کویتی ملک سے غیر ملکی ورکروں کو نکال کر خود بڑی مشکل میں پھنس گئے

کویتی ملک سے غیر ملکی ورکروں کو نکال کر خود بڑی مشکل میں پھنس گئے
کویتی ملک سے غیر ملکی ورکروں کو نکال کر خود بڑی مشکل میں پھنس گئے

  


کویت سٹی(مانیٹرنگ ڈیسک) ایک معروف شعر کا مصرع ہے کہ ”شاید مجھے نکال کے پچھتا رہے ہوں آپ۔“ یہ مصرع ان دنوں کویت کے شہریوں پر صادق آ رہا ہے جو غیرملکیوں کو اپنے ملک سے نکال کر بڑی مشکل میں پھنس گئے ہیں۔ گلف بزنس کے مطابق کویت نے حالیہ سالوں میں لاکھوں غیرملکیوں کے ویزوں کی تجدید کرنے سے انکار کیا اور انہیں ملک سے نکال دیا۔ اس تعداد کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ صرف گزشتہ 9ماہ میں ایک ملک فلپائن کے 27ہزار ورکرز کو کویت سے نکالا گیا ہے۔ اس کا نقصان کویتی شہریوں کو یہ ہوا ہے کہ پہلے وہ ان غیرملکیوں کو اپنے گھر کرائے پر دے کر اچھی خاصی رقم گھر بیٹھے کماتے تھے۔ اب ان کے وہ گھر خالی پڑے ہیں اور انہیں کرائے دار نہیں مل رہے۔ کویت کی وزارت داخلہ کی طرف سے جاری اعدادوشمار کے مطابق 2015ءسے 2018ءکے دوران ڈیڑھ لاکھ سے زائد غیرملکیوں کو ویزے دینے سے انکار کیا گیا۔ جوں جوں ملک میں غیرملکیوں کی تعداد کم ہوتی جا رہی ہے، ملک کے رئیل سٹیٹ سیکٹر پر دباﺅ سنگین ہوتا جا رہا ہے۔ اس وقت ملک میں لاکھوں کی تعداد میں خالی مکانات اور فلیٹس پڑے ہیں جن میں سے کبھی کوئی ایک بھی خالی نہ ہوتا تھا۔ ان خالی فلیٹس کی تعداد میں روزبروز اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ رئیل سٹیٹ یونین کے سیکرٹری جنرل قیس الغنیم کا کہنا ہے کہ ”ملک سے غیرملکیوں کو نکالنے کا فیصلہ غلط ثابت ہو رہا ہے۔ یہ ہر حوالے سے ملکی معیشت پر منفی اثرات ڈال رہا ہے۔ “

مزید : عرب دنیا