اگر آپ یہ چیز باقاعدگی سے کھائیں تو کبھی بھی پتے میں پتھری نہیں بنے گی

اگر آپ یہ چیز باقاعدگی سے کھائیں تو کبھی بھی پتے میں پتھری نہیں بنے گی
اگر آپ یہ چیز باقاعدگی سے کھائیں تو کبھی بھی پتے میں پتھری نہیں بنے گی

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

برمنگھم(نیوز ڈیسک) پتے کی پتھری انتہائی تکلیف دہ بیماری ہے جس کا علاج پیچیدہ بھی ہے اور مہنگا بھی۔ ایک بار یہ بیماری لاحق ہو جاتے تو اس سے جان چھڑوانا بہت مشکل ہے، لیکن خوش قسمتی سے یہ بات بآسانی ممکن ہے کہ ہم اس بیماری کو اپنے جسم میں داخل ہی نا ہونے دیں۔ اور اس کے لئے ہمیں ڈھیروں روپے خرچ کرنے کی بھی ضرورت نہیں کیونکہ ہم یہ مقصد کچھ عام دستیاب غذاﺅں سے بآسانی حاصل کر سکتے ہیں۔

عام طور پر پتے کی پتھری کولیسٹرول کے کرسٹل بننے سے وجود میں آتی ہے جس کے اثرات مریض کے لئے انتہائی منفی اور دردناک ہوتے ہیں۔ مرغن غذاﺅں کا بہت زیادہ استعمال، وزن کا زیادہ ہونا، جگر کی خرابی یا ذیا بیطس کا مرض پتے کی پتھری کے امکان کو بڑھادیتا ہے۔

ویب سائٹ justnaturalyhealthy کے مطابق ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ اس ضمن میں چار غذائیں بہت اہمیت رکھتی ہیں کیونکہ یہ پتے میں پتھری بننے نہیں دیتیں، اور اگر پتھری بن چکی ہو تو اسے تحلیل کرنے میں بھی مددگار ثابت ہوتی ہیں۔ ان غذاﺅں میں زیادہ فائبر والی غذائیں خصوصی اہمیت کی حامل ہیں، جیسا کہ مٹر اور پھلیاں وغیرہ۔ ان میں فائبر کی مقدار بہت زیادہ ہوتی ہے جبکہ چنے اور سالم اناج بھی مفید ثابت ہوتا ہے۔

سامن مچھلی ایک اور ایسی غذا ہے جو آپ کو پتے کی پتھری سے محفوظ رکھ سکتی ہے۔ اس میں اومیگا تھری فیٹی ایسڈ بکثرت پایا جاتا ہے جو جگر اور پتے کی صحت کیلئے بہت مفید ہوتا ہے۔ اس سے جسم کو مونوسیچوریٹڈ چکنائی حاصل ہوتی ہے جو صحت کیلئے مفید ہوتی ہے۔ اس چکنائی کی وجہ سے کولیسٹرول لیول میں کمی آتی ہے جس سے پتے میں پتھری بننے کا امکان کم ہوجاتا ہے۔

وٹامن سی سے بھرپور پھل اور سبزیاں ایک اور ایسی غذا ہیں جو پتے کی پتھری کے خلاف مزاحمت کرتی ہیں۔ جسم میں وٹامن سی کی کمی کے باعث پتے کی پتھری بننے کا امکان بہت زیادہ بڑھ جاتا ہے۔ وٹامن سی کے حصول کیلئے مالٹا، امرو، پیلی شملا مرچ اور سبز پتوں والی سبزیاں بہت مفید ہیں۔

بادام کے اور بہت سے فوائد سے آپ واقف ہو ں گے لیکن اس کا ایک بہت ہی اہم فائدہ پتے کی پتھری سے بچاﺅ بھی ہے۔ بادام میں کیلشیم اور میگنیشیم پائی جاتی ہے جو کہ جگر میں کولیسٹرول کا توازن برقرار رکھتے ہیں۔بادام دستیاب نا ہو تو روزانہ سادہ دہی کا استعمال کرلیا جائے تو یہ بھی انہی فوائد کا حامل ہے۔ اور اگر دہی کے ساتھ وٹامن سی والا فروٹ بھی شامل کرلیا جائے تو فوائد اور بھی بڑھ جاتے ہیں۔

مزید : ڈیلی بائیٹس /تعلیم و صحت