ایران کی مخالفت میں یورپ، امریکا ایک پیج پر، سنگین نتائج کی دھمکیاں

ایران کی مخالفت میں یورپ، امریکا ایک پیج پر، سنگین نتائج کی دھمکیاں

  

واشنگٹن(آئی این پی)ایران کی جانب سے کسی بھی سطح پر کسی بھی مقدار میں یورینیم افزودہ کرنے پر تیار ہونے کے فیصلے کو بین الاقوامی سطح پر مذمت کا سامنا ہے۔ تمام فریق اس امر پر بھی اتفاق رائے رکھتے ہیں کہ تہران کو کسی بھی قسم کے جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکے جانے کی ضرورت ہے۔ ایران کے حالیہ فیصلے نے تہران اور واشنگٹن کے درمیان کشیدگی کی شدت میں اضافہ کر دیا ہے۔اس سلسلے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ یورینیم کی افزودگی کی سطح بڑھانے سے متعلق ایرانی اعلان پر اپنے پہلے تبصرے میں ایک بار پھر یہ موقف دہرا چکے ہیں کہ تہران کے لیے ایٹمی ہتھیاروں کا حصول کبھی ممکن نہیں ہو گا۔ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ "ایران کو چاہیے کہ خبردار رہے، وہ ایک ہی وجہ سے یورینیم افزودہ کر رہا ہے۔ میں یہ نہیں بتاں گا کہ وہ سبب کیا ہے مگر یہ اچھا نیں ہے، بہتر ہے کہ وہ خبردار رہیں۔ادھر یورپ کی جانب برطانیہ نے زور دیا ہے کہ ایران کو ایٹمی طاقتوں کے کلب سے باہر رکھنے پر کام کرنا فرانس اور جرمنی کے لیے بھی اولین ترجیحات میں سے ہے۔

برطانیہ کے مطابق وہ اس بات کی تصدیق کے لیے کوششیں کر رہا ہے ایران 2015 میں طے پائے گئے جوہری معاہدے پر کاربند رہے۔برطانوی وزیر خارجہ جیرمی ہنٹ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ایران کا جوہری ہتھیار حاصل کرنا مشرق وسطی کے لیے انتہائی خطرناک ہو گا۔

مزید :

علاقائی -