کپتان اور خوشنما انتخابی دعوے

کپتان اور خوشنما انتخابی دعوے
کپتان اور خوشنما انتخابی دعوے

  

لمحۂ موجود میں صورتحال تو یہی ہے کہ عمران خان جو دعویٰ بھی کریں ان کے حامی اسے سچ ماننے کو تیار ہیں عام آدمی بھی ان کے دعوؤں کو شک کی نگاہ سے نہیں دیکھ رہا اور عمومی طور پر یہ یقین کرنے کو تیار بیٹھا ہے کہ عمران خان جو کہہ رہا ہے وہ کر دکھائے گا۔ گویا عمران خان کے لئے اس وقت یہ بہت آسان ہے کہ زمین و آسمان کے قلابے ملائے تو ان پر اعتراض نہیں ہوگا۔

مگر یہ تو بہت خطرناک صورتحال ہے ذوالفقار علی بھٹو کو بھی جب 1970ء میں بے پناہ مقبولیت حاصل تھی تو وہ اپنے وعدوں کو بڑھاتے چلے گئے تھے۔ اس وقت ہر کوئی انہیں اپنا نجات دہندہ سمجھ رہا تھا۔ انہوں نے روٹی، کپڑا اور مکان کا نعرہ لگایا تو یہ بھی لوگوں کو معمول لگا وہ تو یہ سمجھنے لگے تھے کہ ذوالفقار علی بھٹو اگر چاہتے تو ہر گھر میں سونے کی کان نکال سکتا ہے مگر پھر ہوا کیا۔ یہی وعدوں کی زنجیر ذوالفقار علی بھٹو کے پاؤں کی زنجیر بن گئی۔ وہ جو کچھ کرنا چاہتے تھے مجبوریوں کی زنجیر نے وہ کرنے نہ دیا۔

کہاں مقبولیت کا ساتواں آسمان کہاں یہ عالم کہ جب ایک فوجی حکمران نے تختہ دار پر چڑھایا تو مجلس شام غریباں منانے والے بھی نہ مل سکے۔ دیکھا جائے تو ہماری ہر سیاسی جماعت اور ہر سیاسی لیڈر کو سب سے زیادہ نقصان ہی جھوٹے وعدوں نے پہنچایا ہے۔ بد قسمتی سے یہ سمجھ لیا گیا ہے کہ انتخابی وعدے اور انتخابی منشور صرف وقتی ڈھکوسلا ہوتا ہے ایک چکر جس میں ووٹرز کو ڈال دیا جاتا ہے۔

ایک سبز باغ جو بہت خیال اور پوٹوپیائی ہوتا ہے۔ یہ تو اشیاء بیچنے والی گھٹیا قسم کی حکمت عملی ہوتی ہے کہ لوگوں کو چکا چوند کرنے والی پیشکش سے بے وقوف بنا کر لوٹ لیا جائے اس کمپنی نے تو ایسا صرف ایک بار کرنا ہوتا ہے پھر وہ غائب ہو جاتی ہے اور کسی نئے نام اور نئی پروڈکٹ کے ذریعے سامنے آتی ہے۔ لیکن یہ سیاسی جماعتیں اور سیاستدان تو وہی رہتے ہیں۔

وہ بھلا وعدوں کو بھلا کر جب پانچ سال بعد عوام کے پاس جائیں گے تو کیا ان سے سوال نہیں ہوں گے کیا آج کل سوالات نہیں ہو رہے کیا مسلم لیگ (ن) پر تنقید نہیں ہو رہی کہ وہ دعوے کے مطابق چھ ماہ تو کیا پانچ برسوں میں بھی لوڈشیڈنگ ختم نہیں کر سکی۔

انفرادی طور پر امیدواروں کے ساتھ کیا ہو رہا ہے، یہ بھی سب کے سامنے ہے۔ ظاہر ہے انہوں نے اپنے حلقۂ انتخاب کے ووٹرز سے کچھ وعدے کئے ہوں گے پھر پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا ہوگا۔ اب ووٹ کے لئے ان کے پاس جانا پڑا ہے، تو جواب بھی دینا پڑ رہا ہے۔

اس فضا میں عمران خان اپنی دھواں دھار انتخابی مہم میں وعدوں کے انبار لگا رہے ہیں چونکہ ابھی ان پر ماضی کے وعدوں سے مکرنے کا بوجھ نہیں اس لئے وہ جو کہہ رہے ہیں عوام تسلیم کئے جا رہے ہیں۔

مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی جتنے بھی منشور پیش کرلیں ان کے لئے ماضی کے سوالات سے جان چھڑا نا ہی ممکن نہیں مثلاً شہباز شریف نے مسلم لیگ (ن) کے منشور میں ایک بار پھر غریبوں کو گھر دینے کا وعدہ کیا ہے۔

اس وعدے کا جو حشر پچھلے پانچ برسوں میں ہو چکا ہے وہ سب کے سامنے ہے آشیانہ ہاؤسنگ سکیم تو ایک بڑے سکینڈل کی صورت میں خود شہباز شریف کے گلے پڑی ہوئی ہے ایک بار سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے اپنی انتخابی شکست کے بعد کہا تھا کہ اقتدار مقبولیت کا دشمن ہوتا ہے کیونکہ اقتدار کے دوران عوام یہ توقع رکھتے ہیں کہ ان سے کئے گئے وعدے پورے کئے جائیں گے جب وہ پورے نہیں ہوتے تو عوام کے اندر رد عمل جنم لیتا ہے جو بہت جلد نفرت کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔

عمران خان کو یہ سہولت حاصل ہے کہ ان پر ماضی کے حوالے سے وعدہ خلافی کا الزام موجود نہیں۔ خیبرپختونخوا میں بھی انہوں نے بڑی حد تک تحریک انصاف کی حکومت کے ذریعے وعدے پورے کرنے کی کوشش کی۔ پھر انہیں یہ برتری بھی حاصل ہے کہ پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) تین تین بار وفاق میں باریاں لے چکی ہیں یہ تاثر پھیل چکا ہے کہ اب کسی تیسرے کو آزمانا چاہئے اور قرعہ فال عمران خان کا نکل رہا ہے کیونکہ ابھی انہیں آزمایا نہیں گیا اور ان کے وعدوں کا بھرم بھی قائم ہے۔

اب یہ بڑا خطرناک مرحلہ ہے ممکن ہے وعدوں کا شاہانہ جمعہ بازار لگا کر عمران خان لوگوں کا ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب رہیں لیکن اگر وہ وعدوں کی تکمیل نہ کر پائے تو اتنا ہی بڑا ردعمل بھی سامنے آئے گا۔

عام سیاسی جماعتوں کا وعدوں سے مکرنا تو عوام کے لئے ایک معمول کی بات ہے یہ دھوکہ تو وہ ستر برسوں سے کھاتے آئے ہیں تاہم تحریک انصاف کو وہ شاید یہ رعایت دینے کو تیار نہ ہوں کہ وہ وعدوں سے بھی مکر جائے اور حکومت بھی کرتی رہے۔

یہ ہے وہ پس منظر جس کی وجہ سے کپتان کو یہ مشورہ دینے کی ضرورت پیش آئی ہے کہ وہ وعدوں کے سلسلے میں زمینی حقائق کو نظر انداز نہ کریں۔ وہ مسلسل ایک وعدہ کر رہے ہیں کہ اقتدار میں آکر ٹیکسوں کی رقم کو دوگنا جمع کریں گے اور ساتھ یہ بھی کہتے ہیں کہ ٹیکس نہیں بڑھائیں گے اب پاکستان جیسے ملک میں جہاں ایمنسٹی سکیم بھی آئے تو لوگ ٹیکس نیٹ میں آنے کے ڈر سے فائدہ نہیں اٹھاتے،وہاں عمران خان 4 ہزار ارب سے 8ہزار ارب ٹیکس اکٹھا کرنے کا دعویٰ کر رہے ہیں ان کا دوسرا بڑا دعویٰ کرپشن کا خاتمہ ہے یہ ہر پاکستانی کی خواہش ہے اس لئے عمران خان کا یہ دعویٰ بہت مقبول ہے اور اسے ان کا نمبر ون وعدہ کہنا چاہئے اس کے لئے انہوں نے کوئی میکنزم وضع کیا ہے یا نہیں یہ مرض تو ہمارے وجود میں سرایت کر گیا ہے۔

بڑے پیمانے کی کرپشن سے تو قومی خزانہ کنگال ہوتا ہے لیکن جو کرپشن نچلی سطح پر ہمارے دفتری نظام، پولیس اور عدالتوں میں موجود ہے اور جس نے عام آدمی کی زندگی کو اجیرن کر رکھا ہے اس کا خاتمہ کیسے ہوگا؟ انہیں یہ بھی نہیں بھولنا چاہئے کہ خود ان کے ارکان اسمبلی بھی فرشتے نہیں ہوں گے وہ بھی اپنے پر پرزے نکالیں گے کرپٹ افسران کی پشت پناہی کریں گے تھانے کچہری کی سیاست کے ذریعے اپنے ووٹرز کو متاثر کرنے کی کوشش کریں گے۔ اس صورت میں ان کا ردعمل کیا ہوگا۔

اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے پانچ برسوں کے اندر ایک کروڑ ملازمتیں دینے کا وعدہ بھی کر رکھا ہے گویا روزگار کا وہ وعدہ جو کبھی روٹی، کبھی ملازمت اور کبھی خود کفالت کے حوالے سے کیا جاتا رہا ہے، پی ٹی آئی کے ہاں ایک بہت بڑے وعدے کی شکل اختیار کر چکا ہے ایک کروڑ افراد کو روز گار دینا کوئی معمولی بات نہیں۔ اس کے لئے ملک کے اندر معاشی انقلاب برپا کرنا پڑے گا۔ بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کے بغیر روز گار کے مواقع کیسے بڑھائے جا سکتے ہیں۔

یہ ایسا وعدہ ہے جس کی ایفائی کے لئے دباؤ فوراً ہی بڑھنا شروع ہو جائے گا۔ پانچ برسوں میں اگر ایک کروڑ افراد کو ملازمتیں دینی ہیں تو ایک سال میں 20 لاکھ تو دینی ہی پڑیں گی کیا عمران خان پہلے سال ہی یہ کرشمہ کر سکیں گے۔

شہباز شریف اگر لاہور کو پیرس بنانے کی بات کرتے ہیں تو عمران خان نے بھی پاکستان کو سوئٹزر لینڈ بنانے کا دعویٰ تو کر ہی دیا ہے اس قسم کے دعوے اور وعدے صرف لوگوں سے اس لئے کئے جاتے ہیں کہ وہ یورپی ممالک کی ترقی دیکھ کر بہت متاثر ہوتے ہیں وہ یورپ جانے کے لئے غیر قانونی ذرائع اختیار کرتے ہیں اور جانیں گنوا بیٹھتے ہیں گندے ماحول، تنگ و تاریک گلیوں، پانی کو ترستے محلوں اور ٹوٹی پھوٹی عمارتوں میں رہنے والے کروڑوں پاکستانیوں کو یکدم پیرس، لندن اور سوئٹزر لینڈ کے خواب دکھا کر پاگل تو کیا جا سکتا ہے، لیکن اس کا فائدہ دیرپا نہیں جس طرح بلاول کو لیاری میں پتھراؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اسی طرح ایک بارش کے بعد لاہور کی بری حالت شہباز شریف کے لئے ایک بڑا الزام بن جاتی ہے اس لئے عمران خان بلند بانگ دعووؤں سے گریز کریں ان کے لئے بہترین وعدے وہی ہیں جنہیں وہ اکثر دہراتے رہتے ہیں یعنی ملک میں میرٹ کا نظام لائیں گے۔

سرکاری سکولوں کی حالت بہتر کریں گے، علاج معالجے کی سہولتوں کو یقینی بنائیں گے پولیس کو ٹھیک کریں گے۔ کرپشن کو ختم کرنے کی کوشش کریں گے۔ ملک میں لاکھوں درخت لگائیں گے وغیرہ وغیرہ یہ سب وعدے تو ایسے ہیں جنہیں وقت کے ساتھ ساتھ پورا کیا جا سکتا ہے مگر راتوں رات سب کچھ بدل دینے کے دعوے اور عوام کو وی آئی پی بنانے کے وعدے ویسے ہی ہیں جیسے ذوالفقار علی بھٹو نے طاقت کا سرچشمہ عوام ہیں کا نعرہ لگا کر کئے تھے ان کے اس وعدے کا مطلب جیالوں نے بہت مختلف لیا تھا اور حکومت میں آتے ہی سرکاری دفاتر پر چڑھ دوڑے تھے کہ اب یہ دفاتر ہمارے ہیں سرکاری افسر ہمارے ماتحت ہیں خرابی اس قدر بڑھ گئی تھی کہ خود ذوالفقار علی بھٹو کو ایک بیان جاری کرکے اپنے کارکنوں کو روکنا پڑا تھا کہ وہ سرکاری دفاتراور سرکاری ملازمین کے معاملات میں مداخلت نہ کریں۔

یہ بات درست ہے کہ انتخابات کے موقع پر جھوٹے وعدوں کی گنگا تو بہانی پڑتی ہے کیونکہ ہمارے عوام بھی آسانی سے متاثر نہیں ہوتے۔ تاہم عمران خان کو اس بدعت سے بچنا چاہئے۔

وہ اگر پہلی مرتبہ وفاقی سطح پر اقتدار میں آتے ہیں تو ان کے لئے بہت سے مواقع ہوں گے کہ ملک کی حالت بہتر بنانے کے لئے اقدامات اٹھائیں لیکن انہیں یہ بھی نہیں بھولنا چاہئے کہ اس صورت میں ایک بہت تجربہ کار اپوزیشن ان پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہو گی۔

اگر وہ غیر معمولی بڑے وعدے کر کے اقتدار میں آئے تو یہی اپوزیشن عوام کو بھڑکانے میں دیر نہیں لگائے گی کپتان کو اپنے اس امیج کا فائدہ اٹھانا چاہئے جو عوام کے دلوں میں بن چکا ہے۔

تبدیلی اور بہتری کے حوالے سے عوام ان کی طرف دیکھ رہے ہیں 100 دن جیسے پلان دے کر اپنے لئے مصیبت کھڑی نہ کریں سو دن میں تو انہیں بمشکل حکومت کی سمجھ آنی ہے۔

انہیں یہ سوچ کر منصوبہ بندی کرنی چاہئے کہ وہ ٹی ٹونٹی میچ نہیں بلکہ ٹیسٹ میچ کھیلنے جا رہے ہیں جو پانچ دن کا ہوتا ہے یہ پانچ دن ان کے لئے پانچ سال ہیں، ٹیسٹ میچ میں چوکے چھکے لگنے کا امکان ضرور ہوتا ہے مگر اسے ون ڈے کی طرح بہر حال نہیں کھیلا جا سکتا۔

مزید : رائے /کالم