تجاھل، تغافل، تبسم ، تکلم

تجاھل، تغافل، تبسم ، تکلم
تجاھل، تغافل، تبسم ، تکلم

  

میرا تاریخ کا مطالعہ درسی کتب سے باہر، اللہ بخشے نسیم حجازی کے ناولوں سے، کچھ ذرا سا ہی زیادہ ہے۔ جتنا بھی ہے، اس کے تمام اہم نکات ایک مفروضہ بساط پر پچھا کرمَیں نے کچھ نتائج نکالنے کی کوشش کی لیکن ناکامی ہوئی۔ اب مَیں آج کی نشست میں وہی سوال اپنے قارئین کے سامنے رکھتا ہوں، کاش کوئی دانش مند قاری میری مدد کرے۔

مَیں یہ چاہتا ہوں کہ دُنیا کے کسی ایسے ملک کا پتہ چلے جو مالی کرپشن سے تباہ ہو گیا ہو یا کم از کم اس کی تاریخ میں مالی کرپشن کبھی اور آج تک، ختم نہ ہوئی ہو۔ سوال کا دوسرا حصہ یہ ہے: کسی ایسے ملک کا نام بتائیے، جس میں آمریت رہی ہو اور اس کے تار و پود بکھرنے سے بچ گئے ہوں۔ کرپشن سے کبھی مُلک تباہ نہیں ہوا کرتے اور آمریت سے آج تک کوئی مُلک بچنے میں کامیاب نہیں ہوا۔ خدانخواستہ کوئی یہ نہ سمجھ لے کہ میں مالی کرپشن کا کوئی وکیل ہوں یا اس کے لئے اپنے دِل میں کوئی نرم گوشہ رکھتا ہوں۔

میرے ناقص علم میں دنیا کا کوئی مُلک ایسا نہیں ہے،جو مالی کرپشن سے خالی ہو، لیکن انسانی تاریخ کے کسی حصے میں کبھی ایسا نہیں ہوا کہ کوئی مُلک مالی کرپشن سے ختم ہو گیا ہو یا اتنا لاغر ہو گیا ہو کہ اس پر غیرملکی فوجیں چڑھ دوڑی ہوں۔

مغلیہ سلطنت ہو یامعتمدباللہ اور بغداد کی خلافت بھی اپنی خوشحالی کے دنوں میں تباہ ہوئی۔ اپنے وطن کی یہ حالت ہے کہ یہاں ہر وہ شخص جسے بولنے کی صلاحیت ملی ہوئی ہے یا جسے قلم چلانے کو ملا ہوا ہے، اسے ساون کے اندھے کی طرح ہر طرف کرپشن اور وہ بھی سیاست دانوں کی کرپشن ہی کرپشن نظر آتی ہے۔

جہاں تک میں سمجھ پایا ہوں، وہ یہ ہے کہ سیاست دانوں کے پیچھے لگا کر اصل مسائل سے لوگوں کی توجہ ہٹائی جائے۔ سیاست دان بے چارے ہاؤسنگ سکیمیں بناتے ہیں کہ لوگوں کو کسی نہ کسی طرح رہنے کو گھر ملے۔

اپنے آپ سے پوچھئے اس عمل میں کسی کے لئے کرپشن سے بچنا کیا ممکن ہے۔ذرا اپنے علاقے کے پٹواری یا کسی ایکسائز انسپکٹر کے اثاثہ جات ہی ملاحظہ کر لیں، چودہ طبق روشن ہو جائیں گے۔

کیااخبارات، کیا ریڈیو، کیا ٹی وی ہر شخص اور ہر ادارہ بس ایک ہی گیت گا رہا ہے کہ ملک کا ہر سیاست دان کرپٹ ہے اور سمجھ سے بالا تر ہے کہ ادارہ جاتی کرپشن کسی بھی جگہ پر کیوں موضوع سخن نہیں اور کیوں موضوع سخن نہیں ہو سکتی ہے۔

ریاست کے تمام ستونوں میں لگی گریڈ 22اوراس کے مساوی درجہ کی اینٹیں (خالی خانہ خود پُر کریں)اپنی تمام پنشن اور بقایا جات جمع کر کے ریٹائر ہوں تو انہیں زیادہ سے زیادہ پچاس ساٹھ لاکھ روپے ملتے ہیں۔ ادارہ جاتی کرپشن کا یہ عالم ہے کہ ان لوگوں کو پہلے پہل پانچ تا دس کروڑ روپے کا ایک پلاٹ ملا کرتا تھا۔ گزشتہ حکومت کو مختلف اداروں نے بذریعہ دھرناجات مار مار کر اِس قدر کمزور کر دیا تھا کہ یہ ادارے اسی نواز شریف سے جی ہاں نواز شریف سے دوسرا پلاٹ بھی لینے میں کامیاب ہو گئے۔

’’تمہیں مال کی کثرت (کی خواہش) نے ہلاک کر ڈالا حتیٰ کہ تم قبروں میں جا پہنچے۔‘‘ اب اگر کوئی یہ توقع کرے کہ دو پلاٹ ہتھیانے والے ریاستی حکام اور ججوں کی میں وہی تکریم کروں، ان سے اسی انداز میں ملوں جس طور پر مَیں ماضی کے اپنے ایک دوست جسٹس امجد علی صاحب سے ملا کرتا تھا تو مجھ سے یہ توقع ہرگز نہ کی جائے۔

عدالت بطور ادارہ ہر کسی سے تکریم کی توقع کر سکتی ہے، لیکن ہر کوئی عدالت سے بھی کچھ توقع کیا کرتا ہے۔ عدالت کی توقع پوری نہ ہو تو اس کے پاس ایک آہنی گرز موجود ہوتا ہے، لیکن اس ’’ہر کوئی‘‘ کی توقع پوری نہ ہو تو وہ کیا کرے؟ اس کے پاس تو سوائے نفرت کرنے کے اور کوئی راستہ نہیں ہے۔ محبت اور نفرت احکام کے تابع نہیں ہوا کرتے۔

جسٹس امجد علی صاحب کو دیگر ججوں کی طرح خط ملا کہ آپ کو اپنا پلاٹ کہاں چاہئے۔موصوف نے دو سطری جواب دیا: ’’میرے پاس اپنے رہنے کا گھر موجود ہے مزید پلاٹ مجھے درکار نہیں ہے‘‘۔ اس باغ میں چہچہاتی بلبلوں کے ساتھ ساتھ چھینا جھپٹی کرنے والے بدبودار کوؤں کی آبادی بہت بڑھ گئی ہے، اس شجر کی ٹہنی پر مجھے جسٹس امجد علی صاحب نامی بلبل تنہا بیٹھا نظر آتا ہے، لیکن اداس نہیں، خوش و خرم۔ ادھر کوے ہیں کہ جھوٹ پر جھوٹ بول رہے ہیں اور کاٹتے بھی جا رہے ہیں۔

قارئین کرام عدل اپنی ذات سے شروع ہو کر وہیں پر مختتم ہو جاتا ہے۔ میرا خیال ہے کسی ریاضی یا علم الکلام کی حاجت نہیں کہ بتایا جائے کہ انصاف ہوتا کیوں نظر نہیں آتا اور دلی کے عجائب گھر میں جنرل اروڑا نے آتشیں اسلحے کی جو نوع رکھوائی تھی،اس کی کم از کم ایک گولی کیوں نہ چلی

سامنے نہ سہی سینے کی طرف ایک سو اسی درجے واپس اپنے سینے کی طرف، لیکن نہیں! یاد آیا اسی ٹہنی پر ایک اور بلبل وردی والا بھی بیٹھا ہوا ہے۔

ڈاکٹر غزالی بڑی دِل سوزی سے سامعین سے پوچھنے لگے: ’’ذرا بتائیے! عالم اسلام ہی نہیں دنیا کا کوئی ایک حکمران اس بیسویں صدی میں ایسا ہو کہ گیارہ سالہ بلاشرکت غیرے اقتدار کے بعد اس کے مرنے پر اس کے اہل خانہ تین ماہ کی قانونی مدت پوری کرنے کے بعد جب سرکاری گھر خالی کریں تو ان کے پاس رہنے کو اپنا گھر ہو، نہ بنانے کو پلاٹ ہو۔

‘‘ سناٹے کی طوالت ذرا طویل تھی۔ ذرا بلند آواز میں بولے: ’’جی۔۔۔! بتائیے۔‘‘ بس علی گڑھ کے ڈاکٹر یٰسین مظہر صدیقی کی پلکیں کچھ بھیگ گئی تھیں۔ ایسی چنگاری بھی یارب اپنی خاکستر میں تھی۔ مردِ مومن مردِ حق!

اب اگر کوئی نازک مزاج میری ان سطور کو ’’حساس‘‘ جذبات سے پڑھے تو پڑھتا رہے۔ میرے پیش نظر یہ مُلک،اس کا نظریہ اور اس کے ادارے ہیں۔ اس مُلک میں پارلیمان ہے، حکومت ہے، عدلیہ ہے۔

ذرا نیچے آئیں تو جامعات ہیں، مسلح افواج ہیں، ذرائع ابلاغ ہیں۔ کون سوچ سکتا ہے کہ پروفیسر صاحب تو بدعنوان ہوں تو بھلے ہوں کیوں کہ میرے ابا بھی پروفیسر صاحب ہیں،لیکن جنرل صاحب کیوں بدعنوانی کریں۔

یا یہ کہ صحافی جو مرضی بدعنوانی کریں کہ میرے نام دار شوہر ہیں،لیکن جج صاحب کیوں دو دو پلاٹ لیں۔ اِس لئے تمام پڑھنے والوں سے گزارش ہے کہ اس نعرے کا فوراً قلع قمع کریں: تیرا چور مردہ باد میرا چور زندہ باد! بدعنوانی ہر جگہ بدعنوانی ہے ،چاہے سیاست دان بھونڈے طریقے سے مسز اردوان کا پیش کردہ ہار چرائیں یا ریاستی حکام دو دو پلاٹ کسی ادارہ جاتی سریلے چُھومنتر سے ہتھیا لیں۔

یہ سب مردہ باد زُمرے کے معززین ہیں۔ ہم عوام ان کالے کوؤں سے فی الحال تو ڈرے سہمے ہوئے ہیں، لیکن لدھیانے کا وہ باسی، مَیں نے پی شراب، کہتے کہتے پیش گوئی بھی کر چکا ہے: آنے والا دور لے گا سب حساب۔

ان تمام باتوں کے باوجود میں کرپشن کو اس قدر مضر نہیں سمجھتاجتنا آمریت کو۔ سوال کا دوسرا حصہ ذرا دہرائے دیتا ہوں۔ کسی ایسے ملک کا نام بتائیے، جس میں آمریت رہی ہو اور اس کے تارو پود بکھرنے سے بچ گئے ہوں۔ سپین میں جنرل فرانکو کے پچاس سالہ عہد کو یاد کریں۔

اب کہیں جا کر یہ خوبصورت مُلک بین الاقوامی قائدین میں بیٹھنے کے لائق ہوا ہے۔ لیبیا کے خود ساختہ مردِ آہن نے ایک دن دُنیا سے رخصت ہونا ہی تھا، لیکن اس کی وراثت میں ملک کھنڈرات کے شانہ بشانہ کھڑا لڑکھڑا رہا ہے۔

عراق کے اسکڈ میزائل اور صدام حسین ایک طویل عرصے تک استعاراتی زبان میں استعمال ہوتے رہے اور اب وہ عہد ہے کہ لوگ تاتاریوں کو بھول کر خنزیرخوروں کا موازنہ منگو خان اور تولی خان سے کر رہے ہیں کہ وہ بہتر تھے یا چالیس والا اونٹ بش سینئر یا بیالیس والا ٹوڈہ بش جونیئر۔ ترکی میں عصمت انونو اور جنرل جمال گرسل پیر تسمہ پا بنے رہے۔

سیاح بتاتے ہیں کہ استنبول میں بیسویں صدی کے آخری دہے میں بھی برقی ٹریفک سگنل تک نہیں تھے، مُلک قرضوں تلے دبا ہوا تھا۔ سوویت یونین میں لینن ہو یا اسٹالن، خروشیف ہو یا برزنیف، ان سب نے ستر سال تک مُلک کو آکسیجن ٹینٹ میں رکھا کہ نام جس کا آہنی پردہ تھا، تاوقتیکہ اس کے بخیے تک ادھڑ گئے۔ افغانستان کی بادشاہت اور آمرانہ حکومتوں کا خمیازہ اس کے عوام اور پڑوسی ہی نہیں دنیا بھی بھگت رہی ہے۔

ادھر اپنے اسلامی جمہوریے میں خان عبدالقیوم خان کے جہلم سے پنڈی تک طویل انتخابی جلوس بتا رہے تھے کہ ملک کسی راہ پر چل پڑا ہے اور یہ کہ ہم شاید اپنے ہی نہیں مسلم امہ کے بھی قائد بننے جا رہے ہیں مگر فخرایشیا اور خود ساختہ فیلڈ مارشل ایسے تشریف لائے کہ انہوں نے اوّل اوّل تو قائداعظم کی بہن کو غداروں کی صف میں لاکھڑا کر دیا۔ ان کے انتخابی پوسٹر کا ایک جملہ ملاحظہ ہو: ’’(خان) عبدالغفار خان اور ان کے ساتھی اصل میں مس فاطمہ جناح کے ساتھ پختونستان کے لئے کام کر رہے ہیں‘‘:

نہ تم بدلے، نہ دل بدلا، نہ دل کی آرزو بدلی

مَیں کیسے اعتبار انقلاب آسماں کر لوں

یہ خود ساختہ فیلڈ مارشل اپنے ہی بنائے ہوئے آئین کو توڑ کر ملک کو اپنی ذریت کے حوالے کیا کر گئے کہ گویا دبستان کھل گیا ۔ (تحریر کا اصول ہے کہ اس چیز کی تکرار نہ کرو جو ہر کسی کو پتہ ہو)۔

قارئین کرام ! یہ ملک اور اس کے ادارے کسی دشمن کی ملکیت نہیں ہیں۔ ان کے عناصرِ تکوین اور ان کا تانا بانا ہم خود ہیں۔ اور ہم خود یہ کچھ چاہتے ہیں: سورج اپنے مدار میں تیر رہا ہے۔۔۔ نہ تو سورج سے ہو سکتا ہے کہ وہ چاند کو جا پکڑے اور نہ رات دن سے پہلے آ سکتی ہے۔

سب اپنے اپنے دائرے میں تیر رہے ہیں (سورۂ یٰسین ۔ القرآن) ابھی کل ایک جنرل صاحب گل افشانی کر رہے تھے: ’’آئین صحیفہ آسمانی نہیں کہ اس میں ’’تبدیلی‘‘ نہ ہو سکے‘‘۔

میرے منہ سے الحمد للہ نکلا کہ فاتح جلال آباد دمِ رخصت سے ذرا قبل کچھ یوں گویا ہوئے تھے:’’موجودہ حالات میں آئین ’’منسوخ‘‘ کر دیا جائے تو کوئی مضائقہ نہیں، نیا آئین بنا لیں گے۔ ‘‘ ’’منسوخی‘‘ سے ’’تبدیلی‘‘ تک کا فکری سفر میرے لئے ایک خوشگوار جھونکا تھا ! پس میں نے الحمد للہ کہا:

تجاہل، تغافل، تبسم، تکلم

یہاں تک تو پہنچے وہ مجبور کر

1918ء تک کے اکہتر سالہ سفر میں ہم ابھی تغافل کی منزل پر آ پائے ہیں۔ ذرا سا صبر کریں، تبسم کی کلی کھلتے ہی قافلے میں ہم اتنے اونٹ گھوڑے نہیں رکھیں گے کہ اب جرسِ کاروان سننے کا عہد نہیں۔

محمل کو جا لینے کے لئے کچھ تیز گام ہونا پڑے گا جس کے لئے اونٹ، گھوڑے اور خچر اب ز اد راہ نہیں، سدِ راہ ہیں۔ بس کچھ ایسی اداؤں (قارئین دعائیں بھی پڑھ سکتے ہیں) کی حاجت ہے کہ وہ متبسم ہو جائیں۔ بس ذرا سا صبر کریں۔

مزید : رائے /کالم