ذریعہ تعلیم کا مسئلہ اور اردو زبان

ذریعہ تعلیم کا مسئلہ اور اردو زبان

پروفیسر وارث میر کو ہم سے جدا ہوئے 32 برس بیت گئے،لیکن آج بھی جب کبھی ان کی فکر انگیز تحریروں کو جو وہ اپنے عہد میں رقم کر چکے، پڑھا جائے تو ایک زیرک قاری سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ پروفیسر وارث میر نے اپنی تحریروں کے ذریعے اس قوم اور معاشرے کے لئے اہم کردار ادا کئے۔ ان کی تحریریں آج بھی ہمیں ایک استاد، دانشور، مفکر، محقق، باضمیر تاریخ دان اور بے باک صحافی کی یاد دلاتی ہیں۔ پروفیسر وارث میر نے کبھی اپنی صداقت کا اور نہ ہی اپنے ضمیر کا سودا کیا اور ہر ناانصافی کے سامنے سینہ سپر رہے۔ ان کا یہی مضبوط کردار آج بھی ان کے چاہنے والوں کے دلوں میں باقی ہے۔ نا صرف بحیثیت ایک استاد وہ اپنے شاگردوں کو مسلمانوں اور پاکستان کی اصل تاریخ سے آگاہ کرتے رہے بلکہ بطور صحافی بھی انھوں نے اپنی قوم کے لئے ایک راہنما کا کردار ہی ادا کیا۔ پروفیسر صاحب نے اس دنیا میں بہت کم عرصہ گزارہ، لیکن اس کے باوجود وہ اپنی تحریروں میں راہنمائی اور فکر کا وہ خزانہ چھوڑ گئے جس کو اگر آج بھی پڑھا جائے توتحقیق کی گہرائی اور دوراندیشی کا واضح اندازہ ہو جاتا ہے۔

ان کی تحریریں قاری کو اس عنوان کی تاریخ سے لے کر موجودہ دور تک لے آتی ہیں۔ اور یہ حقیقت ہے کہ پروفیسر وارث میر کی تحریروں میں ہمیں تاریخ اسلام، سیاست، ثقافت، تاریخ، علماء انسانی حقوق، فلسفہ،ادب، تعلیم غرض کون سا موضوع ہے جس پر فکر انگیز تحریر نہیں ملتی۔ اور دور حاضر میں ان تحریروں کوپڑھ کر قاری یہ سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ اس قوم کے مسائل کب حل ہوں گے؟ پروفیسر وارث میر صاحب کی پرتحقیق تحریروں میں جہاں ہمیں سیاسی، سماجی، معاشی، ریاستی مسائل کا ذکر اور ان کا حل ملتا ہے ان ہی میں بطوراستاد اور محقق انہوں نے پاکستان کے ایک ایسے بنیادی مسئلہ کا بار بار ذکر کیا جو اس ملک کے وجود میں آنے سے لے کراب تک گزشتہ 72سالوں میں حل نہیں ہو سکا۔ یہ بڑے دکھ اور افسوس کی بات ہے کہ قیام پاکستان سے لے کر آج تک کئی جمہوری اور فوجی حکومتیں قائم ہوئیں، لیکن کسی بھی حکومت نے پاکستانی شہریوں کے بنیادی ذریعہ تعلیم کے حق کے لئے کوئی دیرپا اور ٹھوس اقدامات نہ کئے۔۔حالانکہ آئین پاکستان کے مطابق اعلٰی تعلیم کا حق ہر پاکستانی کو حاصل ہے۔

جس کا حصول ایک ذریعہ تعلیم اور ایک نظام تعلیم کے بغیر نا ممکن ہے۔ پروفیسر وارث میر نے بڑی دور اندیشی سے بطور محقق اور استاد اپنے دور کے جن تعلیمی مسائل کا ذکر کیا ان میں سب سے گھمبیر مسئلہ پاکستان میں یکساں ذریعہ تعلیم کا نہ ہونا ہی قرار دیا ہے، جو آج تک اردو اور انگریزی زبان کے درمیان فٹ بال بن چکا ہے۔ پروفیسر صاحب نے 32 سال پہلے پاکستان میں یکساں ذریعہ تعلیم نہ ہونے سے متعلق جن مسائل اور ان سے جڑے اپنے خدشات کا اظہار کیا وہ آج ہمیں اژدھا بنے اپنے ارد گرد پھرتے نظر آ رہے ہیں۔

پرفیسر وارث میر نے بڑے دانش ورانہ انداز سے پاکستان میں " یکساں ذریعہ تعلیم" کے نفاذ پر زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام ایک ملک میں قومی یکجہتی اور ہم آہنگی قائم کرنے کے لئے بہت ضروری ہے۔ انہوں نے ایک قوم کو مختلف طبقات میں تقسیم ہونے سے بچنے کا حل یکساں تعلیمی نظام اور یکساں نصاب کو قرار دیا۔ یہ سب تعلیمی اقدامات کسی بھی قوم کے تمام افراد اور نمائندوں کو ایک دوسرے کے قریب لانے کا ماخذ ہیں۔ پاکستانی حکمران آج تک قوم کے لئے ایک یکساں نظام تعلیم صرف اس وجہ سے نہ نافذ کر سکے، کیونکہ حکومت پاکستان اپنی قومی زبان اردو کو ذریعہ تعلیم نہ بنا سکی۔ جس کے نتائج ہم دیکھ رہے ہیں کہ عوام نے اپنی مدد آپ کے تحت بچوں کو ان انگلش میڈیم پرائیویٹ سکولوں میں داخل کروانا شروع کر دیا۔ جو کہ سرکاری سکولوں کے مقابلے میں معیاری تعلیم دے رہے تھے۔ اور ملک میں اس دہرے تہرے تعلیمی نظام قائم ہونے کی نشاندہی اور مستقبل میں پیش آنے والے خطرات کی پیشین گوئی پروفیسر وارث میر ایک ماہر تعلیم کی حیثیت سے 30 سال پہلے کر چکے تھے۔

پروفیسر وارث میر نے اپنی زندگی کے آخری سال 1987 میں پنجاب کی تعلیمی صورت حال اور اعداد و شمار کو سامنے رکھ کر اپنی تحریروں کے ذریعے حکومت وقت اور قوم کی راہنمائی کرتے ہوئے ان حکومتی اداروں پر قابض ایک مخصوص طبقہ کی نشاندہی کی جو اپنی خود غرضی پر قومی وحدت اور قومی تشخص کو قربان کر رہا تھا اور اپنے حق حکمرانی کو اپنی اولاد تک منتقل کرنے کے لئے انگریزی ذریعہ تعلیم اور انگریزی میڈیم سکولوں کو جاری رکھنا چاہتا تھا۔ آج کی موجودہ صورت حال میں ایسے لاکھوں پرائیویٹ انگلش میڈیم سکولوں کی تعداد میں اضافہ کی وجہ صرف کمزور حکومتی تعلیمی نظام اور حکومت کی معیاری تعلیم کی فراہمی میں عدم دلچسپی ہے۔ گزشتہ کئی سالوں سے حکومت کو سرکاری تعلیمی اداروں میں طلبہ کی تعداد کو پورا کرنے کے لئے داخلہ کی تحریک چلانا پڑتی ہے، کیونکہ ملک میں سرکاری نظام تعلیم اور نصاب دونوں انگلش میڈیم اور اردو میڈیم کی جنگ کا شکار ہونے کے بعد مزید زبوں حال ہو چکے ہیں۔

پروفیسر وارث میر نے اپنی ایک تحریر " ذریعہ تعلیم کا مسئلہ اور اردو زبان" میں پاکستان کے تعلیمی نظام میں پائے جانے والے سکولوں کے جن پانچ گروپس کا ذکر کیا ہے ان میں سرکاری سکول، عیسائی مشنری سکول، انگلش میڈیم سکول جو نجی وسائل سے چلائے جاتے ہیں، متمول طبقوں کے اعلٰی اقامتی سکول اورکمیونٹی سکولز(آغا خانی و بوہرہ کمیونٹی وغیرہ) ہیں۔ ان سکولوں میں دینی مدارس کو شمار نہیں کیا۔ ان مدارس کی دنیا ہی الگ ہے۔ ان کا مزاج اور نصاب پاکستان کے مستقبل کو جس زبردست طریقے سے متاثر کرے گا، اس کے امکانات کی طرف ابھی تک کسی نے توجہ نہیں دی۔"پروفیسر صاحب کے مطابق "پاکستان کے بہت سے قومی مسائل دراصل مفاداتی اور طبقاتی مسائل ہیں۔ اور ذریعہ تعلیم کا مسئلہ بھی دراصل طبقاتی اور گروہی مفادات کا مسئلہ ہے۔ جب تک ہمارے ماہرین کا تعلق عوام کے طبقے سے تعلق رکھنے والے طلبہ کے ساتھ رہتا ہے انہیں ان کی تخلیقی صلاحیتوں کے تحفظ اور نشوونما کی فکر رہتی ہے۔ اور وہ قومی معاملات پر عوام کے دکھ درد کے حوالے سے سوچتے ہیں۔ جیسے ہی طبقہ تبدیل ہوا، طبقاتی مفادات بھی تبدیل ہو گئے۔ اور کسی کا تعلق اعلٰی طبقات کے مفادات سے پیدا ہو گیا تو پھر آپ ملکی سطح کی "چیز" نہیں رہتے۔ آپ بین الاقوامی بن جاتے ہیں۔ اور "بین الاقوامی مفادات" کی عینک ہی سے ملکی مسائل کو بھی دیکھتے ہیں "۔

پروفیسر صاحب کے مطابق "ہماری خواہش ہے کہ اردو تعلیمی میدان میں جس سطح تک پہنچ چکی ہے اس سطح کو نا صرف قائم رکھا جائے بلکہ اسے مزید بلند کیا جائے، لیکن ساتھ ہی انگریزی کی طرف ہمیں اپنے پرانے رویہ میں تبدیلی کرنا ہو گی۔ ہم کتنا ہی کہیں کہ اردو کو ذریعہ تعلیم بنانے سے ہمارا تعلق انگریزی زبان سے کٹ نہیں جائے گا اور یہ کہ انگریزی زبان پڑھنا پڑھانا اور چیز ہے اور انگریزی میں دوسرے مضامین پڑھنا پڑھانا ایک مختلف چیز ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ عام سرکاری سکولوں،کالجوں اور یونیورسٹیوں میں پڑھنے والے طلبہ کی انگریزی کا ستیاناس ہو چکا ہے۔ اور تکلیف دہ بات یہ ہے کہ ان طلبہ میں اکثریت کی اردو بھی قابل رشک نہیں۔ ہماری موجودہ حکمت عملی کا شکار نئی نسل، انگریزی سکولوں میں پڑھنے والے طلبہ کے مقابلے میں احساس کمتری کے بوجھ تلے دبی ہوئی ہے۔

مقابلے کے تمام امتحانات بدستور انگریزی زبان میں ہو رہے ہیں۔ اور جب عام طلبہ ان امتحانات کے پراسیس کے آئینے میں اپنے چہرے دیکھتے ہیں تو انہیں اپنی شخصیتیں کئی حصوں میں تقسیم اور بکھری ہوئی نظر آتی ہیں۔ انہیں وہ طلبہ پیچھے چھوڑ جاتے ہیں جو کم مطالعہ اور کم معلومات رکھنے کے باوجود، انگریزی کی اہلیت میں ان سے آگے ہوتے ہیں۔"گزشتہ کئی سالوں سے راقم نے ایک ماہر تعلیم کی حیثیت سے حکومتی اور پرائیویٹ تعلیمی اداروں کے ساتھ پاکستانی تعلیمی نظام کی بہتری کے لئے کام کرتے ہوئے اس بات کو شدت سے محسوس کیا کہ کیا ہی اچھا اقدام ہو کہ ہر نئی آنے والی حکومت اپنی نئی تعلیمی پالیسیاں بنانے کے لئے مختلف اداروں سے تجاویز طلب کرنے کے ساتھ ساتھ اگر تعلیمی میدان میں کی گئی پرانی تحقیق اور ماہرین کی سفارشات اور مشاہدات کو بھی خصوصی طور پر مدنظر رکھیں۔ تاکہ مستقبل کے لئے کی جانے والی منصوبہ بندی ماضی میں کئے جانے والے کسی غلط اقدام کا شکار نہ ہو جائیں۔

اس فکر انگیز تحریر کا اختتام پروفیسر وارث میر کی لکھی ہوئی ایک تجویز پر کیا جا رہا ہے جو انہوں نے اردو قومی زبان کے طور پر مستحکم کرنے کے اقدام کے طور پردی۔"دراصل ابتداء ہی میں بنگالی، سندھی، بلوچی،پشتو اور پنجابی الفاظ اور محاوروں کو اردو زبان میں سمونے کی حکومتی سطح پر کوششیں ہونی چاہئے تھیں، تاکہ ملک میں ایک زبان پروان چڑھتی۔ جو پاکستان کے تمام صوبوں کی نفسیاتی اور عملی ضروریات پر پورا اتر سکتی"۔

مزید : رائے /کالم