مبینہ ویڈیو کا حکومت سے کوئی تعلق نہیں، ویڈیو سچ ثابت ہو ئی تو جج کے خلاف بھی سخت ایکشن لیا جا سکتا ہے:اٹارنی جنرل پاکستان

مبینہ ویڈیو کا حکومت سے کوئی تعلق نہیں، ویڈیو سچ ثابت ہو ئی تو جج کے خلاف بھی ...
مبینہ ویڈیو کا حکومت سے کوئی تعلق نہیں، ویڈیو سچ ثابت ہو ئی تو جج کے خلاف بھی سخت ایکشن لیا جا سکتا ہے:اٹارنی جنرل پاکستان

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)اٹارنی جنرل پاکستا ن انور منصور خان نے کہاہے کہ احتساب عدالت کے جج کی ویڈیو کا حکومت سے کوئی تعلق نہیں، اگر یہ ویڈیو سچ ثابت ہو جاتی ہے تو جج صاحب کی بنائی گئی ویڈیو پران کے خلاف سخت ایکشن لیا جا سکتا ہے، کسی کی خفیہ ویڈیو بنانا اور اس کی اجازت کے بغیر اسے پھیلانا کرائم ہے جو لوگ اس میں شامل ہیں ان کو بھی سزا ہو سکتی ہے۔نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے اٹارنی جنرل پاکستا ن انور منصور خان نے کہا کہ یہ جو ویڈیو آئی اس کا حکومت سے کوئی تعلق نہیں ہے، اس میں جو باتیں کی گئیں ہیں اس میں اس کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس کو سامنے لائے اور اپنے آپ کا سچ ثابت کرے،حکومت چاہے تو یہ حکومت بھی کر سکتی ہے،سائبر سٹاکنگ اس متعلق بھی کرائم ایک موجود ہیں، اس کے حوالے سے جج صاحب بھی یہ سامنے لا سکتے ہیں اور حکومت بھی اس حوالے سے، پہلے کبھی بات نہیں کی گئی کہ جج صاحب کسی سے ملے، جج صاحب نے جو فیصلہ دینا تھا وہ دے دیا۔ انہوں نے کہا کہ جس آدمی نے وہ ویڈیو بنائی ہے و ہ عدالت میں پیش کرے ،اپنے کیمرے کے ہمراہ، اگر یہ نہیں کیا جاتا تو ویڈیو کی تصدیق کرنا مشکل ہوگا کیونکہ اس ویڈیو کو موڈیفائی کرکے ویڈیوز بنائی گئی ہیں جس کے سامنے بنی ہے وہ بھی سامنے ہو،جس کو بھیجی گئی ہے وہ بھی سامنے آئے، یہ وہ چیزیں ہیں  جنہیں سامنے لانا ضروری ہے ،قانون کے مطابق اس ویڈیو کا فرانزک کرا کر ہی پتہ چل سکتا ہے کہ اس میں ایڈیٹنگ ہوئی ہے یا نہیں؟۔ انہوں نے کہا کہ کسی کی خفیہ ویڈیو بنانا اور اس کی اجازت کے بغیر اسے پھیلانا کرائم ہے ، جو لوگ اس میں شامل ہیں ان کو بھی سزا ہو سکتی ہے، اگر یہ ویڈیو سچ ثابت ہو جاتی ہے تو جج صاحب کی بنائی گئی ویڈیو  پران کے خلاف سخت ایکشن لیا جا سکتا ہے۔