فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر472

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر472
فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر472

  

راگ تلنگ میں بھی پنجاب کے بہت سے لوک گیت گائے جاتے ہیں۔ خاص طور پر شادی بیاہ کے موقع پر دلہا دلہن کے دوست اور سہیلیاں جو گیت گاتے ہیں وہ اسی راگ میں ہوتے ہیں۔

راگ تلنگ کی خوبی یہ ہے کہ اس میں غم اور خوشی دونوں کا تاثر موجود ہے۔ دلہن کے رشتے داروں کے لیے اس سے جدائی ایک غمگین تاثر ہے جبکہ دولہا کے روشتے داروں کے لیے یہ ایک خوشی کا موقع ہے۔ یہ دونوں قسم کے گیت راگ تلنگ میں ہی گائے جاتے ہیں اور لطف یہ ہے کہ یہ ایک ہی راگ جدائی کے غم اور ملاپ کی خوشی دونوں جذبات کو موثر طریقے پر پیش کرتا ہے۔

راگ تلنگ دلا بھٹی کی داستان کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ جس میں دلا بھٹی کی بہادری ‘ شجاعت اور بے جگری کا بھی اظہار احسن طریقے پر کیا جاتاہے۔

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر471پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

لوک گیت اور لوک راگ دراصل عوام کی امنگوں ‘ خواہشوں اور جذبات کی عکاسی کرتے ہیں۔ ان میں افراد کے جذبات بھی شامل ہیں اور اجتماعی گروہوں ی امنگیں بھی ہیں اس طرح ان دونوں کی آمیزش سے یہ لوک نغمے اور گیت جنم لیتے ہیں۔

رات تلنگ اور بھیرویں جب موسیقی کے استادوں اور ہنرمندوں تک پہنچے تو انہوں نے اپنے تجربات اور اضافوں کی مدد سے انہیں مزید نفاست اور حسن سے نوازا اور کلاسیکی رنگوں میں ڈھال دیا۔

شمالی پنجاب کے علاقوں میں جنم لینے والاایک اور راگ ’’پہاڑی ‘‘ ہے۔ اس کے نام ہی سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ یہ پہاڑی علاقوں کا راگ ہے۔ پہاڑی راگ عموماً جدائی ‘ دوری او پیار سے محرومی کے اظہار کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ فلمی موسیقی سے اس کی دو نمایاں مثالیں فلم ’’سات لاکھ ‘‘ کے گیت۔

آئے موسم رنگیلے سہانے

جیا نہیں مانے

تو چھٹی لے کے آجابالما

اور فلم ’’عشق پر زور نہیں ‘‘ کا یہ مشہور مقبول گیت ہے۔

دل دیتا ہے رو رودُہائی

کسی سے کوئی پیار نہ کرے

کوئی سمجھے کسی کو نہ اپنا

جھوٹا نکلے گا جیون کا سپنا

ہائے نکلا سجن ہرجائی

کسی سے کوئی پیا رنہ کرے

’’سات لاکھ‘‘ کا نغمہ سیف الدین سیف نے لکھا تھا اور اس کی دھن رشید عطرے صاحب نے بنائی تھی۔ ’’عشق پر زور ‘‘ نہیں کے گیت نگار قتیل شفائی تھے اور ماسٹر عنایت حسین نے اس کی دھن بنائی تھی ۔ یہ بھی عرض کردیں جو کہ ہم پہلے ہی بیان کر چکے ہیں کہ ماسٹر عنایت حسین صحیح معنوں میں تخلیق کار اور مشکل پسند تھے۔ انہوں نے ایک بار ہم سے کہا تھا کہ آفاقی صاحب ، پہاڑی راگ میں گانا بنا کر ہٹ کرگانا کون سا مشکل کام ہے۔ اس راگ میں بنایا ہوا نغمہ لازماً ہٹ ہوجاتا ہے۔ مزہ تو تب ہے کہ انسان خود کو مشکل میں ڈالے پھر اس مشکل کو سلجھائے اور ایک نئی دھن بنائے۔ اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ راگ پہاڑی کس قدر مقبول عام اور پسندیدہ رات ہے۔ چلتے چلتے اسی ضمن میں یہ بھی بتا دیں کہ ’’سات لاکھ ‘‘ کا گیت زبیدہ خانم نے گایا تھا اور نیلو پر فلمایا گیا تھا۔ ’’عشق پر زور نہیں ‘‘ کا گیت مالا بیگم نے گایا تھا اور یہ یاسمین پر فلمایا گیا تھا۔ اس گیت میں سائیں اختر بھی گاہے بگاہے نمودار ہو کر آواز لگاتے تھے۔ اس سوز اضافہ کر دیا تھا۔ سائیں اختر کی آواز کا اتنا خوبصورت اور مختصر استعمال اس سے پہلے اور اس کے بعد شاید ہی کسی اور موسیقار نے کیا ہو۔

پہاڑی میں جدائی ‘ فراق اور ہجر کی کیفیت اس لیے بھی موجود ہے کہ موسم سرما میں ان علاقوں کے مرد مختلف مزدوری اور کام کاج کے لیے گھروں سے دور چلے جاتے ہیں۔ عورتیں ہجرا اور جدائی کے صدمات سہتی رہتی ہیں اور راگ پہاڑی میں لگائے ہوئے لوک گیت دراصل ان کے دلوں کے تاثرات کا اظہار ہوتے ہیں۔ جن لوگوں کا بس چلتا ہے وہ کسی نہ کسی طرح اپنے بیوی بچوں کو بھی شہروں میں اپنے پاس بلالیتے ہیں لیکن جو لوک گیت ان لوگوں کے ذہنوں میں بس چکے ہوتے ہیں ان کی پکار اس کے بعد بھی گونجتی رہتی ہے۔ اس طرح یہ سلسلہ نسل در نسل چلتا رہتا ہے۔

بھیرویں راگ کو عموماً دیہاتی پس منظر سے تعلق رکھنے والے کرداروں او رسچویشن کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ اس راگ میں ایک خام پن ‘ والہانہ پن اور بے ساختگی ہوتی ہے جو کہ دیہاتیوں کے مزاج کا لازمی جزو ہوتی ہے۔ سرائیکی اور سندھی لوک گیت بھی فلموں میں استعمال کیے جاتے ہیں اور بہت کامیاب اور مقبول رہے ہیں۔ خصوصاً راگ ’’کافی ‘‘ اس ٹھاٹ کی عکاسی کرتاہے۔ کافی کا جب مقبول نغموں اور فلموں میں استعمال کیا گیا تو جنوبی پنجاب اور سرائیکی علاقوں کا یہ راگ مقبول عام ہوگیا۔

جہاں تک لوک دھنوں کو فلموں میں استعمال کرنے کا تعلق ہے اس سلسلے میں ہر نامور اور بڑے موسیقار نے ان سے استفادہ کیا ہے۔ نوشاد صاحب کی یہی سب سے بڑی خوبی اور انفرادیت رہی ہے کہ وہ برصغیر کے طول و عرض میں اور خاص طور پر یوبی ہند کے علاقوں میں لوک گیتوں کی تلاش کرتے رہے ہیں اور ان کی بنائی ہوئی بیشتر دھنیں ان لوک دھنوں پر ہی بنی ہیں۔ بعض اوقات انہوں نے بڑی ہنر مندی کے ساتھ ان میں ضروری تبدیلیاں بھی کی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ نوشاد کے نغمے دلوں پر نقش ہو کر رہ گئے ہیں۔

ہر صوبے سے تعلق رکھنے والے موسیقاروں نے اپنے علاقوں کی لوک موسیقی کو اپنی دھنوں میں استعمال کیا اور اس سے فائدہ اٹھایا۔ ایس ‘ ڈی ‘ برمن اپنے ہمراہ بنگال اور نیپال کی لوک دھنیں لے کر آئے تھے جنہیں بھوٹان اور دار جلنگ کے علاقوں کی لوک دھنوں کی آمیزش سے انہوں نے ایک تباہی رنگ روپ دے دیا تھا۔ اس طرح سہیل چوہدری بنگالی طرزیں اپنے جلو میں لے کر آئے اور چھا گئے۔ جنوبی ہند کے موسیقاروں رام چندر وغیرہ نے اپنے خطوں کی لوک موسیقی کو استعمال کیا اور داد پائی۔

پنجاب سے ماسٹر غلام حیدر پنجابی رنگ لے کراٹھے اور ہندوستان کے طول و عرض میں ان کی طوطی بولنے لگا۔ برصغیر کے موسیقاروں اور سامعین کے لیے ماسٹر غلام حیدر کی موسیقی ایک بالکل نیا اور انوکھا تجربہ تھا۔ شیام سندر وغیرہ نے بھی پنجابی لوک دھنوں کو استعمال کیا۔ پنجاب سے تعلق رکھنے والے ایک اور موسیقار او ۔ پی نیئر نے فلم ’’نیا دور ‘‘ میں پنجابی دھنوں کو اردو الفاظ کے روپ میں ڈھال کر تہلکہ مچا دیا تھا۔ انہوں نے پنجاب طرزوں اور لوک نغموں میں ذراسی تبدیلی کے بغیر انہیں جوں کا توں اردومیں اپنالیا اور ہر کوئی ان کے گن گانے لگا۔ وہ واحد موسیقار ہیں جنہوں نے بھارتی فلمی صنعت میں لتا منگیشکر کی اجارہ داری اور حکمرانی کو تسلیم نہیں کیا۔ جب لتانے کہا کہ میں ان کے لیے گانا نہیں گاؤں گی تو سب یہ سمجھے کہ بطور موسیقار ۔۔۔ ان کا خاتمہ ہے لیکن انہوں نے آشا بھوسلے ‘ گیتا دت ‘ شمشاد اور دوسری آوازوں کے استعمال سے ایسا جادو پھونکا کہ لتا کی آواز کی کمی محسوس ہی نہیں ہوتی بلکہ ان ان گانوں میں ایک نیا پن اور نئی کیفیت پیدا ہوگئی۔

(جاری ہے۔۔۔ اگلی قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں)

مزید : کتابیں /فلمی الف لیلیٰ