’’آسمان سے ایک بوڑھا شتر مرغ پر سوار ہوکر اترا اوراس نے مجھے اللہ کے رسول ﷺ کے بارے بتایا کہ ۔۔۔‘‘ اسلام قبول کرنے والے شاعر صحابیؓ کا وہ واقعہ جب انہیں آسمانی مخلوق نے راہ راست پر ڈالا تھا 

’’آسمان سے ایک بوڑھا شتر مرغ پر سوار ہوکر اترا اوراس نے مجھے اللہ کے رسول ﷺ ...
’’آسمان سے ایک بوڑھا شتر مرغ پر سوار ہوکر اترا اوراس نے مجھے اللہ کے رسول ﷺ کے بارے بتایا کہ ۔۔۔‘‘ اسلام قبول کرنے والے شاعر صحابیؓ کا وہ واقعہ جب انہیں آسمانی مخلوق نے راہ راست پر ڈالا تھا 

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

حضرت ابو نعیم ابن جریرؓ اور طبرانی وغیرہ نے بہت سی سندوں سے عربوں کے ایک بڑے سردار عباس بن مرداسؓ سے روایت کی ہے ۔وہ کہتے ہیں کہ میرے باپ نے اپنی موت کے وقت وصیت کی کہ جب تمہیں کوئی سخت مصیبت پہنچے تو ضمار نامی بت کی پوجا کر کے اپنی حاجت روائی چاہنا۔ اتفاق کی بات ہے کہ ایک دن میں اپنے رفقاء کے ساتھ ایک جنگل میں شکار کو گیا۔ دوپہر کے وقت آرام کے لیے میں اور میرے سب ساتھ ایک درخت کے سائے میں بیٹھ گئے ۔ اچانک یہ منظر میں نے دیکھا کہ سفید روئی کے گالے کی طرح ایک شتر مرغ ہوا پر سے اترا۔ اس شتر مرغ پر ایک بوڑھا آدمی سفید کپڑے پہنے ہوئے نظر آیا۔ اس مرد پیر نے مجھ سے کہا کہ ’’عبدللہ بن مرداس! تجھے معلوم ہونا چاہیے کہ آسمان کو اب چوکیداروں کی حفاظت حاصل ہے۔ زمین پر لڑائی چل گئی۔ گھوڑے لڑائی کے لیے تیار ہوچکے ہیں۔ یہ نیکی کا راستہ کو لایا ہے وہ پیر کے دن پیدا ہوا ہے۔ اس کے پاس قصوا نامی ایک اونٹنی ہے۔ ‘‘

حضرت عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ یہ دیکھ کر ڈر گیا کہ پریشانی کے عالم میں باپ کے بتائے ہوئے بت ضمار کے پاس گیا۔ اس کی طرف منہ کر کے بیٹھ گیا تاکہ میری پریشانی دور ہو، اچانک اس بت کے پیٹ سے چند اشعار کی آواز آئی۔ ان کا مطلب یہ تھا۔ ’’سلیم کے تمام قبیلوں سے کہہ دو کہ بت خانہ والے تباہ ہو گئے۔ مسجدوں والے زندہ ہوگئے۔ ضمار بت بھی ہلاک ہوا۔ اس کی لوگ پوجا کرتے تھے۔ لیکن محمدﷺ کے نبی ہونے اور ان پر کتاب نازل ہونے کے بعد بتوں کی پوجا ختم ہوگئی۔ یہ نبی عیسیٰ ابن مریم کے بعد نبوت کے وارث ہوئے۔ یہ خاندان قریش سے تعلق رکھتے ہیں اور صحیح راہ پر گامزن ہیں۔‘‘

عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ۔ میں نے یہ قصہ لوگوں سے چھپایا اور کسی سے ذکر نہ کیا ان ہی دنوں جب کفار مکہ حضرت محمد مصطفی ﷺ سے جنگ احزاب لڑ کرواپس ہورہے تھے۔ میں مقام عقیق کی طرف اونٹ خریدنے گیا تھا۔ اچانک سخت آواز آسمان سے آئی۔ میں نے سر اٹھا کر دیکھا تو وہی پہلا بوڑھا سفید کپڑے پہنے ہوئے شتر مرغ پر سوار نظر آیا۔ وہ کہہ رہا تھا وہ نور جو روز دو شنبہ اور شب سہ سنبہ دنیا میں ظاہر ہوا ہے بہت جلد اپنی اونٹنی پر سوار ہو کر ملک نجد پہنچے گا۔ عباسؓ کا بیان ہے اسی وقت سے میرے دل میں اسلام کی عقیدت و محبت جم گئی اور میں نے اسلام قبول کرنا افضل جانا ۔حضرت عباس بن مرداس نے شاعرانہ طبیعت پائی تھی اورآپ کے اشعار کو سراہا جاتا تھا ۔ 

مزید : روشن کرنیں