محبت کا ہدف، ڈاکٹر صُغرا صَدفَ

محبت کا ہدف، ڈاکٹر صُغرا صَدفَ
 محبت کا ہدف، ڈاکٹر صُغرا صَدفَ

  


دوستوں اور دشمنوں کو پہچاننے کے لیے بعض اوقات نہایت چھوٹی سی بات ہی کافی ہوتی ہے:

مَیں دیکھ لوں گا کہ ہے کون کون دوست مِرا

مَیں جان بوجھ کے تھوڑا سا لڑکھڑاؤں گا

ہمارے شاعر خاطر غزنوی نے بھی تو کچھ ایسا ہی کہا تھا:

گوذرا سی بات پر برسوں کے یارانے گئے

لیکن اتنا تو ہُوا،کچھ لوگ پہچانے گئے

جون کے آخری ہفتے کے آخری دِنوں میں حکومت ِ پنجاب کی طرف سے ایک نوٹیفکیشن جاری ہُوا،جس کے مطابق ضلع اٹک سے تعلق رکھنے والے پراونشل مینجمنٹ سروس کے ایک سینئر افسر کو عین ریٹائرمنٹ سے تین یا چار دن پہلے، پرائیڈ آف پرفارمنس کی طرح بیسواں گریڈ عطا کر دیا گیا تاکہ وہ اپنی آنے والی نسلوں کو بتا سکیں کہ وہ بیسویں گریڈ میں ریٹائر ہوئے تھے۔ ساتھ ہی انھیں ہمارے مقبول اور متحرک ادارے پنجاب انسٹیٹیوٹ فار لینگوئج آرٹ اینڈ کلچر (پلاک) کا ڈائریکٹر جنرل لگا دیا گیا تھا، حالانکہ اس اہم عہدے پر نہایت ادب دوست اور انسان دوست شاعر ڈاکٹر صغرا صدف پچھلے کئی برسوں سے متمکن ہیں۔

جب ان صاحب کے آرڈر جاری ہوئے، تب ڈاکٹر صغرا صدف ایک سرکاری وفدکے ساتھ چین کے مطالعاتی دورے پر گئی ہوئی تھیں۔گویا اُن کی نشست خالی تھی، چنانچہ حکامِ بالا نے سوچا کہ بیسویں گریڈ کے صاحب کو اسی عہدے پر تعینات کر دیا جائے۔اگلے ہی روز وہ وہاں سے ریٹائر ہو جائیں گے اور ہماری ڈاکٹر صغرا صدف چین سے واپس آ کر دوبارہ اپنا عہدہ سنبھال لیں گی۔مجھے پہلے سے اپنے ایک رپورٹر کے ذریعے سے اس ساری صورتِ حال کا علم تھا،لیکن مَیں نے جانتے بوجھتے ایک شرارت کی۔ اپنی فیس بُک پر خبر جاری کر دی کہ فلاں صاحب کو ڈائریکٹر جنرل پِلاک مقررکر دیا گیا۔

میرا خیال تھا کہ اب تک ڈاکٹر صغرا صدف اپنے بہت سے دشمن پیدا کر چکی ہوں گی جو اُن کی تبدیلی اور نئے ڈی جی کی آمد پر بغلیں بجائیں گے۔ ڈاکٹر صغرا صدف کو دفع دور کہیں گے اور نئے صاحب کو خوش آمدید کہیں گے،لیکن ہُوا، اس کے برعکس۔ ملک بھر کے اُردو،پنجابی، سرائیکی، ہندکو اور پوٹھو ہاری زبانوں میں لکھنے والے ادیبوں نے مجھی پر لعن طعن کی بارش کر دی۔ گویا ان صاحب کو مَیں نے مقرر کیا ہے۔ہر شاعر، ہر ادیب غصے میں بھرا دکھائی دیا۔ اُن کا غصہ بجا تھا۔وہ سب جانتے تھے کہ ڈاکٹر صغرا صدف نے محنت ِ شاقہ سے اس ادارے کو ادارہ بنایا ہے۔انھوں نے یہاں آنے والے تمام ادیبوں کو ہمیشہ خوش آمدید کہا ہے۔ کبھی کسی کے آنے پر ناک منہ نہیں چڑھایا،بلکہ سچ تو یہ ہے کہ وہ اپنے ناقدین کو زیادہ توجہ دیتی ہیں۔ انھیں پلاک میں منعقد ہونے والی تقریبات میں بار بار فون کر کے بُلاتی ہیں اور کہتی ہیں: ”آیئے! دیکھیے! مَیں اور میرے ساتھی کس طرح پنجاب کی زبان اور ثقافت کے فروغ کے لئے کیا کر رہے ہیں“؟

سچ تو یہ ہے کہ مَیں خود بھی ڈاکٹر صغرا صدف کا بہت بڑا ناقد ہوں۔مَیں کبھی فون پر اور کبھی روبرو کھڑے ہو کر اپنے تحفظات اور گِلے شکوؤں کا اظہار کرتا رہتا ہوں،لیکن صغرا صدف، اللہ جانے کِس مٹی کی بنی ہوئی عورت ہے کہ اس کے ماتھے پر کبھی بل ہی نہیں پڑے۔آپ صغرا صدف کو غصہ دِلانے کی جتنی بھی کوشش کر لیجیے، بے کار جائے گی۔اُسے اپنے کام اور ادارے سے عشق ہے اور اپنے قلم کار بہن بھائیوں سے محبت۔وہ جانتی ہے کہ اس کا کام اور اس کا ادارہ، اس کے دوستوں کے تعاون کے بغیر ہو ہی نہیں سکتا۔ وہ اپنے ادارے کی محبت میں اتنی دیوانی ہے کہ دن دیکھتی ہے نہ رات، صبح دیکھتی ہے نہ شام۔

آندھی ہو یا بارش، وہ ہر وقت آپ کو پلاک کے کسی نہ کسی کمرے میں دکھائی دے گی۔ اس نے نوکری کو کبھی آٹھ گھنٹے کی مجبوری نہیں سمجھا۔ وہ دماغ اور دِل دونوں سے کام لیتی ہے۔ دماغ دفتر کے امور نمٹانے میں استعمال کرتی ہے اور دِل، اپنے قلم کار دوستوں کی دلداری کے لیے۔ یقین جانیے کہ ڈاکٹر صغرا صدف سے محبت کی بے شمار وجوہات ہیں،لیکن اس سے دشمنی کے لیے کوئی ایک وجہ بھی نہیں۔

ضرور پڑھیں: ڈالر مہنگا ہو گیا

ڈاکٹر صغرا صدف سے پہلے میرے ایک پروفیسر دوست یہاں ڈائریکٹر بن کر آئے تھے، لیکن انھوں نے اپنے ”خوب صورت“ رویے سے چند ہی ہفتوں میں سارے قلم کاروں کو اپنا دشمن بنا لیا تھا۔چنانچہ محکمے نے انھیں جلد ہی یہاں سے فارغ کر دیا۔یہ صدمہ ان کے لیے اتنا شدید تھا کہ وہ جلد ہی انتقال کر گئے۔بات دراصل یہ ہے کہ عہدہ، دولت، شہرت ظرف کی بات ہے۔ یہ سب دنیاوی چیزیں دراصل آدمی کے لیے آزمائش ہوتی ہیں۔کچھ لوگ اس آزمائش میں پورا اُترتے ہیں اور کچھ سُبک سر ثابت ہوتے ہیں۔

صغرا صدف کے لیے ابھی ترقی کے کئی دروازے کھلے پڑے ہیں۔ وہ چونکہ دوستوں کو ساتھ لے کر چلتی ہیں اس لیے انھیں راستے میں ملنے والے راہ زنوں سے ڈر نہیں لگتا۔مَیں اگرچہ پلاک کی تقریبات میں کم کم جاتا ہوں،لیکن اس کے باوجود محبت کے شیرے میں لتھڑا ہُوا میرا ووٹ ہمیشہ ڈاکٹر صغرا صدف کے کھاتے میں جائے گا۔

مزید : رائے /کالم