وفاق سرکاری اسپتالوں کا انتظام سنبھالنے سے انکار مذاق ہے : حافظ نعیم الرحمن

وفاق سرکاری اسپتالوں کا انتظام سنبھالنے سے انکار مذاق ہے : حافظ نعیم الرحمن

  

کراچی (اسٹاف رپورٹر) امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے وفاقی حکومت کی جانب سے تین بڑے اسپتالوں قومی ادارہ برائے امراض قلب، جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر اور قومی ادارہ برائے امراض اطفال کے انتظامات سنبھالنے سے انکار اور انہیں سندھ حکومت کے حوالے کرنے کے فیصلے پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وفاق کا دائرہ کاربڑا ہے اور ان کے پاس صوبے کے نسبت وسائل زیادہ ہوتے ہیں لیکن افسوس کہ اتنا اہم فیصلہ کرتے وقت کراچی کے ڈھائی کروڑ عوام اور صوبے کی مالی و انتظامی حالت کا خیال نہیں رکھا گیا ، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت کے اصرار پر تینوں اسپتالوں کو وفاق کے حوالے کیا تھا لیکن اب وفاق کا سندھ حکومت کو اسپتال واپس کرنا کراچی کی توہین کے مترادف ہے ۔ انہوں نے کہاکہ یہ بات سب کے علم میں ہے کہ صوبے کے پاس وسائل کی کمی اور بد انتظامی کے سبب سندھ کے زیر اہتمام سرکاری اسپتالوں کی صورتحال انتہائی خراب ہے اور اس فیصلے کے بعد سے کراچی کے اسپتال اور ان میں علاج کے لیے رجوع کرنے والے عوام شدید پریشانی کا شکار ہوجائیں گے ۔ انہوں نے کہاکہ وفاقی حکومت کے پاس اگر کراچی کے تینوں اسپتالوں کے لیے وسائل نہیں ہیں ، اسٹیل مل کے ملازمین کے لیے رقم نہیں ہے اور بجٹ میں صرف 45ارب روپے رکھے گئے ہیں تو پھر یہ کس منھ سے کراچی کو سنوارنے کی بات کرتے ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ کراچی سے قومی اسمبلی میں 14نشستیں پی ٹی آئی اور 4نشستیں ایم کیو ایم کی ہیں اور دونوں جماعتیں کابینہ میں موجود ہیں اس کے باوجود کابینہ میں یہ فیصلہ ہوجانا ثابت کرتاہے کہ کراچی کو اپنا کہنے والے کو صرف وزارتوں میں دلچسپی رکھتے ہیں ۔ واضح ہے کہ 18ویں ترمیم کے تحت تینوں اسپتالوں کو صوبے کے ماتحت کیا جانا تھا جسے سپریم کورٹ نے وفاق کے حوالے کردیا لیکن اب وفاقی حکومت کا ان تینوں اسپتالوں کے انتظامات کوفنڈز کابہانہ بناکر واپس کرنے کے اس رویہ نے یہ بات عیاں کردی ہے کہ کراچی کی نمائندگی اور دعویداروں کو کراچی سے کتنی دلچسپی ہے ، یہ صرف کراچی کے نام کا استحصال کر کے لوگوں کو بے وقوف بنا رہے ہیں لیکن اب عوام ان کی اصلیت جان چکے ہیں ۔

مزید :

راولپنڈی صفحہ آخر -