”بنگلہ دیش کیخلاف ہم نے 500 رنز بنانے کا سوچا ہی نہیں بلکہ ہم تو کوشش کر رہے تھے کہ۔۔۔“ امام الحق نے حقیقت سے پردہ اٹھا دیا

”بنگلہ دیش کیخلاف ہم نے 500 رنز بنانے کا سوچا ہی نہیں بلکہ ہم تو کوشش کر رہے ...
”بنگلہ دیش کیخلاف ہم نے 500 رنز بنانے کا سوچا ہی نہیں بلکہ ہم تو کوشش کر رہے تھے کہ۔۔۔“ امام الحق نے حقیقت سے پردہ اٹھا دیا

  

لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان کرکٹ ٹیم کے اوپننگ بلے باز امام الحق نے کہا ہے کہ بنگلہ دیش کیخلاف میچ میں وکٹ سلو تھی اور رنز بنانے میں مشکل پیش آ رہی تھی اور ویسے بھی ہماری توجہ میچ جیتنے پر بھی کیونکہ ہمیں حقیقت پسند ہونا چاہئے، 316 رنز کے مارجن سے بنگلہ دیش کو ہرانا ناممکن تھا۔

تفصیلات کے مطابق لاہور میں پریس کانفرنس کے دوران پوچھے گئے ایک سوال پر امام الحق نے کہا کہ بنگلہ دیش کی ٹیم کوئی چھوٹی ٹیم نہیں رہی اور اس نے پورے ٹورنامنٹ میں بہترین کارکردگی دکھائی ہے۔ ہماری توجہ میچ جیتنے پر تھی، وکٹ سلو تھی اور رنز بنانے میں مشکل پیش آ رہی تھی، ہم نے سوچا تھا کہ اوپنرز جو پیغام دیں گے اس کے مطابق ہی کھیلیں گے اور میچ جیتیں گے، کیونکہ 315 رنز کے مارجن سے جیتنا تقریباً ناممکن تھا۔

انہوں نے کہا تنقید کرنے والوں کو چپ نہیں کروا سکتا اور بولنا ان کا حق ہے، میری کوشش ہوتی ہے کہ گراﺅنڈ میں ایسی کارکرگی دکھاﺅں جو ٹیم کی جیت میں کردار ادا کرے۔ میرا کام کارکردگی دکھانا ہے، میں سب کو خوش نہیں رکھ سکتا البتہ کوشش ہوتی ہے کہ مداحوں کو خوش رکھوں۔

ان کا کہنا تھا کہ ٹیم کے تمام کھلاڑی بہت زیادہ ٹیلنٹڈ ہیں اور اپنے دن کسی بھی ٹیم کو ہرا سکتے ہیں۔ ذہنی مضبوطی انفرادی ہے، تنقید کو مثبت لیا جائے تو اچھی کارکردگی بھی آتی ہے، میری کوشش ہوتی ہے کہ ایسے لوگوں کے ساتھ رہوں جہاں سے مثبت باتیں سننے کو ملیں اور حوصلہ افزائی ہو، ٹیم کے تمام لڑکے ایک دوسرے کو سپورٹ کرتے ہیں اور ایک دوسرے کیلئے لڑتے ہیں، یہ انفرادی طور پر ہے کہ آپ کیسے ذہنی طور پر مضبوط رہ سکتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگر ٹیم سیمی فائنل میں پہنچتی تو میں اپنی کارکردگی سے بہت خوش ہوتا، ورلڈکپ کے تمام میچوں میں میرا آغاز اچھا تھا لیکن اگر میری سنچری پہلے والے میچوں میں آ جاتی تو اس کا ٹیم کو فائدہ بھی ہوتا، انگلینڈ کیخلاف سیریز میں جو کارکردگی دکھائی ، وہی ورلڈکپ میں دکھانے کی بھی پوری کوشش کی، لیکن یہ ضروری نہیں کہ ہر مرتبہ اچھا ہو کیونکہ کبھی کبھار آپ محنت کرتے ہیں مگر نتائج دیر سے ملتے ہیں۔

مزید :

کھیل -