سیاسی جماعتیں مسئلہ کشمیر پر عملی اقداما ت کریں ، مشعال ملک

سیاسی جماعتیں مسئلہ کشمیر پر عملی اقداما ت کریں ، مشعال ملک

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر)جموں وکشمیرلیبریشن فرنٹ کے رہنما یاسین ملک کی اہلیہ اورتنظیم پیس اینڈ کلچرآرگنائزیشن کی چیئرپرسن مشعال ملک نے کہا ہے کہ بر ہان مظفروانی شہید کشمیری قوم کے حقیقی ہیروہیں، پاکستان کی تمام سیاسی جماعتوں کو اپنے انتخابی منشور اور100روزہ منصوبہ بندی میں مسئلہ کشمیر کے حوالے عملی اقدامات کو شامل کرناچاہیے۔ وہ اتوار کو نیشنل پریس کلب میں پیس اینڈ کلچرآرگنائزیشن کے زیراہتمام نوجوان کشمیری حریت پسند شہید برہان مٖظفروانی کی شہادت کے موقع پرمنعقدہ سیمینار سے خطاب کررہی تھیں ۔ اس موقع پر پیپلزپارٹی کے فرحت اللہ بابر، تحریک انصاف کے سیدظفرعلی شاہ، معروف دفاعی تجزیہ نگارڈاکٹرماریہ سلطان، عبدالحمیدلون اوردیگرمقررین نے بھی خطاب کیا۔مشعال ملک نے کہا کہ کشمیری قوم کو پاکستان اور پاکستانی قوم کشمیریوں سے پیار و محبت کا رشتہ ہے۔ برہان وانی اپنی زندگی میں مشعل راہ بن چکا تھا جبکہ شہادت کے بعد اب وہ لوک ہیرو بن چکے ہیں اور کشمیری نوجوان حتیٰ کے بچے بھی انہیں آئیڈیلائز کر رہے ہیں لوگ اپنے بچوں کا نام برہان کے نام پر رکھ رہے ہیں۔ عالمی برداری کو مقبوضہ کشمیر میں انسانیت سوز مظالم کا نوٹس لینا ہوگا۔ اس وقت مقبوضہ کشمیر میں نہتے آبادی پر لاکھوں بھارتی فوجی مسلط کئے گئے ہیں جو ریپ کو ہتھیار کے طور پر استعمال کر تے ہیں ،جب قصور میں معصوم بیٹی زینب کا واقع ہوا تو پوری قوم نے احتجاج کیا ، مجرم پکڑا گیا اور اسے انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کیا گیا لیکن اس کے برعکس جموں کے مندر میں کشمیری بچی آصفہ کا ریپ ہوا تو اس معاملے کو ریاستی سرپرستی میں دبایا گیا ۔ عالمی برادری کو یہ معاملہ بھارت کے ریاستی پالیسی کے تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے ۔ پاکستان کے شہر شہر اور گاؤں گاؤں جائیں گے تاکہ کشمیریوں کے موقف کیلئے وہ ہم آواز ہوکر باہر آئیں ۔ فرحت اللہ بابر نے کہاکہ برہان مظفر وانی کی شہادت سے کشمیری قوم بالخصوص کشمیری نوجوانوں میں حریت کا جذبہ بڑھا ہے اور کشمیر نوجوان جس طریقے سے اس تحریک آزادی میں شامل ہو رہے ہیں اس کی ماضی میں مثال نہیں ملتی ، ان کی شہادت کے بعد تمام حریت گرو پوں میں اتفاق اور اتحاد بڑھ گیا ہے اور یہ بھی ایک حقیقت ہے نوجوانوں کے فعال ہونے کے بعد تحریک میں پہلی مرتبہ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل نے اپنی رپورٹ میں مسئلہ کشمیر کو علاقائی مسئلہ کے بجائے انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کے تناظر میں رپورٹ کیا ہے اس سے پاکستان کیلئے بھی ایک نیا دروازہ کھلا ہے ۔ انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں میں ملوث بھارتی سیکیورٹی اہلکاروں کی تمام تر تفصیلات حاصل کرنے پر توجہ مبذول کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ایسے اہلکاروں کے خلاف جنیوا کنونشن کے تحت مقدمات چلائے جا سکیں۔ انہوں نے تجویز پیش کی کہ پاکستان کو اقوام متحدہ میں او آئی سی کے تعاون سے پیلٹ گن کے استعمال پر پابندی کی قرار داد پیش کرنا چاہئے ۔ ظفر علی شاہ نے کہاکہ برہان وانی کی شہادت نے تحریک آزاد کشمیر میں نئی روح پھونک دی ہے اور اب بھارت کے حاضر سروس اور ریٹائرڈ جرنیل بھی اس بات کا اظہار کر رہے ہیں کہ کشمیر کو طاقت کے زور پر قبضے میں نہیں رکھا جا سکتا ۔ ڈاکٹر ماریہ سلطان نے کہا کہ کشمیر میں حالیہ بربریت کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی ، برہان وانی نے مقبوضہ کشمیر میں ظلم کی داستان کو تصاویر کے ذریعے دنیا میں پہنچاکر بھارت کو حزیمت سے دوچار کیا اور کشمیر میں ڈیجیٹل جہاد کا تصور دیا۔ بھارت مقبوضہ کشمیر میں اسی پالیسی پر گامزن ہے جو اسرائیل نے فلسطینوں سے متعلق اپنا رکھی ہے ۔ مقبوضہ کشمیر میں 200سے زائد اجتماعی قبریں دریافت ہوئیں ہیں۔انہوں نے کہاکہ حق خود ارادیت کی جدوجہد میں معاونت اقوام متحدہ کے چارٹر کے عین مطابق ہے ۔سیمینار سے عبدالحمید لون ،ملک اختر اور منیبہ طارق نے بھی خطاب کیا ، سیمینار میں حریت رہنما یاسین ملک کی چھوٹی صاحبزادی رضیہ ملک توجہ کا مرکز بنی رہیں۔

مشعال ملک

مزید : صفحہ آخر