وزیر اعلیٰ سندھ کو ماہانہ 10 سے 15 ارب روپے کے بدلے وزارت ملی، نون لیگ کے 35 اراکین صوبائی اسمبلی حکومت کاساتھ دینے کے لیے تیار ہیں:نعیم الحق

وزیر اعلیٰ سندھ کو ماہانہ 10 سے 15 ارب روپے کے بدلے وزارت ملی، نون لیگ کے 35 ...
وزیر اعلیٰ سندھ کو ماہانہ 10 سے 15 ارب روپے کے بدلے وزارت ملی، نون لیگ کے 35 اراکین صوبائی اسمبلی حکومت کاساتھ دینے کے لیے تیار ہیں:نعیم الحق

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے سیاسی امور نعیم الحق نے دعوی کیا ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے تمام اراکین ہی بدعنوان ہیں اور وزیر اعلی سندھ سید مراد علی شاہ کو 10 سے 15 ارب روپے ماہانہ کے بدلے وزارت ملی، احتجاج کرنا تمام جماعتوں کا آئینی حق ہے اور ہم نے کسی کو احتجاج کرنے سے نہیں روکا، اگر حزب اختلاف نے قانون توڑا تو قانون حرکت میں آئے گا، ارشد ملک کی ویڈیو پر عدلیہ کو تحقیقات کرنی چاہیے،شہباز شریف اور حمزہ شہباز کبھی بھی مریم نواز کی قیادت کو تسلیم نہیں کریں گے،مسلم لیگ نون کے اراکین صوبائی اسمبلی اپنی پارٹی سے مایوس ہو چکے ہیں اور ہمارا ساتھ دینے کے لیے تیار اراکین کی تعداد تقریبا 35 ہے،ان میں سے 15 نے وزیر اعظم سے ملاقات کی اور بغیر کسی شرائط کے اپنے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے۔نجی ٹی وی کو خصوصی انٹرویومیں نعیم الحق نے کہا کہ گزشتہ 40 سال میں مسلم لیگ نون نے سیاست کو مکمل طور پر بدعنوان کر دیا، نواز شریف نے سال 1987 میں ہی ملک کے خلاف سازشیں شروع کر دی تھیں،دونوں بڑی جماعتوں نے بے انتہا بدعنوانی کی اور سال 1998 تک انہوں نے اپنی تجوریاں بھریں،پاکستان کی سیاست کو اتنا زہر آلود بنا دیا گیا ہے کہ اس کی صفائی کرنے میں پی ٹی آئی کی حکومت کو دشواریاں پیش آ رہی ہیں۔نعیم الحق نے کہا کہ ارشد ملک کی ویڈیو پر عدلیہ کو تحقیقات کرنی چاہیے،ملک میں پہلی بار قانون کی حکمرانی ہم لے کر آئے ہیں اور ہر شخص قانون کے تابع ہے،تحریک انصاف کا مشن ہے کہ قومی زندگی کے ہر شعبہ میں ہر انسان کو انصاف میسر ہو۔انہوں نے کہا کہ شہباز شریف اور حمزہ شہباز کبھی بھی مریم نواز کی قیادت کو تسلیم نہیں کریں گے اور سچ کو کبھی دبایا نہیں جا سکتا، نیب آزاد ادارہ ہے،ہم چاہتے ہیں ملکی ادارے مضبوط ہوں لیکن کوئی بھی ٹیپ ملک کا مسئلہ نہیں ہے، اس لیے اس کے پیچھے اپنا وقت ضائع نہیں کرنا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ حکومتی ترجیحات سب سے اہم ہونی چاہیے ،ہمارے پاس قرض اتارنے کے لیے رقم نہیں ہے ،جب ہم حکومت میں آئے تو تمام ادارے مفلوج تھے لیکن پی ٹی آئی نے انتہائی محنت سے ملکی کو دیوالیہ ہونے سے بچایا۔ نعیم الحق نے کہا کہ ہمیں گزشتہ حکومتوں کے قرضے اتارنے کے لیے مجبورا قرضے لینے پڑے،ابھی تو ہم صرف قرضے ہی اتار رہے ہیں،ماضی کی حکومتوں نے روزانہ سات ہزار ارب روپے قرضہ لیا، ہم صحت اور رہائش کے لیے انقلابی اقدام اٹھا چکے ہیں جس سے جلد عوام استفادہ حاصل کریں گے اور آئندہ چار سال میں ملک میں ترقی کا انقلاب آئے گا،رہائشی سکیم میں ہی صرف ڈیڑھ کروڑ افراد کو روزگار ملے گا۔وزیر اعظم کے معاون خصوصی نعیم الحق  نے کہا کہ سندھ میں کرپشن ہمیشہ کی طرح ریکارڈ توڑ چکی ہے، جہاں پیپلز پارٹی کے تمام اراکین بدعنوان ہیں،موجودہ وزیر اعلی کے بارے میں معلوم ہوا کہ یہ شخص دبئی میں آصف زرداری سے ڈیل کر کے آیا اور وزارت اعلی کے بدلہ 10 سے 15 ارب روپے ماہانہ دینے کا وعدہ کیا تھا،سندھ میں پیپلز پارٹی کے اپنے لوگ پارٹی سے مایوس ہیں جہاں ڈاکوں اور لٹیروں کا کلچر ہے،کراچی میں ضبط کی جانے والی بے نامی جائیدادیں آصف علی زرداری کی ہیں۔نعیم الحق نے کہا کہ حزب اختلاف چیئرمین سینیٹ کو ہٹانے کی کوشش ضرور کر رہی ہے لیکن ابھی تک وہ خود کسی کے نام پر متفق نہیں ہو سکے کہ کون چیئرمین سینیٹ بنے گا؟انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ نون کے رہنما اسحاق ڈار کی جانب سے ڈیل کرنے کے لیے پیغامات آئے ہیں تاہم ہم نے این آر او اور ڈھیل نہ دینے کا اعلان کر دیا ہے۔نعیم الحق نے کہا کہ  عابد شیر علی کے والد نے رانا ثنا اللہ پر 22 افراد کے قتل کا الزام لگایا تھا اور رانا ثنا اللہ کے حلقہ میں مشہور ہے کہ ان کی زندگی انتہائی مجرمانہ ہے، یہ اپنے مخالفین کو قتل کرا دیتے ہیں، ہم بلیک منی کو جلد منظر عام پر لے آئیں گے ،سال 1992 میں نواز شریف نے بلیک منی کو بیرون ملک بھیجنا قانونی بنا دیا تھا۔ 

مزید :

قومی -