مراد شاہ 20 ارب ماہانہ دینے پر وزیر اعلیٰ بنے،نعیم الحق

  مراد شاہ 20 ارب ماہانہ دینے پر وزیر اعلیٰ بنے،نعیم الحق

  

 اسلام آباد(آئی این پی) وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے سیاسی امور نعیم الحق نے دعوی کیا ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے تمام اراکین ہی بدعنوان ہیں اور وزیر اعلی سندھ سید مراد علی شاہ کو 10 سے 15 ارب روپے ماہانہ کے بدلے وزارت ملی، پیر کو نجی ٹی وی کو خصوصی انٹرویومیں نعیم الحق نے کہا کہ گزشتہ 40 سال میں مسلم لیگ نون نے سیاست کو مکمل طور پر بدعنوان کر دیا۔ نواز شریف نے سال 1987 میں ہی ملک کے خلاف سازشیں شروع کر دی تھیں۔انہوں نے کہا کہ دونوں بڑی جماعتوں نے بے انتہا بدعنوانی کی اور سال 1998 تک انہوں نے اپنی تجوریاں بھریں۔ انہوں نے پاکستان کی سیاست کو اتنا زہر آلود بنا دیا ہے کہ اس کی صفائی کرنے میں پی ٹی آئی کی حکومت کو دشواریاں پیش آ رہی ہیں۔نعیم الحق نے کہا کہ ارشد ملک کی ویڈیو پر عدلیہ کو تحقیقات کرنی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ شہباز شریف اور حمزہ شہباز کبھی بھی مریم نواز کی قیادت کو تسلیم نہیں کریں گے، کوئی بھی ٹیپ ملک کا مسئلہ نہیں، اس کے پیچھے اپنا وقت ضائع نہیں کرنا چاہئے۔ہمارے پاس قرض اتارنے کے لیے رقم نہیں، ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچا یا،مسلم لیگ نون کے اراکین صوبائی اسمبلی اپنی پارٹی سے مایوس ہو چکے ہیں اور ہمارا ساتھ دینے کے لیے تیار ہیں، اراکین کی تعداد تقریبا 35 ہے۔ ان میں سے 15 نے وزیر اعظم سے ملاقات کی اور بغیر کسی شرائط کے اپنے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے۔انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے تمام اراکین بدعنوان، موجودہ وزیر اعلیٰ کے بارے میں معلوم ہوا کہ یہ شخص دبئی میں آصف زرداری سے ڈیل کر کے آیا اور وزارت اعلی کے بدلہ 10 سے 15 ارب روپے ماہانہ دینے کا وعدہ کیا تھا۔نعیم الحق نے دعویٰ کیا کہ سندھ میں پیپلز پارٹی کے اپنے لوگ پارٹی سے مایوس ہیں جہاں ڈاکوں اور لٹیروں کا کلچر ہے۔ کراچی میں ضبط کی جانے والی بے نامی جائیدادیں آصف علی زرداری کی ہیں،انہوں نے کہا کہ اسحاق ڈار کی جانب سے ڈیل کے لئے پیغامات آئے ہیں، نواز شریف کے لیے کہیں سے کوئی سفارش نہیں آئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنا تمام جماعتوں کا آئینی حق ہم نے کسی کو احتجاج کرنے سے نہیں روکا ہے، حزب اختلاف نے قانون توڑا تو قانون حرکت میں آئے گا۔ رانا ثنا  اللہ کے حلقہ میں مشہور ہے کہ ان کی زندگی انتہائی مجرمانہ ہے یہ اپنے مخالفین کو قتل کرا دیتے ہیں۔ 

نعیم الحق

مزید :

صفحہ آخر -