پنجاب کے مدرسوں میں زیادہ تر غیر ملکی طالب علم بغیر ویزہ قیام پذیر

  پنجاب کے مدرسوں میں زیادہ تر غیر ملکی طالب علم بغیر ویزہ قیام پذیر

  

اسلام آباد (آن لائن)پنجاب میں 300 سے زائد غیر ملکی طالب علموں میں سے 286 ویزے کی مدت ختم ہونے کے باوجود مدرسوں میں قیام پذیر اور تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔حکام نے مدرسوں کی انتظامیہ کو ان کی دستاویزات وزارت داخلہ ارسال کرنے کی ہدایت کردی تاکہ وہ کسی بھی قسم کی قانونی کارروائی سے بچ سکیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق بھارت، چین، چاڈ، سری لنکا، ایتھوپیا، الجزائر، یوگنڈا، کوموروس، اردن، سینیگال، لیبیریا اور میانمار سمیت 26 ممالک سے 302 طالب علم پنجاب میں موجود ہیں جن کے ویزا کے حوالے سے معلومات اسپیشل برانچ کے فیلڈ اسٹاف کی غیر ملکی طالب علموں پر معمول کی چیکنگ کے دوران انکشاف ہوا۔فیلڈ اسٹاف کو معلوم ہوا کہ 286 طالب علموں کے ویزا کی مدت پوری ہوچکی ہے اور وہ اب بھی ملک میں بغیر قانونی دستاویزات کے قیام پذیر ہیں۔ان تمام غیر ملکی طالب علموں میں سے 20 صرف راولپنڈی میں قیام پذیر ہیں جن میں 12 تھائی لینڈ، 2 ملائیشیا، 2 چین، ایک قازقستان اور ایک فلپائن کا رہائشی ہے۔9غیر ملکی طالب علم ضلع گوجرانوالہ میں موجود ہیں، جن میں سے 4 کے پاس ویزا ہے جبکہ اٹک میں 5 مدرسوں میں تمام غیر ملکی طالب علموں کے پاس ویزا نہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ غیر ملکی طالب علموں کے ویزے کی مدت زیادہ سے زیادہ 2023 تک ہے۔زائد المیعاد ویزا والے طالب علموں میں سے 70 تھائی لینڈ، 55 فلپائن، 31 انڈونیشیا، 20 ملائشیا، 20 سوڈان، 20 چین، 14 قازقستان، 14 چاڈ اور 11 الجزائر کے رہائشی شامل ہیں جبکہ 3 بھارتی شہری بھی زائدالمیعاد ویزا کے ساتھ لاہور میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔اسپیشل برانچ نے تمام مدرسوں سے غیر ملکی طالب علموں کے دستاویزات وزارت داخلہ بھیجنے کی ہدایت کی تاکہ ان کے ویزا میں توسیع دی جاسکے۔ضلعی پولیس نے مدرسوں کی انتظامیہ سے غیر ملکی طالبعلموں کی سیکیورٹی اور ان کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے کے لیے تعاون کی ہدایت کی۔سینیئر سیکیورٹی حکام کے مطابق اسٹوڈنٹ ویزے وزارت داخلہ اور وزارت تعلیم کو موصول ہونے والی درخواستوں کے بعد جاری کیے جاتے ہیں، اس طرح کے ویزے متعلقہ وزارتوں کی جانب سے سیکیورٹی کلیئرنس کے بعد جاری کیے جاتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ جب غیر ملکی طالب علموں کی ویزا مدت ختم ہوجاتی ہے تو مدرسے کی انتظامیہ کی جانب سے وزارت داخلہ کو اس میں توسیع کی درخواست بھیجی جاتی ہے۔

مدرسے

مزید :

صفحہ آخر -