ڈی ایچ کیو مظفر گڑھ‘ مشینوں کی خریداری‘ مرمت‘ کمیشن کا چکر پھر شروع

ڈی ایچ کیو مظفر گڑھ‘ مشینوں کی خریداری‘ مرمت‘ کمیشن کا چکر پھر شروع

  

مظفرگڑھ(نامہ نگار) پی ایم اے مظفرگڑھ کے ترجمان ڈاکٹر مقبول عالم نے(بقیہ نمبر45صفحہ12پر)

 بتایا کہ ڈی ایچ کیو مظفر گڑھ کے واحد ڈائیلسز سنٹر میں 21 مشینیں جرمنی کی FERESENIUS کمپنی کی ہیں. جس کو Sole Proprieter ہونے کی وجہ سے ہر سال ٹینڈر کے ذریعے ان مشینوں کی سروس اور repair کا ٹھیکہ ملتا ہے۔ مالی سال 2017۔2018 میں ہسپتال نے 6 نئی مشینیں اور دو RO Plant گورنمنٹ پنجاب کے سنٹرل کنٹریکٹ ریٹ پر خریدے.جو کہ مارکیٹ سے کافی کم ریٹ پر مل گئے.جن کی مالیت تقریبا 49 لاکھ تھی. لیکن اکاونٹ آفس نے ابھی تک ادائیگی نہیں کی. مالی سال 2018۔2019 کے کنٹریکٹ کا بل کی بھی ادائیگی ہونا باقی ہے۔ مالی سال 2016۔ 2017 کا تقریبا 52 لاکھ کا بل بھی باقی تھا۔ بلوں پر اعتراضات بھی درستگی کے ساتھ وقت پر جمع ہو گئے تھے۔ کل ادائیگی تقریبا 2 کروڑ سے زائد کی تھی جس کا پانچ فیصد کے حساب سے اکاونٹ آفس مظفرگڑھ نے 12 لاکھ روپے مبینہ شئیر مانگا. جو کمپنی نے دینے سے انکار کر دیا. چنانچہ 3 سال سے رکے بلوں کی وجہ سے مجبور ہو کر 3 لاکھ کی آفر کر دی لیکن اکاونٹ آفس میں بیٹھے ڈسٹرکٹ اکاؤنٹس آفیسر کا مبینہ ٹاوٹ حنیف راضی نہ ہوا۔ مختلف قسم کے دباؤ پر کمپنی کو سبق سکھانے کے لیے 28 تاریخ کو رات 9 بجکر 50 منٹ پر چیک جاری کیے. لیکن اس وقت بینک نے بل لینے سے انکار کر دیا اور ادائیگی نہیں ہو سکی۔ اب ڈائیلسز سنٹر مظفرگڑھ کی چند مشینیں خراب ہیں۔کمپنی نے رابطہ کرنے پر بتایا کہ اکاونٹ آفس مظفرگڑھ نے ان کے 3 سال کے بلوں کی ادائیگی بروقت نہیں کی لہذا کمپنی اب سنٹرکو سروس نہ دینے کا سوچ رہی ہے اور جو پارٹس جرمنی سے منگوانے ہوتے ہیں, وہاں بھی ڈی ایچ کیو ہسپتال مظفر گڑھ کے لیے ریڈ بلاک Red Block لگا دیا گیا ہے۔ منت سماجت پرکمپنی انسانیت کے نام پر صرف سروس دینے کو تیار ہوئی ہے. صدر مجلس شہریاں ضلع مظفرگڑھ رانا امجد علی امجد ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ اب ان ظالم اکاونٹس آفس والوں سے کوئی پوچھے کہ وحشت اور بربریت کی اور کون کون سی مثال تم بنانا چاہتے ہو۔ گردے فیل ہونے کے بعد خون کے اندر زہریلے مادوں کے بڑھنے سے جب مریض درد ناک کرب میں لمحہ بہ لمحہ بے بسی اور لاچاری سے مر رھا ہوتا ہے اس وقت ڈائیلسز کا یہ عمل ان کے اس روح فرسا درد و اضطراب کے عذاب کو کم کرنے میں کچھ مددگار ہوتا ہے۔ اس سہولت پر بھی کمیشن کھرا کرنا باعث شرم ہے۔ انہوں نے وزیر اعلی پنجاب,کمشنر ڈی جی خان اور ڈپٹی کمشنر مظفرگڑھ سے نوٹس لینے کی اپیل کی ہے. 

مزید :

ملتان صفحہ آخر -