عمران خان کا مجوزہ دورۂ روس!

عمران خان کا مجوزہ دورۂ روس!
عمران خان کا مجوزہ دورۂ روس!

  


آج ہفتہ (6جولائی) کی خبر ہے کہ وزیراعظم عمران خان ستمبر 2019ء کے پہلے ہفتے میں ایسٹرن اکنامک فورم میں شرکت کے لئے ولاڈی واسٹک جا رہے ہیں۔ اس دورے کی دعوت ان کو روسی صدر پوٹن نے اس وقت دی تھی جب بشکیک میں شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) کے 19ویں اجلاس میں دونوں رہنما اکٹھے ہوئے تھے۔ اس دورے میں وزیراعظم کی ہیلو ہیلو انڈین وزیراعظم مودی سے بھی ہوئی تھی۔ اسی طرح کی ایک اور ”ہیلو ہیلو“ روس کے اس دورے میں بھی متوقع ہے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ مودی بھی ایسٹرن اکنامک فورم (EEF) میں شریک ہوں گے۔ لیکن خان صاحب کو مہمان خصوصی کے طور پر مدعو کیا گیا ہے۔

ولاڈی واسٹک جس میں 4سے 6ستمبر تک اس فورم کا اجلاس ہو گا، روس کی وہ واحد بندرگاہ ہے جو سارا سال کھلی رہتی ہے۔

بشکیک میں جو ملاقات روسی اور پاکستانی رہنماؤں کے مابین ہوئی تھی اس کی کوئی تفصیل میڈیا پر نہیں آئی تھی۔ اب معلوم ہوا ہے کہ دونوں نے ایک نہیں متعدد ملاقاتیں کی تھیں۔ بشکیک میں جو ظہرانہ دیا گیا تھا اس میں عمران خان، پوٹن کے ساتھ والی نشست پر بیٹھے تھے اور دونوں کے درمیان ”راز و نیاز“ کی سی صورت حال تھی جس کو کیمرے کی آنکھ نے یونیورسل میڈیا پر دکھایا تھا۔ علاوہ ازیں جب اس تقریب میں شرکاء کا تصویری سیشن ہوا تو اس میں بھی پوٹن اور عمران خان ساتھ ساتھ کھڑے تھے۔ آپ کو یہ بھی یاد ہوگا کہ جب اس اجلاس میں میزبان صدر کی آمد ہوئی تھی تو عمران خان اپنی نشست پر بیٹھے رہے تھے اور جب سارے مہمان ازراہِ تعظیم اٹھ کھڑے ہوئے تھے تو خان صاحب بھی اٹھ کر چند لمحوں کے بعد بیٹھ گئے تھے۔ مغربی میڈیا نے بالعموم اور انڈین میڈیا نے بالخصوص عمران خان کی اس ”بے ادبی“ کا نوٹس لیا تھا اور انہیں بین الاقوامی سفارتی آداب سے بے خبر ڈکلیئر کر دیا تھا…… اللہ اللہ خیر سلا!

وزیراعظم کے دورۂ امریکہ (مجوزہ) کے صرف ایک ڈیڑھ ماہ بعد ان کا یہ دورۂ روس ایک لحاظ سے ایک عام دورہ کہا جا سکتا ہے جو ملکوں کے مابین مختلف تنظیموں کے اجلاسوں میں ترتیب دیا جاتا ہے بلکہ میں تو یہ کہوں گا کہ ایسے اجلاسوں کا مدعا چند ”خاص“ مہمانوں سے ملاقات ہوتی ہے اور یہ ”تنظیمی دعوتیں“ غالب کے مطابق مہ رخوں کی وہ تقریباتِ مصوری ہوتی ہیں جو پرانے زمانے کے عشاق کسی نہ کسی عنوان سیکھا کرتے تھے۔ یکے بعد دیگرے وزیراعظم کے یہ دونوں دورے (پہلے امریکہ اور پھر روس) پاکستانی وزارتِ خارجہ کی کامیابی کا ثبوت بھی کہے جا سکتے ہیں۔

آئی ایم ایف (IMF) کا پیکیج منظور کئے جانے کی راہ میں اگر امریکہ نے کوئی ’روڑا‘ نہیں اٹکایا تو یہ بھی پاکستان کی ایک سفارتی کامیابی ہے۔ بھارتی لابی اس پر خاصی چیں بہ جبیں ہے اور ”امید“ کی جاتی ہے کہ اس کے ماتھے کی سلوٹیں ان مجوزہ امریکی اور رشین دوروں کے تناظر میں اور بھی زیادہ گہری اور کثیر التعداد ہو جائیں گی۔

ایسٹرن اکنامک فورم پانچ برس پہلے 2015ء میں قائم کی گئی ایک تنظیم ہے جس کا فوکس، جیسا کہ اس کے نام سے ظاہر ہے، اقتصادیات پر ہے۔ روس کو اپنے مشرق بعید (Far East) کے علاقے (جس میں ولاڈی واسٹک واقع ہے) کی معاشی ترقی کے فروغ کے لئے افغانستان میں امن و امان کے قیام کی از بس ضرورت ہے۔ نقشے پر نگاہ ڈالیں تو ولاڈی واسٹک سے بحرالکاہل عبور کرکے آبنائے ملاکا سے گزرنا ہوتا ہے اور پھر بحرِہند کی وسعتیں طے کرکے افریقی اور یورپی بلکہ شمالی اور جنوبی امریکی ممالک تک رسائی ہوتی ہے۔ یہ سفردور دراز کا بحری سفر ہے۔ اس کے مقابلے میں اگر وسط ایشیائی ریاستوں (CARs) کی راہ CPEC کا راستہ اختیار کیا جائے تو یہ زمینی سفر، بحری سفر کا ایک تہائی رہ جاتا ہے۔ لیکن اس کے لئے روس کو پاکستان اور افغانستان کی ضرورت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ روس، افغانستان میں قیامِ امن کا خواہاں ہے۔

ایسٹرن اکنامک فورم کا پہلا اجلاس ستمبر 2015ء میں اسی ولاڈی واسٹک کے بندرگاہی شہر میں منعقد ہوا تھا۔ پی ٹی آئی کی حکومت نے اگست 2018ء میں جب اقتدار سنبھالا تو اس کے فوراً بعد دسمبر 2018ء میں وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے چار ملکوں کا طوفانی دورۂ کیا تھا جن میں ایران، افغانستان، چین اور روس شامل تھے۔ روس کا دورہ شاہ محمود کی آخری منزل تھی۔ وہ ان چاروں ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملے اور اسی دورے میں روس اور پاکستان کے باہمی تعلقات کا فروغ شروع ہوا۔ پاکستان نہ صرف اقتصادی معاملات میں روس سے تعلقات کی گرم جوشی کا متلاشی ہے بلکہ عسکری موضوعات میں بھی رشین سپورٹ کا خواہاں ہے۔ اسی دورے کے بعد دونوں ممالک کی زمینی اور فضائی افواج کے درمیان جنگی مشقوں کا آغاز ہوا تھا۔

اگرچہ اس فورم کا زیادہ فوکس روس کی مشرق بعید کی اقتصادیات پر ہے لیکن پاکستان کو بھی آج جن معاشی مشکلات کا سامنا ہے ان کے پیش نظر پاکستان کو اس اجلاس میں شرکت کے دوران باہمی مباحث کے توسط سے خطے کے اقتصادی پہلوؤں پر بالواسطہ (Indirect) بات چیت سے کئی فوائد حاصل ہوں گے۔ فی الحال اس فورم میں تین اراکین شامل ہیں …… روس، جاپان اور انڈیا…… پاکستان اس کا چوتھا رکن ہے۔ شائد آئندہ دوسرے ممالک بھی اس میں شریک ہو جائیں۔ اس فورم کے ایام میں شرکائے فورم، راونڈ ٹیبل کانفرنسوں، کاروباری تنظیموں کے نمائندوں کے درمیان باہمی مباحثوں، علاقائی مسائل، نئے صنعتی اور ٹیکنالوجیکل شعبوں اور عالمی اقتصادیات جیسے امور و معاملات پر ایک دوسرے سے تبادلہ خیالات کریں گے۔ پاکستان اور بھارت اگرچہ ایک دوسرے کے حریف ہیں لیکن جب ایک ہی میز پر بیٹھ کر بات چیت کریں گے تو ایک دوسرے کے نقطہ ہائے نظر سے آگہی ناگزیر ہو گی۔ اس فورم کی ایک خاص بات وہ ٹیلی وائزڈ ٹاک شوز اور بزنس سے متعلق ”ناشتے“ بھی ہوں گے جو ہمارے ہاں تقریباً ”نایاب“ اور ترقی یافتہ ممالک میں ایک معمول ہیں۔ اعلیٰ سطحی کاروباری نمائندے اپنے اپنے ہوٹلوں سے نکل کر علی الصبح جب ناشے کی میز پر جمع ہوتے ہیں تو ناشتے کے علاوہ باہمی تجارتی موضوعات بھی ”مینو“ میں شامل ہوتے ہیں۔

ہماری وزارتِ خارجہ کے علاوہ خزانہ، ریونیو، تجارت اور کامرس کی وزارتوں میں ابھی سے اس دورے کی تیاریاں شروع ہو چکی ہوں گی۔ ان وزراء، مشیران اور بیورو کریٹس کے ناموں پر بھی غور و خوض کا آغاز ہو چکا ہو گا جو وزیراعظم کے ہمراہ جائیں گے۔ ولاڈی واسٹک میں جو اجلاس اور نشستیں ہوں گی ان کا پروگرام اس فورم کے انعقاد سے کم از کم دس روز پہلے وزارت خارجہ کو موصول ہو جائے گا جس کی روشنی میں پاکستانی وفد کی تشکیل میں مدد ملے گی۔(یہ ایک معمول کی کارروائی ہے البتہ اس کی Input متعلقہ وزارتوں کے ڈائریکٹوریٹس اور برانچیں وغیرہ اَپ ڈیٹ کرتی رہتی ہیں۔)

4ستمبر ابھی دور ہے…… آنے والے دو ماہ میں بین الاقوامی حالات کے پل کے نیچے سے بہت سا پانی بہہ چکا ہو گا۔ توقع کی جا سکتی ہے کہ امریکہ اور طالبان کے درمیان شائد کوئی ایسا معاہدہ طے پا جائے یا کوئی ایسا موڑ آ جائے جو پل کے نیچے سیلابی کیفیت کا صورت گر ہو جائے۔ مزید برآں، وزیراعظم کے دورۂ امریکہ میں شائد کوئی ایسی بڑی پیشرفت ہو جائے جس کا فی الحال کوئی امکان نظر نہیں آ رہا، صدر امریکہ کی سیمابی طبیعت سے کجھ بعید نہیں کہ وہ کس لمحہ کس سمت میں اچانک موڑ کاٹ لیں۔ امکانی واقعات میں افغانستان سے امریکی ٹروپس کے ٹوٹل انخلاء کی تاریخ کا تعین بھی ہو سکتا ہے، ایران پر امریکی پابندیاں نرم کی جا سکتی ہیں اور اسے تیل فروخت کرنے کی جزوی اجازت بھی مل سکتی ہے، امریکہ کی طرف سے چین کے ساتھ حال ہی میں جن سابق تجارتی تعلقات کی بحالی کا اعلان کیا گیا ہے اس میں بھی کوئی مزید پیشرفت ہو سکتی ہے،

امریکہ، پاکستان کی عسکری اور مالی امداد کی بحالی کا کوئی اشارہ بھی دے سکتا ہے،افغانستان میں صدر اشرف غنی، طالبان کو ایسی رعایات دینے پر بھی مجبور کئے جا سکتے ہیں جس کی مدہم سی کرنیں اس ملک کی سیاسی چلمن کی اوٹ سے آج بھی جھانکتی دکھائی دے رہی ہیں اور اگر ہم علاقائی افق سے باہر نکل کر بین الاقوامی سیاسی افق کا نظارا کریں تو ناٹو کے وہ میزائل ڈیفنس سسٹم جو پولینڈ اور رومانیہ میں تعمیر کئے جا رہے ہیں شائد روک لئے جائیں اور روس کے ان خدشات کے سدباب کا کچھ سامان ہو جائے جو روس کی جوہری ٹکسال کو ان دونوں ناٹو ممبران (پولینڈ اور رومانیہ) کی طرف سے لاحق ہیں۔روس سمجھتا ہے کہ ناٹو کے یہ میزائل ڈیفنس سسٹم، رشین سیکیورٹی کے لئے براہِ راست ایک بڑا خطرہ ہیں!]ہفتہ 6جولائی 10بجے شب[

ضرور پڑھیں: ڈالر مہنگا ہو گیا

مزید : رائے /کالم