مشرف اور شہباز شریف دور میں کام کرنے کا مزا آیا ، کامران لاشاری

مشرف اور شہباز شریف دور میں کام کرنے کا مزا آیا ، کامران لاشاری
مشرف اور شہباز شریف دور میں کام کرنے کا مزا آیا ، کامران لاشاری

  


لاہور ( ویب ڈیسک)والڈ سٹی اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل کامران لاشاری نے کہا ہے کہ جولوگ پرفارم کرتے ہیں احتساب بھی انہی کا ہوتا ہے ،روایتی بیوروکریٹ نہیں ، تخلیقی کام کرنے کا شوقین ہوں ،فوڈ سٹریٹ لاہور بنانے کا آئیڈیادورہ جرمنی میں آیا ،والڈ سٹی کی بحالی پر اب تک پچاس کروڑ روپے خرچ آچکا، جنرل مشرف اور شہباز شریف کے دور حکومت میں کام کرنے کا مزا آیا ،لاہور میں محفوظ بسنت کا منصوبہ جلد حکومتی کمیٹی کو پیش کرینگے ،جوانی میں عشق کیا مگر شادی نہ ہوسکی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے دنیا نیوز کے پروگرام ایک دن دنیا کے ساتھ میں میزبان سہیل وڑائچ کے ساتھ انٹرویو میں کیا ۔

تفصیلی پروگرام آج رات دس بج کر تین منٹ پر صرف"دنیا نیو ز"پر نشر کیا جائے گا ۔ کامران لاشاری نے کہا کہ اندرون لاہور کی بحالی کا کام دہلی گیٹ سے شروع کیا ہے جس کا ابھی تک صرف دسواں حصہ مکمل ہواہے ۔ کامران لاشاری نے کہا کہ اندرون لاہور میں کل 22000پراپرٹیز ہیں جن میں سے 2000پروالڈ سٹی اتھارٹی نے کام کیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ یونیسکو نے شاہی حمام کی بحالی پراجیکٹ کو بہترین منصوبے کا ایوارڈ دیا ہے ۔ اسلام آباد میں پوسٹنگ کے دوران کرپشن کے الزامات کے متعلق کامران لاشاری نے کہا کہ جو لوگ پرفارم کرتے ہیں ان کا احتساب ہو تا ہے اور جو کچھ نہیں کرتے ان سے کوئی کچھ نہیں پوچھتا۔

کامران لاشاری نے بتایا کہ لاہور جم خانہ کے ممبرز کی تعداد دس ہزار سے زیادہ اورسالانہ بجٹ ساڑھے چار کروڑ روپے ہے ،صدر بننے کے بعد جم خانہ کی بہتری کے لیے سر گرمیوں کا آغاز کر دیا ہے جن میں سرفہرست صفائی ستھرائی،سروس ، کھانے کا معیار اور ہاسٹل لائف کو بہتر کرنا ہے ۔انہوں نے بتا یا کہ 1990کے انتخابات کے دوران سکھر کے بطور ڈپٹی کمشنر کے فرائض سر انجام دے رہا تھا ،اس وقت کے وزیر اعلیٰ جام صادق علی کاجھرلو پروگرام تھا لیکن جیسا وہ چاہتے تھے ویسا بالکل نہیں ہونے دیا،نتیجے میں مجھے صوبہ بد ر کر دیا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ساہیوال اور اوکاڑہ کے درمیان خاندانی زمینیں ہیں لیکن وہاں رہنے کا کبھی شوق نہیں ہوا ۔سول سروس کے امتحان کے بارے میں سوال پر انہوں نے کہا کہ میرے والدکی دلی خواہش تھی اورانہیں افسری کا شوق بھی تھا۔ میں سوچتا تھا کہ آخر وہ کون لوگ ہیں جو ملک میں پہلے دس نمبروں میں آتے ہیں اور پھر سول سروس میں جاتے ہیں اور پھر میں نے بھی کیا اور لاہور شہر میں ہی ڈپٹی کمشنر بنا لیکن میرے والد کو میرا یہ عروج دیکھنا نصیب نہ ہو سکا ۔انہوں نے کہا کہ مطالعے کا بہت شوق ہے خاص طور پر اسلامی تاریخ کے بارے میں جاننے کی بڑی خلش ہے کہ کیوں ہم اپنی منزل سے ہٹ گئے ،مسلمان قوتیں اپنی ہی دنیا میں رہی اور باہر کیا ہو رہا ہے یہ پتہ کرنے کی کوشش نہ کی لیکن مغرب میں بہت تبدیلی آرہی تھی ۔انہوں نے کہا کہ پسند یدہ مصنف انگریز ی میں خلیل جبران کو گہرے طریقے سے پڑھنے کی کوشش کی ۔شاعروں میں فیض احمد فیض اور ساحر لودھیانوی پسند ہیں ۔کامران لاشاری نے کہا کہ جوانی میں پیار ہوا تھا لیکن اس سے شادی نہیں ہو سکی۔

مزید : لاہور