”جیتوں تو تجھے پاؤں،ہاروں تو پیا تیری“

”جیتوں تو تجھے پاؤں،ہاروں تو پیا تیری“
 ”جیتوں تو تجھے پاؤں،ہاروں تو پیا تیری“

  


انگلینڈ اور نیوزی لینڈ کے درمیان کھیلے جانیوالا میچ پاکستانی قوم کے لیے کسی امتحان سے کم نہ تھا۔نا صرف پاکستانی شائقین بلکہ پوری دنیا کے شائقین،کرکٹ کے زبردست مقابلے کی توقع کر رہے تھے۔لیکن یہ بڑا میچ مکمل یکطرفہ بنا دیا گیا۔یکطرفہ میں اس لیے کہہ رہا ہوں کہ جس طرح نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم نے یہ میچ کھیلا اور جس سلیقہ سے اس میچ کو ہارا وہ کرکٹ کے منہ پر ایک بد نماء داغ سے کم نہیں ہے۔کیویز ٹیم میچ کے کسی حصے میں مزاحمت کرتی نظر نہیں آئی بلکہ یوں لگتا تھا کہ جیسے پہلے سے یہ بات طے کر لی گئی تھی کہ ہم نے اس میچ کو بالکل نہیں جیتنا بلکہ صرف اور صرف انگلینڈ کو ٹاپ فور میں جگہ دینی ہے۔ورلڈ کپ میں کھیلے گئے کئی میچ اور ان کے نتیجے پر سوالات اٹھ رہے ہیں جن کا جواب آئی سی سی کو دینا پڑے گا کہ یہ عالمی کپ کے مقابلے تھے یا کہ آئی پی ایل کے میچز۔ٹیموں کے گٹھ جوڑ نے عالمی کپ کے حسن کو گہنا دیا۔جس وقت انگلینڈ اور نیوزی لینڈ کے درمیان میچ چل رہا تھا تو میرے ذہن میں پروین شاکر صاحبہ کو یہ شعر بار بار گردش کر رہا تھا۔

اس شرط پہ کھیلوں گی پیاء پیار کی بازی

جیتوں تو تجھے پاؤں ہاروں تو پیاء تیری

یہ کرکٹ کے عالمی مقابلے ہیں یہاں فیئر پلے کا مظاہرہ ہونا چاہیے تھا نا کہ مل جل کر نتائج مرتب کیے جاتے۔پاکستان کی کرکٹ ٹیم فائنل کی دوڑ سے باہر ہونے کے بعد وطن واپس پہنچ چکی ہے۔جس کا دکھ پوری قوم کو ہے اور ہونا بھی چاہیے لیکن کچھ ٹیموں کے کردار پر بھی افسوس ہے۔اب تصویر کا دوسرا رخ یہ بھی ہے کہ کیا ہماری ٹیم صرف اور صرف دوسری ٹیموں کے رحم و کرم پر بڑے مقابلوں میں کھیلنے کے لیے نکلتی ہے۔

کیا ہماری ٹیم کھیل پر کم اور قسمت پر زیادہ یقین رکھتی ہے۔کیا ہماری ٹیم کا صرف دعاؤں پر انحصار ہے۔ہمیشہ کامیابی ان کو ملتی ہے جو لڑنا اور مقابلہ کرنا جانتے ہیں۔ہم نے پہلے ہی مقابلے میں انتہائی برے اور بزدلانہ کھیل کا مظاہرہ کیا اور ایک بڑے مارجن سے میچ ہار ے اور ہماری ایوریج پہلے میچ سے ہی خراب ہو گئی۔دوسرا میچ بارش کی نذر ہو گیا اور ہم دو ممکنہ پوائنٹ سے محروم ہو گئے۔ ہم نے یہ حکمت عملی کیوں ترتیب دی جس کے باعث ہمیں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ اس کے بعد کے میچز میں بھی یہی غیر یقینی کی صورتحال برقرار رہی جبکہ ہم نے ان تمام میچز میں رن ریٹ پر بھی توجہ دینا مناسب نا سمجھاکیونکہ اگر پوائنٹ برابر ہوجاتے ہیں تو رنز اوسط بھی اپنا کردار ادا کرتی ہے۔

لیکن جس گھر کے مکینوں کا آپس میں سلوک اچھا نہیں ہوتا وہ محلے میں بھی رسواء ہوتے ہیں۔ہمیں دوسروں کے رحم و کرم پر رہ کر کھیلنے کی عادت کو بدلنا ہو گا اور اپنے اچھے کھیل سے مخالفوں کے منہ بند کرنا ہوں گے۔ہم نے اس بار ایک اچھا موقع ضائع کیا عالمی کپ کے فائنل تک رسائی اور مجموعی کارکردگی پر نظر دوڑائی جائے تو ٹیم کی کارکردگی بہت بری نہیں رہی بس وہ مواقع جن سے فائدہ اٹھایا جا سکتا تھا ان میں چوک ضرور ہوئی ہے۔

اس کے باوجود کہ ہم کئی فیصلے کرنے میں کمزور ثابت ہوئے ہیں ہم اپنی ٹیم کا کمبینیشن بنانے میں دیر کر گئے۔ایک بڑے ٹورنامنٹ میں کئی کھلاڑی جن سے اچھے کھیل کی توقع تھی وہ ناکام ہوگئے۔ہم نے اس ٹورنا منٹ کی کئی بڑی ٹیموں کو بھی شکست دی۔اصل بات یہ ہے کہ جیت کے بہت سارے باپ ہوتے ہیں،شکست کا کوئی باپ نہیں ہوتا۔ گزشتہ روز انڈیا اور لنکا کے میچ کے دوران کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے گراؤنڈ کے اوپر ہیلی کاپٹر پر بینر لہرایا گیا جو انڈین کپتان کوہلی کو ذرا بھی نا بھایااور انہوں نے احتجاجاً ہاتھ کھڑے کر کے واقع کا نوٹس لینے کی التجا کی۔

تو انہیں یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ اس وقت ان کی طرف سے،آئی سی سی کی جانب سے یا کسی بھی ٹیم کی جانب سے پاک،افغان کے میچ کے دوران لہرانے والے بینر کا بھی احتجاج ریکارڈ کروانے کی زحمت گورا نہیں ہوئی۔کشمیر کے حق میں بینر دیکھ کر ان کے تن بدن میں آگ کیوں لگ گئی۔ حالانکہ یہ بات دنیا جانتی ہے کہ ہم افغانیوں کے ساتھ کس قسم کا برتاؤ رکھتے ہیں اور انہیں کس نے اپنے ملک میں پناہ دے رکھی ہے۔ لیکن ہم سیمی فائنل تک نہیں پہنچ سکے لیکن ہم ٹاپ فائیو میں تو شامل ہیں۔شاباش ٹیم پاکستان

مزید : رائے /کالم