گپ شپ میں مداخلت‘ ڈسپنسر کا درد سے تڑپتی بچی کے باپ پر تشدد

گپ شپ میں مداخلت‘ ڈسپنسر کا درد سے تڑپتی بچی کے باپ پر تشدد

چوک مکول نامہ نگار ) مہمانوں سے گفتگو کے دوران ڈسٹرب کیوں کیا میڈیکل آفیسر کا ڈسپنر کے ساتھ مل کر آگ سے جلی بچی کو لے کر دوائی لینے کے لیے انے والے باپ پر دوائی دینے کی بجاے الٹا تشدد کا نشانہ بنا ڈالا اہلا علاقہ کا میڈیکل افیسر اور ڈسپنسر کی غنڈا گردی کے خلاف احتجاج ڈپٹی کمشنر مظفرگڑھ اور ہیلتھ افسران سے نوٹس لینے کا مطالبہ مبینہ تفصیل کے مطابق موضع بیٹ راولی کے رہاشی (بقیہ نمبر34صفحہ12پر )

بشیر احمد ولد کریم بخش نے اپنے اہلیان علاقہ کے ہمراہ نیشنل پریس کلب شاہ جمال آکر بتایا کہ میں سات جولائی باروز ہفتہ کو میری دو سالہ بچی بچی آگ میں اچانک گرگیی میں فورا اپنی بچی کو لیے کر اپنی بیوی کے ہمراہ قریبی بنیادی مرکز صحت میراں پور لے گیا جب وہاں پہ گیا تو میڈیکل افیسر ڈاکٹر اشرف مرزا اور ڈسپنسر طارق شاہ مہمانوں کے ساتھ گپوں میں مصروف تھے جب دوائی لینے کی بات کی تو میڈکل آفیسر نے کہا کہ بیٹھ جاؤ آپ کی بچی کو چیک کرتے ہیں ۔دوسری جانب آگ سے جلی دو سالہ بچی تڑپ رہی تھی میں نے دوبارہ میڈیکل افیسر سے کہا کہ جناب میری بچی آگ میں جلنے کی وجہ سے تڑپ رہی ھے بچی کو دوائی وغیراہ دیں میرے بار بار دوائی کے کہنے پر بنیادی مرکز صحت میراں پور کا میڈیکل آفیسر ڈاکٹر اشرف مرزا طیش میں اگیا ‘مہمانوں میں مصروفیت پر تنگ کیوں کیا۔ ڈسپنسر طارق شاہ کے ساتھ مل کر بدترین تشدد کا نشانہ بنایا پکڑ کر مجھے گھسیٹتے رہے‘ میری آگ میں جلی بچی بھی گرگئی مجھے اور میری بیوی کو دھکے دیکر ہسپتال کے باہر بھگا کر ہسپتال کا مین گیٹ بند کردیا جبکہ دوسری جانب اہلیان علاقہ ملک کوڑا محمد شفیع ‘ محمد ندیم مگی‘ عبدالطیف ودیگر نے کہا کہ پندرہ سال سے تعینات ڈاکٹر اشرف مرزا مریضوں کو تنگ کرنا اور غریب مریضوں کو دھکے دینا معمول بنا لیاہے جس سے پورا علاقہ اس میڈکل افیسر ڈاکٹر اشرف مرزا سے تنگ ھے محمد صادق امیر بخش محمد تنویر غلام رسول محمد شفقت ودیگر نے کہا کہ ڈپٹی کمشنر مظفرگڑھ اور ہیلتھ افسران اس واقعہ کا سخت نوٹس لیں اور غنڈہ گردی اور تشدد کرنے والے ڈاکٹر اشرف مرزا اور ڈسپنر طارق شاہ کے خلاف کاروائی کا مطالبہ کیا ہے جب اس سلسلے میں موقف جاننے کے لیے میڈیکل آفیسر ڈاکٹر اشرف مرزا کے ذاتی موبائیل نمبر 03464791064 پر رابطہ کیا گیا تو ان کا نمبر مسلسل پاور آف پایا گیا۔

مزید : ملتان صفحہ آخر