ملت کی پاسباں ۔۔۔ مادرِ ملت

ملت کی پاسباں ۔۔۔ مادرِ ملت

ابتدائی حالات

محترمہ فاطمہ جناحؒ 31جولائی، 1893ء کو کراچی میں پیدا ہوئیں۔ سات آٹھ برس کی عمر میں والد کا سایہ سر سے اٹھ گیا۔قائد اعظمؒ جو ان دنوں بمبئی میں پریکٹس کرتے تھے،نے ان کو باندرا کونونٹ سکول میں داخل کرا دیا۔ میٹرک تک تعلیم حاصل کرنے کے بعد محترمہ فاطمہ جناحؒ نے 1922ء میں کلکتہ کے ’’احمد ڈینٹل کالج‘‘ میں داخلہ لے لیا۔ فارغ التحصیل ہوئیں تو بمبئی میں ایک کلینک قائم کیا اور پریکٹس شروع کر دی۔ بدقسمتی سے یہ سلسلہ قائم نہ رہ سکاکیونکہ انہی دنوں آپ کی بھاوج مریم جناحؒ طویل علالت کے بعد چل بسیں جس کا قائداعظمؒ کو بہت صدمہ ہوا۔ اس جانگسل موقعہ پر اپنے بھائی کا ہاتھ بٹانے کے لیے محترمہ فاطمہ جناحؒ نے اپنے کلینک کو خیر باد کہا اور مستقل طور پر بھائی کے ساتھ رہنے لگیں۔ جب قائداعظمؒ گول میز کانفرنس میں شرکت کے لیے لندن گئے تو محترمہ ان کے ہمراہ تھیں اوراس دوران ایک بیان کے مطابق گول میز کانفرنس میں انہوں نے نہ صرف قائداعظمؒ کی بہن کی حیثیت سے شرکت کی بلکہ وہ ان کی مشیر بھی تھیں، قائداعظمؒ وقتاً فوقتاً ان سے مشورہ لیاکرتے تھے۔

قیام پاکستان سے پہلے

لندن سے واپسی پر محترمہ فاطمہ جناحؒ نے مسلمان خواتین کی آل انڈیا مسلم لیگ کے پرچم تلے جمع ہونے کی ضرورت محسوس کی۔ ان دنوں جبکہ مسلم لیگ کی از سر نو تشکیل و تعمیر کا کام ہو رہا تھا، آپ نے مسلمان خواتین کو مسلم لیگ کے پلیٹ فارم پر جمع ہونے کی ترغیب دی۔ اس عظیم کام میں دوسری چند ایک نامور خواتین نے بھی آپ کا ہاتھ بٹایا۔ اسی زمانہ میں محترمہ فاطمہ جناحؒ کو بمبئی صوبائی مسلم لیگ کی ورکنگ کمیٹی کا رکن چنا گیا اور 1938ء میں پٹنہ میں سالانہ اجلاس کے موقعہ پر آل انڈیا مسلم لیگ خواتین کی ایک مرکزی سب کمیٹی کا اعلان کیا گیا جس میں آپ بھی شامل تھیں اور پاکستان کے قیام تک کمیٹی کی رکن رہیں۔ اس کمیٹی نے لیگ کے لیے انتھک کام کیا اور اس کی مختلف صوبائی، ضلعی اور پرائمری شاخیں بھی کھولی گئیں۔ 1940ء میں جب لاہور میں مسلم لیگ کا تاریخی اجلاس منعقد ہو اتو محترمہ فاطمہ جناحؒ قائداعظمؒ کے ساتھ جلسے میں شرکت کے لیے تشریف لائیں۔ اسی موقعہ پر مسلمان خواتین کی مرکزی سب کمیٹی کا بھی پہلا اجلاس بتاریخ 23مارچ بوقت ایک بجے دوپہر اسلامیہ کالج لاہور میں منعقد ہوا۔ بیگم مولانا محمد علی جوہرکی صدار ت میں یہ جلسہ بخوبی انجام پایا۔ اس موقعہ پر محترمہ فاطمہ جناحؒ نے اردو میں تقریر کی اور مسلمان خواتین کو اپنے خیالات سے مستفیض فرمایا۔آپ نے کہا :

فروری 1941ء میں مسلمان طالبات کی ایک فیڈریشن جس کا نام شروع میں آل انڈیا مسلم ویمن سٹوڈنٹس فیڈریشن رکھا گیا، آپ ہی کے ایما پر قیام میں لائی گئی جس کا پہلا اجلاس محترمہ فاطمہ جناحؒ کی سرپرستی میں منعقد ہوا۔ اس اجلاس کی منتظم بیگم شائستہ اکرام اللہ تھیں۔ اس سے قبل ’’آل انڈیا مسلم ویمنز کانفرنس‘‘ مسلمان خواتین میں بیداری کے سلسلے میں میدان عمل میں آچکی تھی اور اس کانفرنس کو بھی محترمہ کی سرپرستی حاصل تھی۔

اُس دور میں بیگم مولانا محمد علی جوہر‘ بیگم جہاں آراء شاہ نواز‘ بیگم نواب اسماعیل خان جیسی نامور مسلمان خواتین نے مادرِ ملّتؒ کی رہنمائی میں مسلم سیاست میں حصہ لینا شروع کر دیا تھا ۔ یہاں یہ امر قابلِ ذکر ہو گا کہ 1937ء کے آل انڈیا مسلم لیگ کے اجلاس میں مسلمان خواتین کو باقاعدہ مسلم لیگ میں شامل کرنے کے لیے ابتدائی کام کا آغاز کر دیا گیا تھا۔ اگرچہ مسلم لیگ کے کھلے اجلاس میں خواتین کی باقاعدہ شمولیت کا اعلان نہیں کیا گیا تھا البتہ بعد ازاں‘ پٹنہ کے اجلاس میں 32 مسلمان خواتین پر مشتمل، مرکزی سب کمیٹی کی تشکیل کی گئی تھی جس میں بمبئی سے محترمہ فاطمہ جناحؒ کو رکن چنا گیا تھا۔ مرکزی کمیٹی کا پہلا سالانہ اجلاس 1938ء میں لاہور میں منعقد ہوا جس میں محترمہ کا حصہ گرانقدر تھا۔ اس اجلاس میں ملک بھر سے مسلمان خواتین نے حصہ لیا ۔

اپریل 1941ء میں آل انڈیا مسلم لیگ کے سالانہ اجلاس ‘مدراس میں بھی مسلمان خواتین کی شرکت دیدنی تھی۔ اس موقعہ پر ’’آل انڈیا خواتین مرکزی سب کمیٹی ‘‘ کی از سرِ نو تشکیل کی گئی ۔ اس مرتبہ 35 خواتین کے اسماء سامنے آئے جن میں محترمہ فاطمہ جناحؒ کا نام بھی شامل تھا جنہیں دوسری بار بمبئی کے حلقہ سے چُنا گیا ۔

اس کمیٹی کے تیسرے انتخابات 1943ء میں ہوئے۔ اس مرتبہ مسلم لیگ کے سالانہ اجلاس منعقدہ دہلی کے موقعہ پر ’’خواتین مرکزی کمیٹی ‘‘ کے نئے ارکان چُنے گئے لہٰذا مدراس کے سابقہ اجلاس کی قرارداد کی روشنی میں اس مرتبہ 38 خواتین کے نام سامنے آئے جن میں محترمہ فاطمہ جناحؒ کو بمبئی کے حلقے سے مسلسل تیسری مرتبہ چُنا گیا۔ یادر رہے کہ مرکزی کمیٹی کی تشکیل کے لیے مسلم لیگ کے کھلے اجلاس میں نوابزادہ لیاقت علی خان نے قرار داد پیش کی تھی جو کثرتِ رائے سے منظور ہوئی۔ یو ں محترمہ، لیگ کی تنظیمِ نو سے قیام پاکستان تک نہ صرف مسلمان خواتین کی سیاسی جدوجہد، مسلم لیگ کی نشوونما بلکہ ساتھ ہی ساتھ اپنے عظیم بھائی کی خدمت میں بھی مصروفِ عمل رہیں۔

تحریک پاکستان میں محترمہ فاطمہ جناحؒ ، قائداعظمؒ کی دست راست تھیں۔ خاص طور پر خواتین کے حوالے سے انہوں نے قائداعظمؒ کی بہت بڑی مصروفیت اپنے ہاتھ میں لے لی تھی۔

تحریک آزادی کے مختلف ادوار میں محترمہ فاطمہ جناحؒ نے نہایت جانفشانی سے کام کیا اور خاص طور پر تعمیر پاکستان اور استحکام پاکستان آپ کی نظر میں اوّلین درجہ کے حامل نکات تھے اور آپ کی پوری کوشش تھی کہ عوام قائد اعظمؒ کے فرامین کے مطابق استحکام پاکستان کے لیے مستعد رہیں۔ آپ نے قیام پاکستان کے بعد کشمیری مجاہدین اور کشمیر سے ہجرت کر کے آنے والے مفلوک و پریشان حال مہاجرین کے لیے بہت سرگرمی سے کام کیا۔ آپ نے آزاد جموں و کشمیر کے دورے کئے۔ اس موقعہ پر محترمہ نے جہاں کشمیری مجاہدین کا حوصلہ بڑھایا وہاں کشمیری مہاجرین کی بھی اعانت کی۔ 1947ء میں جب کشمیر میں جنگِ آزادی کا آغاز ہوا تو آپ نے فی الفور کشمیر فنڈ قائم کیا اور ہر طرح سے کشمیری مجاہدین کی مدد کی۔ آپ خود محاذ جنگ پر پہنچیں اوراس دوران میں آپ نے کشمیری مہاجرین کے کیمپوں کا بھی دورہ کیا۔

محترمہ فاطمہ جناحؒ نے کشمیر کے مئلہ کو بین الاقوامی مئلہ قرار دیا اور ہر محاذ پر اس کے حل کے لیے آواز بلند کی۔ آپ کے نزدیک ریاست جموں و کشمیر کو کسی صورت بھی تقسیم نہیں کیا جا سکتا کیونکہ یہ کشمیری عوام کی امنگوں کے خلاف تھا۔ آپ ایک متحدہ کشمیر کی حامی تھیں۔ آپ نے کہا کہ پاکستان اسی وقت چین سے بیٹھے گا جب کشمیر کی مسکراہٹیں کشمیری عوام کے حوالے کر دی جائیں گی۔

قیامِ پاکستان کے وقت آپ ہجرت کر کے کراچی چلی آئیں۔ یہاں آتے ہی جس کام کا بیڑا آپ نے سب سے پہلے اٹھایا وہ مظلوم مہاجرین کی دیکھ بھال ، مالی امداد اور رہائشی سہولتیں مہیا کرنے کا تھا۔ 1947ء میں اپنی سرکردگی میں کراچی میں ’’ویمن ریلیف کمیٹی ‘‘ قائم کی جس نے بھارت سے نقلِ مکانی کرنے والی ہزاروں مسلمان خواتین کی دیکھ بھال کی ۔محترمہ فاطمہ جناحؒ نے پاکستان کی خواتین پر زور دیا کہ وہ مشرقی پنجاب کے پناہ گزینوں کی فراخ دلی سے امداد کریں۔ اس کمیٹی کو بعد ازاں ’’آل پاکستان ویمنز ایسوسی ایشن‘‘ کا نام دیا گیامادرِ ملّتؒ نے خود اس کمیٹی کے امور کی نگرانی کی۔ 30جنوری، 1948ء کو محترمہ فاطمہ جناحؒ اور مسز سروجنی نائیڈو نے مشترکہ طور پر اپیل کی کہ فسادات کے دوران میں اغوا ہونے والی خواتین کی بازیابی کے لیے ’’ہفتہ‘‘ منایا جائے۔

بھائی کی جدائی کے بعد قوم کا سارا بار آپ کے ناتواں کندھوں پر آن پڑا۔ لاغر و نحیف جسم اور بوڑھی آنکھوں میں امید و حوصلہ کی کسی قسم کی تبدیلی نہ آئی بلکہ آپ مرتے دم تک ملک و قوم کو قائداعظمؒ کے اقوال زرّیں پر عمل کرنے کی پیہم تلقین کرتی رہیں۔وہ اپنے بیانات کے ذریعہ قوم کو مسلسل احساس دلاتی رہیں کہ وہ قائد کی تعلیمات پر ثابت قدمی سے عمل پیرا رہیں ۔ قیامِ پاکستان کے بعد شروع کے دس سال تک انہوں نے سیاسی سرگرمیوں میں حصہ نہ لیا لیکن اس کے باوجود آپ ہر اہم موقعہ پر قوم کی راہنمائی کے لیے اپنے زرّیں پیغامات جاری کرتی رہیں۔ آئین سازی میں تاخیر ی حربوں پر محترمہ فاطمہ جناحؒ بہت دل گرفتہ تھیں۔ آپ کے نزدیک یہ تاخیر پاکستان کی ترقی میں رکاوٹ کا باعث بن رہی تھی۔ آپ پاکستان کو قائداعظمؒ کے فرمودات کی روشنی میں اسلامی جمہوریہ کے روپ میں دیکھنے کی خواہش مند تھیں۔ آپ نے بار بار مطالبہ کیا کہ پاکستان کو جلد از جلد جمہوریہ قرار دیا جائے اور جمہوری روایات کی پاسداری کی جائے۔ آپ کے نزدیک نظریہ پاکستان کے تحفظ کے لیے مضبوط رائے عامہ کی ضرورت تھی اور یہ مقصد اسلامی جمہوری اصولوں کے فروغ کے بغیر حاصل ہوتا نظر نہیں آتا تھا۔ محترمہ فاطمہ جناحؒ کی انہی بے لوث خدمات کے پیش نظر قوم نے انہیں 50ء کی دہائی کے ابتداء میں ’’خاتونِ پاکستان‘‘ کے والہانہ خطاب سے نوازا۔ بین الاسلامی معاملات پر بھی آپ کی گہری نظر تھی۔ یوم فلسطین کے موقعہ پر آپ نے دولت مشترکہ کے ممالک پر زور دیا کہ وہ اسلامی ممالک کے متعلق پاکستانیوں کے جذبات کا خیال رکھیں۔ 1964ء کے صدارتی انتخابات کے موقع پر حزبِ مخالف کے پلیٹ فارم سے صدارتی اُمیدوار کی حیثیت سے حصہ لیا۔ اگرچہ روایتی دھاندلیوں کی بنا پر وہ اس انتخاب میں فتح یاب نہ ہوسکیں لیکن یہ ضرور ہوا کہ انہوں نے پاکستانی عوام کو ایک آمر کے سامنے سینہ سپر ہونے کے لیے تیار کر دیا۔ انہوں نے ملک میں مارشل لائی نظامِ حکومت کو دلیری سے چیلنج کرتے ہوئے جمہوریت کی شمع ازسر نو روشن کی اور ملک میں پارلیمانی نظام لانے کا نعرہ بلند کیا۔

ملک و قوم کے لیے بے لوث اور انتھک جدوجہد کرنے والی اس عظیم ہستی کا انتقال 9جولائی، 1967ء کو ہوا۔

مزید : ایڈیشن 2