سری نگر،شہید برہان وانی کی تیسری برسی پر وادی میں کرفیو،موبائل اور انٹرنیٹ سروس معطل

  سری نگر،شہید برہان وانی کی تیسری برسی پر وادی میں کرفیو،موبائل اور ...

  

سری نگر،اسلام آباد(سٹاف رپورٹر) مقبوضہ جموں کشمیرمیں بھارتی فورسزکے ہاتھوں شہید ہونیوالے کشمیری نوجوان شہیدبرہان وانی کی تیسری برسی پر قابض بھارتی فوج نے اپنے مظالم کے خلاف احتجاج روکنے کیلئے پوری وادی کو فوجی چھاؤنی میں تبدیل کردیا،ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل نے کشمیری مجاہد برہان وانی کی تیسری برسی پر انہیں خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ کشمیریوں کی حق خود ارادیت کی جدوجہد بھارتی مظالم میں شدت کے باوجود جاری ہے،حریت قیادت کی کال پروادی بھرمیں مکمل ہڑتال جب کہ کٹھ پتلی انتظامیہ نے موبائل اورانٹرنیٹ سروس معطل کر دی،بھارتی فوج نے مقبوضہ وادی میں کرفیو نافذ کرتے ہوئے قبرستان کو بھی سیل کردیا۔کشمیر میڈیا سروس کے مطابق شہید کمانڈر برہان وانی کی تیسری برسی پر انہیں خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے حریت قیادت نے ہڑتال اور مظاہروں کی کال دی جس کے بعد وادی میں قابض بھارتی فوج نے مکمل شٹ ڈا ؤن کرکے کرفیو نافذ کررکھا ہے،شہید برہان وانی کی برسی کی مناسبت سے وادی بھر میں شہید کی تصویریں اور پوسٹر لگائے گئے ہیں جب کہ بوکھلاہٹ کا شکار بھارتی فورسز نے پوسٹر لگانے کے الزام میں دو نوجوانوں کو گرفتار کرلیا۔میڈیا رپورٹس کے مطابق مقبوضہ وادی میں بھاری تعداد میں پولیس اور فوج کی نفری تعینات ہے جب کہ اسلام آباد، پلوامہ، کلگام اور شوپیاں میں انٹرنیٹ سروس بند ہے۔قابض انتظامیہ نے برہان وانی کے گھر اور ترال میں واقع شریف آباد کے قبرستان کو بھی سیل کررکھا ہے جب کہ برہان وانی کے گھر جانے والے راستوں کو بھی کنٹینر لگا کر بند کیا گیا ہے۔دوسری طرف ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل نے کشمیری مجاہد برہان وانی کی تیسری برسی پر انہیں خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ کشمیریوں کی حق خود ارادیت کی جدوجہد بھارتی مظالم میں شدت کے باوجود جاری ہے۔بھارتی فوج کے ہاتھوں شہید ہونے والے کشمیری نوجوان برہان وانی کے تیسرے یوم شہادت پر ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا کہ چلے گئے لیکن بھولے نہیں۔ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ برہان وانی کے یوم شہادت پر مقبوضہ کشمیر میں مکمل ہڑتال ہے، کشمیریوں کی حق خود ارادیت کی جدوجہد بھارتی مظالم میں شدت کے باوجود جاری ہے۔

مقبوضہ کشمیر

مزید :

صفحہ آخر -