ٹیکس وصول کرنے کا نظام

ٹیکس وصول کرنے کا نظام
ٹیکس وصول کرنے کا نظام

  

وزیراعظم کے مشیر امور خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے وزارت خزانہ میں وزیر مملکت ریونیو حماد اظہر، چیئرمین ایف بی آر شبر زیدی اور سیکرٹری خزانہ نوید کامران بلوچ کے ساتھ اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ ٹیکس ایمنسٹی اسکیم سے ایک لاکھ 37 ہزار افراد نے استفادہ کیا، 3 ہزار ارب روپے سے زائد کے غیر ظاہر شدہ اثاثہ جات ڈکلیئر ہوئے اور کالے دھن کو سفید کیا گیا اور 70 ارب روپے سے زائد کا ٹیکس ریونیو حاصل ہوا، ایک لاکھ 37 ہزار میں سے ایک لاکھ سے زائد وہ افراد ہیں جو پہلے ٹیکس نظام میں نہیں تھے اور نان فائلرز تھے۔ تازہ ٹیکس ایمنسٹی اسکیم سے فائدہ اٹھانے والوں میں کراچی اور لاہور اب بھی سر فہرست ہیں جیسا کہ مقامی ایمنسٹی کے محاذ پر تقریباً 70 فیصد افراد ملک کے ان دو بڑے شہروں سے تعلق رکھتے ہیں۔ مسلم لیگ نون کی سابقہ حکومت کے درمیان متعارف کرائی گئی گزشتہ ایمنسٹی میں کراچی اور لاہور سے تقریباً 90 فیصد افراد نے ایمنسٹی اسکیم سے فائدہ اٹھایا تھا جن میں سے 60 فیصد افراد کا تعلق کراچی اور 30 فیصد کا تعلق لاہور سے تھا۔ بقیہ پاکستان سے 10 فیصد نے گزشتہ ایمنسٹی سے فائدہ اٹھایا تھا۔ایف بی آرنے ایمنسٹی اسکیم سے 54.7 ارب روپے جمع کرلئے ہیں اور اسے توقع ہے کہ ایمنسٹی اسکیم کے ذریعے مجموعی رقم 70 ارب روپے کو چھونے لگے گی۔

ایمنسٹی اسکیم کے بعد نئے ٹیکس کی تعداد میں اضافہ بھی ہوا ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ دنیا بھر میں حکومتیں ٹیکس وصولی سے ہونے والی آمدنی سے ہی نظام مملکت چلا تی ہیں۔ جب یہ طے ہوجائے کہ بیرونی اداروں سے قرضہ نہیں لینا ہے تو ٹیکس وصولی کو بہتر کرنا اور نئے ٹیکس دہندگان کی تلاش ضروری ہوجاتی ہے۔ پاکستان بین الاقوامی اداروں سے قرضے حاصل کرنے کے بعد بہت زیادہ مشکل صورت حال سے دوچار ہے۔ یہ دوچار دن یا فوری ختم ہونے کی نہیں ہے لیکن اسے ختم کرنے کے لئے جہد مسلسل کی ضرورت ہوگی۔

پاکستان کے عام کاروباری لوگوں میں ٹیکس ادا کرنے کی خواہش موجود ہے۔ وہ ٹیکس ادا کرنا چاہتے ہیں، اس بات کے باوجود کہ حکومت کو عوام کے لئے جو سہولتیں پیدا کرنا ہیں وہ اس میں کامیاب نہیں ہوتی ہے۔ تعلیم علاج پینے کا صاف پانی و دیگر بنیادی ضرورتیں جن کی فراہمی ہر حکومت کی ذمہ داری ہوتی ہے، عوام اس سے محروم ہی رہتے ہیں۔ ایف بی آر کو سر دست ایسے افراد کو ٹیکس نیٹ میں لانا چاہئے یا ان سے ٹیکس کی وصولی کو بہتر کرنا چاہئے جو خاصے پیسے کمانے کے باوجود کم سے کم ٹیکس ادا کرنے کی خانہ پری کرتے ہیں۔ ایسے افراد اور کاروباری اداروں سے ٹیکس وصولی کو بہتر کرنا چاہئے۔ نئے ٹیکس دہندگان کی تلاش کو موخر کرنا چاہئے۔

پاکستان میں حکومتی ادارے ٹیکس وصولی میں کامیاب کیوں نہیں ہوتے ہیں حالانکہ عام کاروباری لوگ بھی ادائیگی میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ ٹیکس وصول کرنے کے نظام کی خامیاں ہیں۔ ٹیکس ریٹرن فارم اتنا پے چیدہ ہے کہ چھوٹے ٹیکس دہندگان اس فارم کو دیکھ کر ہی گھبرا جاتے ہیں۔ اتنا پے چیدہ فارم ہے کہ اسے بھرنا عام شخص کے بس سے باہر ہو تا ہے۔ اسے ٹیکس وکیل کی خدمات حاصل کرنا پڑتی ہیں۔ ٹیکس وکیل اپنی خدمات کا معاوضہ وصول کرتے ہیں جوعام کاروباری شخص کے لئے ممکن نہیں ہوتا ہے۔ جتنا ٹیکس اتنا ہی وکیل کی خدمت کا معاوضہ۔ لاکھوں کروڑوں کا کاروبار کرنے والوں کے لئے تو بہتر ہوتا ہے کہ وہ وکیل کی خدمات حاصل کریں اور فارم بھر لیں لیکن ایک عام کاروباری شخص جس کی آمدنی اگر چند لاکھ روپے سالانہ میں ہے تو وہ کیوں کر وکیل کی خدمات حاصل کرے اور اس کا معاوضہ بھی ادا کرے۔ آسان ترین فارم ہو جس میں بنیادی معلومات درج کرائی جائیں۔ سال کی کل آمدنی، سال کا خرچ، اور سال کی بچت درج ہونا چاہئے۔ اس بچت پر ہی تو ٹیکس لگانا ہوتا ہے۔ یہ اکثریت کا معاملہ ہے۔ بڑے ادارے ہوں یا کاروباری افراد، ان کا معاملہ الگ ہے اور وہ وکیل کی خدمات اسی لئے حاصل کرتے ہیں کہ ان کی آمدنی اور اخراجات کی تفصیل درج کرنا ہوتی ہیں۔

ایف بی آر میں سینکڑوں اہل کاروں کو ایک شہر سے دوسرے شہر تبادلہ بھی کیا گیا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایف بی آر سہولت کار دفتر کے طور پر کیوں کام نہیں کر سکتا۔ کم آمدنی یا چھوٹے کاروباری لوگوں کو ایف بی آر میں یہ سہولت حاصل ہونا چاہئے کہ وہ آسان ترین فارم بھر دیں اور ایف بی آر میں جمع کرادیں۔ ایف بی آر کے سہولت کار اس فارم کا جائزہ لیں اور ٹیکس کا حساب لگا کر واپس کردیں۔ آمدنی کی ایک مقررہ رقم کی حد تک ٹیکس کی شرح ایک کر دی جائے اور کسی پوچھ گچھ کی بجائے وہ رقم وصول کر لی جائے،تاکہ عام لوگ ٹیکس ادا کرنے کی طرف مائل ہو سکیں۔ بنک میں جہاں ٹیکس جمع کرنا ہوتا ہے، قطار میں کھڑا کر دیا جاتا ہے۔ بار بار یہ کہا جاتا ہے کہ سسٹم کام نہیں کر رہا ہے۔ اگر بنک کا سسٹم کام نہیں کر رہا ہوتا ہے تو کسی دوکاندار یا کاروباری شخص کا کیا قصور کہ وہ اپنا کاروبار بند کر کے کئی کئی گھنٹے قطار میں کھڑا رہے۔ بعض اوقات تو بنک والے کہتے ہیں کہ کل آنا۔ کیا یہ ہی ٹیکس وصول کرنے کا طریقہ ہونا چاہئے۔ ایف بی آر کو اپنے دفاتر میں پائی جانے والی خامیوں کو بھی درست کرنے کی ضرورت ہے۔ اس کے بغیر نئے ٹیکس دہندگان کی تلاش ہوجانے کے بعد بھی مقصد حاصل نہیں ہو سکے گا۔

مزید :

رائے -کالم -