ادویات کی عدم دستیابی سے اموات افسوسناک ہیں، جسٹس (ر) دوست محمد

ادویات کی عدم دستیابی سے اموات افسوسناک ہیں، جسٹس (ر) دوست محمد

پشاور (سٹاف رپورٹر)نگران وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا جسٹس(ر) دوست محمد خان نے لیڈی ریڈنگ ہسپتال پشاور پراچانک چھاپہ مارا ، انہوں نے ایمرجنسی میں مریضوں کی حالت زار ، ڈاکٹرز اور دیگر عملے کی غیر موجودگی، مریضوں کے لیبارٹری ٹسٹ میں بے ضابطگیوں ، صفائی کے نا مناسب انتظام اور خدمات کی فراہمی کے مجموعی نظام میں کمزوریوں پر سخت برہمی کا اظہار کیا ہے ،انہوں نے حیرت کا اظہار کیا کہ اتنے بڑے ہسپتال میں اربوں روپے خرچ کرنے کے باوجود کوئی کام سلیقے اور ترتیب سے نہیں ہو رہا جو قابل افسوس امر ہے،انہوں نے کہا کہ ذمہ داریوں کے تعین کے بغیر ادارے کا چلنا مشکل ہوتا ہے انہوں نے ہسپتال کے ناگفتہ بہ حالات اور مریضوں کی مشکلات کو مد نظر رکھتے ہوئے کل محکمہ صحت کے اعلیٰ حکام اور ہسپتال کے بورڈ آف گورنرز کا ہنگامی اجلاس طلب کر لیا جس میں موجودہ سسٹم کی کمزوریوں کا جائزہ لے کر آئندہ کے لائحہ عمل کا فیصلہ کیا جائے گا۔نگران وزیر اعلیٰ نے ہسپتال پر اچانک چھاپے کے دوران شعبہ حادثات ،فارمیسی، لیبارٹری، مختلف وارڈز اور دیگر شعبوں کا تٖفصیلی معائنہ کیا۔ دوست محمد خان نے فارمیسی کے ہسپتال کے ایک کونے میں قائم کرنے پر تشویش کا اظہار کیا اور فارمیسی کو ہسپتال کے مرکز میں منتقل کرنے کی ہدایت کی تاکہ تمام شعبہ جات کے مریضوں کی فارمیسی تک آسان رسائی ممکن ہو سکے،انہوں نے فارمیسی میں زندگی بچانے والی ادویات کی عدم موجودگی اور گمنام دواساز کمپنیوں کی ادویات پر بھی برہمی کا اظہار کیا، انہوں نے کہا کہ ادویات کی عدم دستیابی کی وجہ سے اموات کا واقع ہونا افسوسناک امر ہے دوست محمد خان نے کہا کہ شعبہ صحت انتہائی اہمیت رکھتا ہے اس شعبے سے منسلک تمام افراد میں انسانی ہمدردی کا ہونا ضروری ہے کیونکہ یہاں غریب عوام کی زندگی کا سوال ہے ،معاشرتی بگاڑ کی وجوہات میں ایک اہم وجہ صحت کے شعبے میں ذمہ داریوں کی ادائیگی میں غفلت بھی ہے ، انہوں نے معیاری ادویات کی خریداری یقینی بنانے کیلئے چیف فارماسسٹ کو پرچیزنگ کمیٹی کا باضابطہ ممبر نامزد کرنے کی ضرورت پر زور دیااور کہا کہ اس کا فیصلہ حتمی ہونا چاہئے نگران وزیر اعلیٰ نے اس امر پر حیرت کا اظہار کیا کہ کسی کو بھی علم نہیں ہوتا کہ کونسی دوا شارٹ ہے اصل چیز ذمہ داریوں کا تعین ہے جسکے بغیر نظام کا چلنا مشکل ہی نہیں نا ممکن ہوتا ہے ،نگران وزیر اعلیٰ نے لیبارٹری کا بھی معائنہ کیا اور وہاں پر موجود مریضوں کی شکایات کا سخت نوٹس لیا پیتھالوجسٹ کی عدم موجودگی پر برہمی کا اظہار کیا اور کہا کہ ایمرجنسی میں کوئی اتوار نہیں ہوتا، عملے کا موجود ہونا ضروری ہے کیونکہ یہ انسانی زندگی کا معاملہ ہے انہوں نے ذمہ دار کو فوری طور پر معطل کرنے اور ہسپتال میں اس کا داخلہ روکنے کی ہدایت کی ،دوست محمد خان نے مریضوں کے لیبارٹری ٹسٹ یقینی بنا کر انکے ریزلٹس کی کاپیاں انہیں بھیجنے کی ہدایت کی اور کہا کہ مریضوں کو یہاں وہاں کے چکروں میں نہ ڈالا جائے خدمات کی فراہمی کا منظم نظام ہو نا چاہئے،دوست محمد خان نے اس موقع پر ایک زخمی مریض کے علاج معالجے میں غفلت پر رپورٹ طلب کی اور ذمہ داران کے خلاف انکوائری کی ہدایت کی ۔نگران وزیر اعلیٰ ہسپتال کے دیگرشعبوں میں بھی گئے ، ڈیوٹی روسٹر پر خود دستخط کئے ۔50فیصد ڈاکٹرز اور دیگر عملے کی غیر حاضری کو قابل رحم قرار دیا۔شعبہ ایمرجنسی میں سرجیکل بیکٹیریا کے detectorکی عدم موجودگی پر بھی برہمی کا اظہارکیا اور کہا کہ سرجیکل بیکٹریا کی نشاندہی کا سسٹم نہ ہونے کی وجہ سے مریض کی حالت مزید بگڑ جانے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں جس کے نتیجے میں ہائی انٹی بیاٹک کا استعمال کرنا پڑتا ہے جسکے سائڈ افیکٹس مریض کیلئے نقصان دہ ہیں ۔انہوں نے ہسپتال میں صفائی کے نا مناسب انتظام پر بھی تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ اربوں روپے کا بجٹ ہونے کے باوجود ہسپتالوں میں صفائی کا نہ ہونا لمحہ فکریہ ہے۔

مزید : کراچی صفحہ اول