول میں پڑھتے ہیں جو چھٹی ہو۔ لیکن سوال یہ ہے کہ ایک ایسا نظام جہاں سب باون گز کے ہیں۔ اکیلے میاں صاحب ہی کیوں؟ میری بات لکھ لیں اگر میاں صاحب نہ رہے تو عمران خان بھی نہیں رہیں گے۔ مزید سوال پیدا ہوتا ہے کہ پھر کون ہوگا ان کی جگہ۔ یہی سوال ہے کھوتی سے گرانے والوں کے سامنے۔ کیا اس گٹر جیسے بدبودار نظام میں کوئی دامن بچائے گزر سکتا ہے۔ بھائی ملک چلانا ہے، گرتی ہوئی معیشت کو سنبھالنا ہے تو ایسے بندے ڈھونڈو جن کے دل میں غریب کا درد ہو۔ جو بھوک کے مارے بچوں کی سسکیوں کو سمجھتے ہوں، جو عزت لٹنے کے بعد سر پر دوپٹہ رکھنے کے بجائے کسی حادثے سے پہلے بہنوں کی حفاظت کے لئے کھڑے ہوں۔ مریم نواز ہماری بھی بہن ہیں، بیٹی ہیں، ان کی عزت ہمیں بچوں جیسی عزیز ہے۔ لیکن بھیا میرے، دارالامانوں، ہسپتالوں، درباروں، تھانے کچہریوں میں بیٹیاں کس کی ہیں؟ کیا ان کی کوئی عزت نہیں؟ کیا انہیں بھی کوئی کبھی سیلوٹ کرے گا یا یہ نظام صرف امیروں کے کوٹھے پہ ’’سلام عشق میری جان ذرا قبول کرلو‘‘ گانے کے لئے ہے۔ میاں صاحب کہتے ہیں انہوں نے 36 رنز میں 5 چھکے مارے۔ بھیا میرے پاکستانی خواتین کی کرکٹ ٹیم سے سرفراز الیون جیسی کارکردگی کی توقع رکھنے والے معصوم نادرا شناختی کارڈ ہولڈر وہ میاں صاحب ہیں جاوید میانداد نہیں، ان کی اتنی ہی مہربانی ہے کہ تمام ’’سہولتوں‘‘ کے باوجود وہ 36 رنز بناتے ہیں۔ وہ چھتیس رنز میں سات بلکہ آٹھ چھکے بھی مار سکتے تھے اور اس میں پانچ سات سنگلز نو دس چوکے بھی لگا سکتے تھے، لیکن لمیٹڈ اوورز کی یہی خرابی ہے، بندہ جب سیٹ ہوتا ہے تو اوورز ختم ہو جاتے ہیں۔ جیسے 9 بچوں کی ماں جب یہ کہتی ہے کہ مجھے سچا پیار نہیں ملا اسی طرح تین چار باریاں لینے والے جب کہتے ہیں کہ ہم چوتھی بار بلکہ پانچویں بار بھی کامیاب ہونگے تو میں سوچتا ہوں کہ جو تیر آپ نے تین باریوں میں مارے وہ کم تو نہیں ہیں۔ خیر جب وہ 36 رنز کا ذکر کر رہے تھے تو اس وقت شہریار صاحب کی سپورٹ دیدنی تھی۔ ایک چودھری صاحب نے کہا یار میں ٹنڈ کراکے کیسا لگوں گا۔ ابھی ڈسکشن جاری تھی کہ ایک صاحب اٹھ کر باہر چلے گئے، کچھ دیر بعد واپس آئے اور اپنی تازہ ٹنڈ (جو وہ کرا کے آئے تھے) دکھا کر بولے چودھری صاحب تسی اینج دے لگو گے۔ شہریار صاحب اسے کہتے ہیں گڈگورننس عرف چاپلوسی۔ آپ تو بس رہے نرے پرنس کے پرنس۔ ایک خاتون اپنے شوہر سے بولیں آپ مجھے ایویں موٹی موٹی کہتے ہیں، دیکھیں یہ میں مسلسل 10 سال سے پہن رہی ہوں۔ ابھی تک میرے فٹ ہے۔ صاحب بولے خدا کا خوف کرو یہ شال ہے کوئی قمیض نہیں۔ ہماری عوام بھی خاتون کی شال ہے جتنے مرضی سال گزر جائیں فٹ رہتے ہیں۔ کوہلو کے بیل کی طرح، سر نہواڑے بس گھومے جاتے ہیں۔ خاتون نما لیڈر ہر بار فخر سے کہتے ہیں۔ دیکھ لو پاناما آئے، آف شور کمپنیاں آئیں، مجال ہے کوئی شور مچائے۔ میں نے امتحان کی تیاری کے لئے دوست سے مشورہ مانگا۔ وہ بولا جو آسان لگ رہا ہے کرلو۔ میں نے مشورہ پر عمل کیا اے سی منجھی کی طرف کرکے سو گیا۔ یہی ہے آساں حل ہماری قوم کے لئے، چھوڑیں آپ نے خاک امتحان کی تیاری کرنی ہے۔

منجی پر سو جائیں۔ جو قومیں اپنے کردار میں امتحان کی تیاری کرتی ہیں، ان کی قیادت بھی پھر سچی کھری موتی ورگی نکلتی ہے۔ کینیڈا کا وزیراعظم ڈنمارک کے وزیراعظم کو لنچ پر مدعو کرکے ایک برگر پیش کرسکتا ہے تو پھر کینیڈا بھی دنیا بھر میں عظیم ملک کہلواتا ہے۔ جس ملک کے کروڑوں افراد گندے پانی کے سبب ہیپاٹائٹس کا شکار ہو رہے ہوں، وہاں امراء کے کتوں کے لئے بیرون ملک سے بند ڈبے خوراکوں کے آئیں جہاں ہر شخص اپنی حیثیت کے مطابق فراڈ کر رہا ہو، وہاں کھربوں پتی غریب عوام کے دعویدار بن جاتے ہیں۔ ان کا تو پانامہ لیکس ہوتا ہے قوم کا تو روز پاجامہ لیکس ہوتا ہے۔ اٹلی میں دو افراد بھیک مانگ رہے تھے ایک نے اپنے سامنے صلیب اور دوسرے نے مورتی رکھی تھی۔ لوگ صلیب والے کے سامنے پیسے پھینک کر آگے بڑھ جاتے۔ شام کو ایک پادری نے مورتی والے کو کہا یہ ایک کرسچئن ملک ہے تم نے بھیک لینی ہے تو مورتی کی جگہ صلیب رکھ لو مورتی والا سامنے والے کو مخاطب کرکے بولا بھایا ہن ایہہ سانو منگن دے طریقے دسے گا۔

مزید : کالم