ویڈیو سچی ثابت ہوئی تو نواز شریف کا فیصلہ بدل سکتا ہے، اعتزاز

  ویڈیو سچی ثابت ہوئی تو نواز شریف کا فیصلہ بدل سکتا ہے، اعتزاز

  

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر) پاکستان پیپلزپارٹی کے سینئر رہنما اور معروف قانون دان اعتزاز احسن نے احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کی ویڈیو ، آڈیو معاملے کو قطری خط سے بھی زیادہ سنجیدہ قرار دیتے ہوئے مریم نوازپر زور دیا کہ وہ و خود ہی ویڈیو کا فرانزک کرائیں اور اسے عدالت میں پیش کریں ، مجھے حیرانی ہے کہ (ن) لیگ اب تک کیوں ویڈیو عدالت نہیں لے گئی ، لگتا ہے کہ عدالت انتظار کرے گی کہ مریم نواز انہیں وہ ویڈیو پیش کرے ، اصل ثبوت کے بغیر عدالت کوئی فیصلہ نہیں کرسکتی، اگر یہ چاہتے ہیں کہ فیصلہ عدالت کرے تو اس کےلئے ان کے پاس ویڈیو بھی پہنچانا ضروری ہے، اس سے تمام عدالتی عمل پر سوال اٹھتا ہے ، اگر یہ ثابت ہوتا ہے کہ ویڈیو درست ہے تو نوازشریف کا فیصلہ بھی بدلنا چاہیے،پنجاب بار کونسل نے بھی جج کی ویڈیو پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور اس معاملے پر چیف جسٹس پاکستان سے انکوائری کرانے کا بھی مطالبہ کیا ہے ۔ پیر کو نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے اعتزاز احسن نے کہا کہ مریم نواز سے پہلا سوال یہی بنتا ہے کہ اصل ویڈیو کہاں ہے، ویڈیو ریکارڈنگ کرنے والے کوبھی تصدیق کے لیے پیش ہونا ہوگا ۔ اعتزاز احسن نے کہا کہ بنیادی ثبوت ہو تو ثانوی ثبوت پیش نہیں کیا جاسکتا، ویڈیو کی فرانزک مریم نواز کو کرانی چاہئے، قانونی طور پر صرف ویڈیو نہیں کیمرا بھی پیش کرنا پڑے گا ۔ انہوں نے کہا کہ مریم نواز کو تو ویڈیو کی فرانزک کے لیے بے تاب ہونا چاہئے تھا، ویڈیو دکھائی تو ساتھ میں فرانزک کی درخواست بھی ہونی چاہئے تھی ۔ اعتزاز احسن نے کہا کہ یہ مذاق نہیں ہے قطری خط سے بھی زیادہ سنجیدہ معاملہ ہے، اعتزاز احسن نے کہا کہ ویڈیو کا فرانزک اس وقت ہوگا جب کوئی اصل ویڈیو پیش کرے گا ، مریم بی بی اگر چاہتی ہیں تو عدالت میں پیش کریں یا حکومت کو دیں ۔ مریم نواز یہ ویڈیو سپریم کورٹ یا اسلام آباد ہائیکورٹ کو بھی جمع کروا سکتی ہیں ، میں نے بھی سنا ہے کہ حکومت نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ وہ ویڈیو کا فرانزک آڈٹ نہیں کرائے گی، اگر یہ چاہتے ہیں کہ فیصلہ عدالت کرے تو اس کےلئے ان کے پاس ویڈیو بھی پہنچانا ضروری ہے ۔ اعتزاز احسن نے کہا کہ مریم نواز ،یہ ایک بہت سنجیدہ معاملہ ہے اس سے تمام عدالتی عمل پر سوال اٹھتا ہے ، اگر یہ ثابت ہوتا ہے کہ ویڈیو درست ہے تو نوازشریف کا فیصلہ بھی بدلنا چاہیے ، ویڈیو چاہے مریم نواز ہ میں ہی پیش کردیں اس کا فرانزک آڈٹ بہت ضروری ہے ، اس پر سپریم کورٹ نوٹس بھی لے سکتی ہے ۔ کیونکہ تین دفعہ کے وزیراعظم کی سزا کا معاملہ ہے اس لئے الزامات لگانے والے کو سچ ثابت کرنا ہوگا ۔

اعتزاز احسن

مزید :

صفحہ اول -