ٹیکس لینے کا آسان نسخہ

ٹیکس لینے کا آسان نسخہ
ٹیکس لینے کا آسان نسخہ

  


گزشتہ روز سی بی آر کے چیئرمین شبر زیدی نے ایک ایسی بات کی ہے جس پر مَیں سال ہا سال سے بات کر رہا ہوں اور وہ ہے فکسڈ ٹیکس کی، گو کہ شبر زیدی نے صرف چھوٹے دکانداروں پر ہی فکسڈ ٹیکس کی بات کی ہے، لیکن کم از کم ارباب اختیار کو یہ سمجھ تو آئی ہے کہ موجودہ ملکی حالات میں لوگوں سے ٹیکس لینے کا سب سے بہتر اور آسان طریقہ یہی ہے۔ پاکستان ایک ایسا ملک ہے۔ جہاں پر کوئی بندہ خوشی سے ٹیکس دینے کے لئے تیار نہیں ہے……(شاید دوسرے ممالک میں بھی زیادہ لوگ خوشی سے ٹیکس نہیں دیتے، بلکہ وہاں کے نظام میں جکڑے ہوئے ہیں، اس لئے ٹیکس دینا مجبوری ہے) …… پاکستان جیسے ملک جہاں لوگ پیسہ وہاں دیتے ہیں جہاں سے فوری فائدہ ملتا نظر آئے، عزت بنتی ہو یا پھر آخرت سنوارنے کی قوی امید ہو۔ ہمارے لوگ مساجد میں پیسہ دیتے ہیں، عمرہ کرنے پر پیسہ لگاتے ہیں، خیرات بھی دیتے ہیں۔ رشوت دیتے ہیں اور سیاستدانوں کو مالی مدد دیتے ہیں، لیکن ٹیکس دینے سے گریزاں ہیں۔ بلکہ الٹا جہاں بھی موقع ملے ریاستی مال یا اثاثے لوٹنے کی کوشش کرتے ہیں۔

عام آدمی کے خیال میں حکومتی خزانہ(اصل میں ریاستی خزانہ) لوٹنے کو جرم ہی تصور نہیں کرتے،لہٰذاان حالات میں سب سے بہتر طریقہ یہی ہے کہ ملک میں فکسڈ ٹیکس کا نظام متعارف کروایا جائے، لیکن اس کے لئے بھی ایک موثر اور ہر طرح کی بددیانتی سے پاک نظام اور منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔ ہمارے معاشرے کا یہ المیہ رہا ہے کہ کوئی بھی کام کرتے وقت منصوبہ بندی کا فقدان ہوتا ہے۔ اس وقت ملک میں سیاسی افراتفری اور معاشی بدحالی اپنی آخری حدوں کو چھونے لگی ہیں، اس لئے ہر کام سوچ سمجھ کر کرنے کی ضرورت ہے۔ ایسے میں سب سے اہم کام ریوینو اکٹھا کرنا اور ملک کو قرضوں کے بوجھ سے نکالنا ہے۔ حکومتی ذرائع کے مطابق ٹیکس ایمنسٹی سکیم دینے اور دوسرے کئی اقدامات کے بعد جا کر کہیں دو ملین لوگ ٹیکس نیٹ ورک میں شامل ہوئے ہیں اور یہ 10 فیصد بھی نہیں بنتے، جبکہ سڑکوں پر گاڑیاں، ہوٹلوں اور ریستورانوں پر رش، عمرہ کرنے والوں کی تعداد اور بازاروں میں خریداروں کو دیکھ کر یہ اندازہ ہوتا ہے کہ اس ملک میں ٹیکس دہندگان کی تعداد کروڑوں میں ہونی چاہیے۔ نجی تعلیمی اداروں میں بچوں کی تعداد دیکھ کر بھی یہ ملک غریب نہیں لگتا۔ ابھی حال ہی میں حکومت نے دو لاکھ یا اس سے زائد سکول فیس دینے والوں اور قربانی کے مہنگے جانور خریدنے والوں کی آمدنی کا کھوج لگانے کا بھی عندیہ دیا ہے۔ حکومت کا یہ اقدام درست ہے۔ اس سے نہ صرف ٹیکس وصولی میں مدد ملے گی،بلکہ بدعنوانی کے سدباب کا بھی موقع ملے گا، کیونکہ کئی سرکاری افسران اپنے بچوں کی تعلیم پر جو خرچ کر رہے ہیں، وہ ان کی تنخواہوں سے مطابقت نہیں رکھتا۔

سب سے بہتر اور آسان یہ ہے کہ بڑے شہروں کو مختلف زونز میں تقسیم کر کے تمام دکانداروں اور کاروباری حضرات کی رجسٹریشن کی جائے،ان کا ریکارڈ کمپیوٹرائز کیا جائے اور ان کی سیل اور متوقع آمدنی پر فکسڈ ٹیکس لگا دیا جائے جو وہ سال میں دو یا تین قسطوں میں سی بی آر کے اکاؤنٹ میں خود جمع کروا دیں۔ نہ کوئی ٹیکس اہلکار ان کے پاس جائے،نہ کسی رشوت یا سفارش کا چکر ہو۔ بیشک ٹیکس لینے کا تناسب معمولی ہو،لیکن اس میں زیادہ سے زیادہ لوگ شامل ہوں اور ہر آدمی کو ٹیکس دینے کی عادت پڑے۔ تمام ٹیکس دہندگان کو ایک نمبر جاری کر دیا جائے یا ان کے شناختی کارڈ کے نمبر کو ہی ان کا ٹیکس نمبر قرار دیا جائے جس کو وہ ٹیکس ادائیگی کے ساتھ شناخت کے لئے لکھ دیں۔ اس طرح ٹیکس دینے والوں کے لئے کوئی مشکل ہوگی، نہ ٹیکس لینے پر بہت زیادہ اخراجات آئیں گے، جبکہ ٹیکس بھی زیادہ اکٹھا ہوگا۔

.

فکسڈ ٹیکس لگ جانے کے بعد جو لوگ وقت پر ٹیکس جمع نہیں کروائیں گے، ان سے اضافی ٹیکس کے ساتھ وصولی کا فول پروف نظام متعارف کروایا جائے جس میں کاروبار یا جائیداد کی ضبطی بھی ہو سکتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ٹیکس دہندگان کو کچھ مراعات دینے کا بھی اعلان کیا جائے۔ ان کے کاروبار کی انشورنس ہو یا کوئی دوسری مراعات جس سے لوگوں میں دلچسپی پیدا ہو۔ جس معاشرے میں اچھے اور برے کی تمیز ختم ہو جاتی ہے، وہاں بروں کی تعداد میں ہوشربا اضافہ ہو جاتا ہے، اس لئے ٹیکس دینے والوں کی پہچان اور ان کو مراعات دینے کے اقدامات ٹیکس دہندگان کی تعداد میں اضافے کا باعث بنیں گے۔ایمنسٹی سکیم کے بعد جس طرح حکومت نے بے نامی جائیدادیں ضبط کرنے اور ٹیکس چوروں کے گرد گھیرا تنگ کرنا شروع کیا ہے، اگر اس پر بلا تخصیص اور بلا تاخیر عملدرآمد کروایا گیا اور سب سے پہلے بڑی مچھلیوں پر ہاتھ ڈالا گیا تو پھر ٹیکس چوروں میں نمایاں کمی آئے گی۔ یاد رہے کہ سزا و جزا دونوں ساتھ ساتھ چلنی چا ہئیں،لوگوں کی تربیت اور قانون پر سختی سے عملدرآمد سے ہی لوگوں میں یقین پیدا ہوتا ہے۔

مزید : رائے /کالم