وہ چیز جو 90 ہزار روپے کی خرید کر ڈھائی کروڑ روپے میں بیچی جاسکتی ہے

وہ چیز جو 90 ہزار روپے کی خرید کر ڈھائی کروڑ روپے میں بیچی جاسکتی ہے
وہ چیز جو 90 ہزار روپے کی خرید کر ڈھائی کروڑ روپے میں بیچی جاسکتی ہے

  

کیپ ٹاﺅن(مانیٹرنگ ڈیسک) دنیا بھر میں حکومتیں اور قانون نافذ کرنے والے ادارے اعضاءکی سمگلنگ اور غیر قانونی خرید و فروخت پر قابو پانے کے لئے کوشاں ہیں لیکن یہ مکروہ دھندہ کسی طور ختم ہونے میں نہیں آ رہا۔ ختم ہو بھی کیسے، کیونکہ اس شیطانی کام میں کمائی ہی اتنی زیادہ ہے کہ جرائم پیشہ افراد ہر خطرہ مول لے کر دنیا بھر میں اعضاءکی خرید و فروخت جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ویب سائٹ Hovocscope پر شائع ہونے والے حیران کن اعداد و شمار میں بتایا گیا ہے کہ اس غیر انسانی دھندے میں منافعے کی شرح اتنی زیادہ ہے کہ جو گردہ کینیا میں صرف 90 ہزار میں خریدا جاتا ہے وہ جنوبی افریقہ لے جا کر اڑھائی کروڑ روپے میں بیچا جاتا ہے۔

بین الاقوامی میڈیا، میڈیکل مطبوعات اور دیگر رپورٹوں سے جمع کی گئی معلومات کی بناءپر مزید بتایا گیا ہے کہ بلیک مارکیٹ میں گردہ بیچنے والے کو اوسطاً تقریباً پانچ لاکھ روپے مل سکتے ہیں جبکہ گردہ خریدنے والے کو اوسطاً تقریباً ڈیڑھ کروڑ روپے ادا کرنے پڑتے ہیں۔ اس دھندے میں ایجنٹ کا کام کرنے والے اوسطاً تقریباً 50ہزار سے ایک لاکھ روپیہ لیتے ہیں۔

مختلف ممالک کی بات کی جائے تو گردے کی خریداری مصر میں 20 ہزار ڈالر، چین میں 47ہزار ڈالر ، اسرائیل میں سوا لاکھ ڈالر جبکہ سنگاپور میں 3لاکھ ڈالر میں ممکن ہوتی ہے۔ سعودی عرب میں گردے کے خریدار کو اوسطً 16ہزار ڈالر ادا کرنا پڑتے ہیں جبکہ بھارت میں لوگ تقریباً ڈیڑھ لاکھ روپے میں گردہ بیچ دیتے ہیں۔

مزید : ڈیلی بائیٹس /بین الاقوامی