فیفا ورلڈ کپ فیورٹ ٹیموں کیلئے ایک ڈراؤنا خواب ثابت ہوا

فیفا ورلڈ کپ فیورٹ ٹیموں کیلئے ایک ڈراؤنا خواب ثابت ہوا
فیفا ورلڈ کپ فیورٹ ٹیموں کیلئے ایک ڈراؤنا خواب ثابت ہوا

  

فٹ بال ورلڈ کپ اختتامی مرحلہ کی جانب تیزی سے گامزن ہے اور شائقین کی دلچسپی بھی مزید بڑھ گئی ہے سیمی فائنل تک رسائی حاصل کرنے والی ٹیموں کا فیصلہ ہوچکا ہے میزبان ملک روس اپنی بھرپور کوششوں کے باوجود کروشیا کے ہاتھوں ایک دلچسپ اور کانٹے دار مقابلہ کے بعد پنلٹی کک پر ایونٹ سے باہر ہوگیا اور اس کے ساتھ ہی میزبان ملک میں اس حوالے سے جو جوش و خروش تھا ختم ہوگیا مگر ایونٹ میں اس سے بڑے بڑے اپ سیٹ رونماء ہوئے اور سب سے پہلا اپ سیٹ جرمنی کی ٹیم کا ایونٹ سے باہر ہوجانا ہے اور فٹ بال کی تاریخ میں پہلی مرتبہ وہ ٹاپ سکسٹین مرحلہ تک بھی نہیں پہنچ سکی ۔انگلینڈ کی ٹیم 1990ء کے بعد ورلڈ فٹبال کپ سیمی فائنل میں پہلی اور اب تک مجموعی طور پر تیسری بار پہنچی ہے۔ سوئیڈن کے خلاف انگلینڈ کے دونوں گول ہیری میگوائر اور ڈیلی ایلی نے ہیڈ کے ذریعہ بنائے، انگلینڈ نے رواں ٹورنامنٹ میں اپنے 10 میں سے 8 گول سیٹ پیسز پر کئے۔ سوئیڈن، انگلینڈ کے خلاف گزشتہ چار میں سے تین میچز ہارا۔ انگلینڈ نے 2018ء کے ورلڈکپ میں اب تک 11 گول کئے ہیں جو 1966ء کے ورلڈ کپ کے بعد ریکارڈ تعداد ہے۔ 1966ء میں انگلینڈ نے ورلڈکپ جیتا تھا۔برازیل کو گزشتہ چار ورلڈ کپ ٹورنامنٹس میں یورپی ٹیموں (فرانس۔2006، ہالینڈ۔2010، جرمنی2014 اور بلجیم۔2018 )نے باہر کیا۔ بلجیم اپنی تاریخ میں دوسری بار سیمی فائنل میں پہنچا۔ 1986 میں سے ارجٹنائن کے ہاتھوں شکست ہوئی تھی۔ 30 میچوں میں پہلی بار برازیل نے ایک سے زائد گول دیئے۔ بلجیم کی یہ برازیل کے خلاف محض دوسری کامیابی ہے آخری بار 1963 میں برسلز میں کھیلے گئے دوستانہ میچ میں ہرایا تھا۔ فرنانڈہینو ورلڈکپ میں اون گول کرنے والا دوسرا برازیلی ہے۔

2014 میں مارسیلو نے کروشیا کے خلاف اون گول کیا تھا۔ رومیلولوکا کوئی بلجیم کے لیے 13 میچوں میں 17 گول کئے اور تین میں معاونت کی۔ جبکہ اس وقت سب سے فیورٹ ٹیم کی بات کی جائے تو فرانس کی ٹیم کا اس وقت دیگر ٹیموں پر پلڑا بھاری نظر آتا ہے اس کے علاوہ کروشیا کی ٹیم نے پہلی مرتبہ سیمی فائنل تک رسائی حاصل کی ہے پرتگال، ارجنٹائن اور جرمنی کی ٹیمیں جن کو اس ورلڈ کپ کی فاتح ٹیموں میں سرفہرست رکھا گیا تھا اس ایونٹ میں ہی باہر ہوگئیں ہیں مگر اس کے باوجود اس کھیل میں شائقین جس سحر میں مبتلا تھے اس میں کمی نہیں آئی بلکہ اس میں تیزی ہی آئی ہے اور اب اس نتیجہ کا شائقین کو شدت سے انتظار ہے جس کا آغاز سے ہی تھا بہرحال اس وقت یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ کون سی ٹیم جیتے گی مگر یہ ایک بہت اچھا اور کامیاب ایونٹ ثابت ہوا جس میں روس میں لاکھوں افراد نے بیرون ملک سے سفر کرکے یہاں پر پہنچ کر مقابلے دیکھے اور جس طر ح سے انتظامات کئے گئے اتنے بڑے ایونٹ کے لئے یہ بھی خوش آئند بات ہے پندرہ جولائی کو ہونے والے فائنل مقابلہ میں پتہ چل جائے گا کہ کھیلوں کے بادشاہ کھیل فٹبال کی فاتح ٹیم کون ہے۔

Back to Conversion Tool

مزید : رائے /کالم