عظیم بھائی کی عظیم بہن …… مادر ملت محترمہ فاطمہ جناحؒ

عظیم بھائی کی عظیم بہن …… مادر ملت محترمہ فاطمہ جناحؒ

  

انسانی تاریخ بار بار بتاتی ہے کہ وہی قومیں باعزت طور پر زندہ رہتی ہیں جو اپنے رہنماؤں کی خدمات کو فراموش نہیں کرتیں۔ ان سے ملنے والے نظریاتی ورثوں کی حفاظت ہی نہیں کرتیں بلکہ ان کی تبلیغ و اشاعت کا فرض بھی سرانجام دیتی ہیں۔ یہی نظریاتی وابستگی‘ قوموں کو فکر حریت اور خودشناسی کے جذبوں سے مالامال کرتی ہے اور وہ ایک آزاد‘ خود مختار اور غیرت مند قوموں کی حیثیت سے اپنا مقام بناتی ہیں۔مادرِ ملت محترمہ فاطمہ جناحؒ بھی ایسی ہی نادر اورنابغہئ روزگار ہستی تھیں جن کی خدمات کو قوم کبھی فراموش نہیں کرسکے گی۔ عظیم اسلامی مملکت پاکستان کا قیام بابائے قوم حضرت قائداعظم محمد علی جناحؒ کی بے لوث، انتھک محنت اور جدوجہد کا نتیجہ ہے جنہوں نے اپنوں اور بیگانوں کی سازشوں کے باوجود بکھرے ہوئے مسلمانوں کو متحد کیا‘ ایک قوم بنایا اوراس جدوجہد میں ان کی عظیم بہن مادرِ ملت محترمہ فاطمہ جناحؒ بھی برابر کی شریک رہیں۔ اگر عظیم بھائی کی جدوجہد میں عظیم بہن کا خلوص‘ محنت اور معاملہ فہمی شامل نہ ہوتی تو خدا ہی بہتر جانتا ہے کہ قیامِ پاکستان کی جدوجہد کس قدر طویل ہوجاتی اور اس کا نتیجہ کیا نکلتا۔ حصولِ پاکستان کی تحریک کے دوران اور قیامِ پاکستان کے بعدمادرِ ملتؒ نے جس سیاسی بصیرت و قیادت‘ جرأت مندی اور ایثار و قربانی کا مظاہرہ کیا وہ ہماری تاریخ کا روشن باب ہے۔ وہ نہ صرف محسنہئ ملت بلکہ ہماری موجودہ اور آنے والی نسلوں کے لیے رول ماڈل ہیں۔

امتِ مسلمہ کی تاریخ ایسی خواتین کی مدبرانہ اور سرفروشانہ جدوجہد سے بھری پڑی ہے جنہوں نے اپنے کارناموں سے نہ صرف خود حیات جاوید حاصل کر لی بلکہ افراد امت کے لئے بھی ایسی راہیں متعین کر دیں جن پر چل کر وہ مقصد حیات پا سکتے ہیں۔ جہاں قائداعظم محمد علی جناحؒ نے مشعل اسلام کی روشنی میں تاریک راہوں کو منور کیا وہاں ان کی جانثار معاون اور اسلام سے رہنمائی حاصل کرنے والی ہمشیرہ محترمہ فاطمہ جناح ؒ نے اس مشعل کو تھامے رکھنے والے نحیف و نزار بازوؤں کو اپنے فکروعمل سے تقویت بخشی۔ بھائی کو اگر امت مسلمہ کی محرومی و غلامی بے چین کئے رکھتی تھی تو بہن اس عظیم بھائی کے بے چین دل کو سکون و راحت پہنچانے میں کوئی دقیقہ فرو گذاشت نہیں کرتی تھی۔

خانوادہئ جناح

ایک طرف 1857ء کی جنگ آزادی کی ناکامی کے باوجود کسی نہ کسی شکل میں غلامی کے خلاف جہدوجہد ہوتی رہی دوسری طرف قدرت بھارتی صوبے گجرات کی ریاست گوندل کو تاریخ میں نمایاں مقام دلانے والی تھی۔ اس ریاست کے ایک گاؤں کا نام تھا پانیلی۔ اس چھوٹے سے گاؤں میں ایک شخص پونجا نامی بھی رہتا تھا۔ ان کے تین بیٹے تھے والجی بھائی، نتھو بھائی اور جناح بھائی۔ بیٹی صرف ایک تھی جس کا نام مان بی تھا۔ شیریں جناح کے مطابق جناح بھائی سب سے چھوٹے تھے۔ چھریرابدن، چھوٹا قد غالباً اسی لئے جینا کہلاتے تھے جس کے معنی ہیں (دبلا،پتلا)۔ جینا کو جناح انہوں نے خود بنایا یا یہ اصلاح سسرال والوں نے کی، یہ بات تحقیق طلب ہے۔ جناح کے معنی ہیں بازو۔ بہر حال بعد ازاں پونجا کو پونجاہ اور جینا کو جناح لکھا جانے لگا۔ پونجا کھڈی کے کپڑے کی تجارت کرتے تھے۔ انہوں نے جناح کو بھی اسی کام میں لگا دیا۔ جناح کاروبار کو موضع پانیلی تک محدود رکھنے کے خلاف تھے اور اسے گوندل جیسے بڑے شہر تک وسعت دینا چاہتے تھے۔ ایک مرتبہ والد نے جناح ؒکو کچھ رقم دیکر کہا کہ اسے کسی نفع بخش کام میں لگاؤ۔ جناح نے ایسا ہی کیا اور معقول منافع کمایا۔ باپ نے خوش ہو کر جناح کے لئے اپنی اسماعیلی خوجہ برادری میں لڑکی تلاش کرنی شروع کر دی۔ بالآخر نواحی گاؤں ڈھرنا کا اسماعیلی خاندان پسند آگیا اور اس کی لڑکی میٹھی (شیریں) بائی کی شادی جناح ؒ سے کر دی گئی۔ یہ 1874کا واقعہ ہے۔ شادی کے بعد جب تجارت کو فروغ حاصل ہوا تو جناح خاندان کراچی آگیا۔ یہاں آکر نیو نہام روڈ(کھارادر) پر ایک عمارت کا کچھ حصہ کرایہ پر حاصل کر لیا گیا۔ جناح بھائی نے کراچی میں، مشکلات پر قابو پانے کے ساتھ ساتھ تجارت میں کافی رقم جمع کر لی۔ کراچی میں اس وقت انگریزوں نے کچھ کمپنیاں قائم کر رکھی تھیں جو درآمد اور برآمد کا کام کرتی تھیں۔ان میں ایک فرم گراہم سن شپنگ اینڈٹریڈنگ کمپنی تھی۔ اس کے جنرل مینیجر فریڈرک لیہہ کے ساتھ جناح بھائی کے مراسم استوار ہوئے تو ان کی وساطت سے انگلستان اور ہانگ کانگ کے بعض تاجروں کے ساتھ بھی تجارتی تعلقات قائم ہو گئے۔جو افغان تاجر قندھار (افغانستان) سے کراچی آتے تھے ان سے جناح بھائی نے فارسی زبان سیکھی۔ انگریزی میں انہوں نے پہلے ہی کچھ شدبد حاصل کر لی تھی۔ اگرچہ جناح خاندان گجراتی زبان بولتا تھاتاہم کراچی میں قیام کے دوران انہوں نے سندھی کے علاوہ کچھ اور زبانوں پر بھی عبور حاصل کرلیا۔ جناح ؒ بھائی کی زوجہ میٹھی بائی امید سے تھیں۔ 25دسمبر 1876ء کو ان کے ہاں لڑکا تولد ہوا جس کا نام محمد علی رکھا گیا۔ بعد ازاں دو بیٹیاں رحمت اور مریم پھر احمد علی اور بعد ازاں شیریں پیدا ہوئیں 31جولائی1893ء کو میٹھی بائی کے ہاں بیٹی پیدا ہوئی جس کا نام فاطمہ رکھا گیا۔ یہ وہ دور تھا جب جناح پونجا کے بیٹے محمد علی اعلی تعلیم حاصل کرنے کے لئے انگلستان میں تھے۔

ننھی فاطمہ

فاطمہ جناح ؒ کے بعد مٹھی بائی کے ہاں صرف ایک ولادت ہوئی۔ اس بچے کا نام بندے علی رکھا گیا اس ولادت کے بعد میٹھی بائی وفات پا گئیں۔ والدہ کی وفات کے وقت فاطمہ کی عمر دو سال تھی چنانچہ بڑی بہن مریم، فاطمہ کی پرورش کرنے لگیں۔ اس طرح فاطمہ اوائل عمر میں ہی ماں کی ممتا سے محروم ہو گئیں۔ جب ذرا ہوش سنبھالا تو انگلستان میں تعلیم پانے والے بھائی کے بارے میں باتیں سُن سُن کر ان سے ملنے کو دل تڑپنے لگا۔ وہ بھائی کو اپنے سامنے دیکھنا چاہتی تھیں بالآخر محمد علی انگلستان سے واپس آئے تو وہ بھی چار سالہ بہن فاطمہ کی دل کو موہ لینے والی باتیں سن سن کر بے حد محظوظ ہوتے تھے۔ اس وقت محمد علی کے والد کی تجارت روبہ زوال ہو چکی تھی چنانچہ 1897ء میں محمد علی نے بمبئی جا کر پریکٹس شروع کر دی اور وکلا کے حلقے میں جلد ہی ان کا نام مشہور ہو گیا۔ 1900ء میں محمد علی کو مجسٹریٹ مقرر کیا گیا۔ یہ آسامی عارضی تھی۔انہوں نے اپنے خاندان کو بھی کراچی سے بمبئی بلا لیا۔

تعلیم و تربیت

جناح بھائی کی وفات) 17اپریل (1902 کے بعد محمد علی جناح ؒ خود بہن کی تعلیم وتربیت پر خصوصی توجہ دینے لگے۔ یہ وہ دور تھا جب مسلمانوں میں لڑکیوں کو تعلیم دلوانا انتہائی معیوب سمجھا جاتا تھا اور انگریزی تعلیم دلوانا تو گناہ عظیم قرار پایا تھا۔ فرنگی کے سائے سے بھی بچنے کو ثواب سمجھا جاتا تھا۔ انگریزی تعلیم حاصل کرنے والوں کو معاشرے میں نہایت حقیر سمجھا جاتا تھا۔ اسی ماحول سے متاثر ہو کر اپنے تجربات کی روشنی میں سر سید احمد خان نے آگے چل کر قوم کے لئے انگریزی کی تعلیم کو ترقی کی بنیاد قرار دیا اور ان کی انتھک کوششوں سے علی گڑھ یونیورسٹی معرض وجود میں آئی۔ محمد علی نے فاطمہ کو سکول میں داخل کرانے کا فیصلہ کیا تو توقع کے مطابق خاندان میں مخالفت کا طوفان اٹھ کھڑا ہوالیکن محمد علی ؒ اپنے فیصلے پر اڑے رہے۔ خاندان والوں نے محمد علی کی طرف سے مایوس ہو کر فاطمہ کو ورغلانا شروع کر دیا کہ وہ خود ہی سکول میں داخل ہونے سے انکار کر دے لیکن محمد علی نے فاطمہ سے کہا کہ ”فاطمہ وہی انسان کامیاب ہوا کرتے ہیں جو کوئی فیصلہ کرنے کے بعد اس پر مضبوطی کے ساتھ قائم رہیں“۔آٹھ سالہ فاطمہ نے عظیم بھائی کا یہ قول پلے باندھ لیا۔ قائداعظم ؒ خود بھی زندگی بھر اس اصول پر کار بند رہے کہ انسان کو فیصلہ کرنے سے قبل سوچ بچار کر لینا چاہئے اور جب وہ کوئی فیصلہ کر لے تو پھر اس پر ڈٹ جانا چاہئے۔ یہی وہ بنیادی اصول تھا جس پر عمل کر کے انہوں نے پاکستان قائم کر دکھایا۔ انگریز حاکموں اور ہندوسرمایہ داروں نے انہیں اس راہ سے ہٹانے کے لئے بڑے پاپڑ بیلے۔ لالچ اور دھمکیاں دیں یہاں تک کہ تحریک آزادی کے آخری ایام میں گاندھی نے یہ پیشکش کر دی کہ وہ متحدہ ہندوستان کے خود وزیراعظم بن جائیں لیکن پاکستان کا مطالبہ ترک کردیں۔ قائداعظمؒ نے یہ پیشکش شکریے کے ساتھ ٹھکرا دی اور فرمایا ”میری قوم کا مفاد قیام پاکستان میں ہے اس لئے پاکستان ضرور قائم ہو گا۔“ ننھی فاطمہ نے بھی بھائی سے یہ اصول سیکھا اور پھر زندگی بھر اس پر قائم رہیں۔

قائداعظمؒ نے جوان دونوں صرف محمد علی جناح ؒ کے نام سے جانے جاتے تھے 1902ء میں فاطمہ کو باندرہ کے کانوینٹ سکول میں داخل کرا دیا۔ فاطمہ کو تعلیم سے رغبت دلانے کے لئے قائداعظمؒ نے جو طریقہ اختیار کیا وہ بھی عجیب و غریب دکھائی دیتا ہے۔ خاندان کی شدید مخالفت کے باوجود فاطمہ بھائی کے فیصلے کو قبول کر چکی تھیں لیکن تعلیم کے لئے ایک نئی جگہ (سکول) جاتے ہوئے انہیں کچھ پریشانی محسوس ہوتی تھی۔ قائداعظمؒ نے ان کی اس پریشانی کو بھانپ لیا۔ ایک دن بگھی میں فاطمہ کو بٹھا کر باندرہ کے اس سکول میں لے گئے جہاں انہیں داخل کرانا مقصود تھا۔ فاطمہ کو مختلف کلاسیں دکھاتے رہے اور جب فاطمہ نے تھکن کی شکایت کی تو واپس گھر لے آئے۔ انہوں نے چند مرتبہ اس عمل کو دہرایا جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ فاطمہ سکول کے درودیوار سے مانوس ہو گئیں اور وہ کسی گھبراہٹ کے بغیر ہنسی خوشی سکول جانے لگیں۔اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ قائداعظمؒ محض سیاست دان ہی نہ تھے بلکہ وہ نفسیات کو بھی خوب سمجھتے تھے۔ چنانچہ وہ وقت کی مناسبت سے جب قوم سے مخاطب ہوتے تھے تو ان کی ایک ایک بات افراد مِلت کے دلوں میں اتر جاتی تھی۔

1906ء میں بھائی نے بہن کو سینٹ پٹیرک سکول گھنڈا میں داخل کرا دیا۔ یہاں 1910ء میں فاطمہ نے میڑک کاامتحان نمایاں طور پر پاس کیا۔ سکول کی تعلیم سے فارغ ہو کر فاطمہ بھائی کے پاس آگئیں۔ ان دنوں محمد علی جناح ؒ عدالتی امور میں بے حد مصروف رہتے تھے پھر بھی وہ فاطمہ کی دلجوئی کے لئے کچھ وقت نکال لیا کرتے تھے۔ محمد علی جناح ؒ اس بات کا خاص خیال رکھتے تھے کہ فاطمہ ان کی عدم موجودگی میں تنہائی کے احساس سے بددل نہ ہو جائے چنانچہ جب وہ عدالت جانے لگتے تو فاطمہ کو بھی اپنے ہمراہ بگھی میں بٹھا لیتے۔ راستے میں ان کی ہمشیرہ بیگم پیر بھائی کا گھر پڑتا تھا وہ فاطمہ کو وہاں اتار دیتے اور فاطمہ یہاں اپنی بڑی بہن اور پھوپھی کے بچوں کے ہمراہ وقت گزارتیں۔ واپسی پر محمد علی جناح ؒ فاطمہ کو اپنے ہمراہ گھر لے آتے کھانا کھاتے اور اکٹھے سیر کو نکل جاتے۔ اسی دوران فاطمہ سینئر کیمبرج کے امتحان کی تیاری کرتی رہیں۔ 1913ء میں انہوں نے یہ امتحان بھی پاس کر لیا۔ یہ قائداعظمؒ کی تربیت کا ہی نتیجہ تھا کہ فاطمہ شستہ اور با محاورہ انگریزی بولنے لگیں۔ انہوں نے اپنی گھریلو لائبریری سے استفادہ کیا جہاں مختلف علوم کی نادر کتابیں موجود تھیں۔ اس طرح واقفیت عامہ میں بھی انہیں مہارت حاصل ہو گئی۔

سیاست سے دلچسپی

وکالت اور سیاست کا چولی دامن کا ساتھ ہوا کرتا ہے۔ قائداعظمؒ ایک نامور وکیل تھے وہ سیاست میں داخل ہو گئے۔ مادرِ ملّت ؒقائدؒ کے ہمراہ رہتی تھیں وہ بھی اپنے عظیم بھائی کے زیر سایہ سیاست میں دلچسپی لینے لگیں۔ چنانچہ بائیس تئیس سال کی عمر میں وہ ملکی اور غیر ملکی حالات کا تجزیہ کرنے لگیں۔ بہن بھائی کے درمیان کبھی کبھار ہلکی سی چپقلش بھی ہو جایا کرتی تھی۔ ایک مرتبہ فاطمہ بھائی کے کمرے میں بیٹھی تھیں انہوں نے ہوا کے لئے کھڑکی کھول لی۔ قائداعظمؒ نے کہا فاطمہ میرے کمرے کی کھڑکی کھولنے سے قبل تمہیں مجھ سے اجازت لینی چاہیے تھی۔ فاطمہ اس اعتراض پر ناراض ہو کر اپنے کمرے میں چلی گئیں لیکن جب کھانے کی میز پر بہن بھائی جمع ہوئے تو دونوں بھول گئے کہ وہ آپس میں ناراض ہوئے تھے۔ اگر فاطمہ کبھی واقعی ناراض ہو جاتیں تو قائداعظمؒ خود ان کے کمرے میں چلے جاتے اور انہیں ”فاطی“ کہہ کر پکارتے۔ یہ پیار بھرا نام سنتے ہی فاطمہ کھکھلا کر ہنس پڑتیں اور سارا غصہ جاتا رہتا۔ قدرت کے کام بھی نیارے ہوا کرتے ہیں۔ کون جانتا ہے کہ اگر فاطمہ یتیم نہ ہوتیں تو ان کی زندگی کس طرح گزرتی۔ ہو سکتا ہے کہ وہ بھی خاندان کا اثر قبول کر کے تعلیم سے بے بہر ہ رہ جاتیں اور انہیں بھائی کا مشفقانہ سلوک میسر ہی نہ آتا۔

بھائی بہن کی عارضی جدائی

فاطمہ کے شب وروز ہنسی خوشی گزر رہے تھے۔ یہاں تک کہ 1918ء کا آغاز ہو گیا اس سال قائداعظمؒ رشتہ ازدواج میں منسلک ہو گئے۔ لڑکی کے والد کا نام سرڈنشا پٹیٹ تھا۔ شادی سے قبل انہوں نے رتن بائی کو دائرہ اسلام میں داخل کر لیا اور ان کا اسلامی نام ”مریم جناح“ رکھا جس سے ان کی اسلام سے محبت کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔ اس شادی کے نتیجے میں بھائی بہن کے درمیان عارضی طور پر رفاقت ختم ہو گئی جو قریباً اٹھارہ سال سے جاری تھی۔ فاطمہ اپنی بڑی بہن کے ہاں منتقل ہو گئیں۔ بھائی کے ساتھ ملاقات اب ہر اتوار کو ہونے لگی۔اس دن بہن بھائی اکٹھے کھانا کھاتے۔ اسی اثنا میں فاطمہ کے دل میں کالج میں داخلہ لینے کا خیال آیا۔ ایک اتوار کو انہوں نے اس بارے میں بھائی محمد علی جناح ؒ سے مشورہ کیا۔ قائداعظمؒ نے یہ سوچ کر کہ اس طرح فاطمہ کی تنہائی دور ہو جائے گی انہیں احمد ڈینٹل کالج کلکتہ میں داخل کرا دیا۔ اس دور میں ہندوستان بھر میں دانتوں کا یہ واحد کالج تھا اگرچہ بڑی بہن مریم بھی کلکتہ میں رہائش پذیر تھیں لیکن فاطمہ نے ہوسٹل میں رہنے کو ترجیح دی۔ 1922ء میں انہوں نے اس کالج سے ڈینٹسٹری کی ڈگری حاصل کرلی اور بمبئی واپس آگئیں۔

عملی زندگی کاآغاز

1923ء میں فاطمہ نے بمبئی کی عبدالرحمن سٹریٹ میں اپنا ڈینٹل کلینک قائم کر لیا۔یہ ان کی عملی زندگی کی ابتدا تھی۔ فاطمہ اس کلینک کے ذریعہ قریباً سات سال تک عوام کی خدمت کرتی رہیں۔ اسی دوران وہ ایک میونسپل کلینک میں بھی جاتیں جو دھوبی تلاؤ پر واقع تھا،وہاں وہ غریبوں کا علاج مفت کیا کرتیں۔ 1928ء میں محمد علی جناح ؒ اپنی بیگم مریم جناح کے ہمراہ انگلستان چلے گئے اور اپنی بیٹی دینا کو پھوپھی فاطمہ کے پاس چھوڑ گئے۔ دینا کی عمر اس وقت نو سال تھی۔ قائداعظمؒ کی انگلستان سے واپسی پر دینا والد کے پاس واپس چلی گئی۔

پرائیوٹ سیکرٹری اور معاون

قائداعظمؒ کی اہلیہ کے انتقال کے بعد محترمہ فاطمہ جناح ؒ کو بھائی کا گھر اجڑنے سے فکر لاحق ہوگئی چنانچہ انہوں نے اپنی تمام دیگر مصروفیات ترک کر دیں اور بھائی کا گھر سنبھال لیا۔ اب ان کے سامنے دو راستے تھے۔ پہلا یہ کہ وہ اپنی سرگرمیوں کو گھریلوا مور تک محدود کر دیں اور دوسرا یہ کہ وہ سیاسی میدان میں بھی بھائی کا ہاتھ بٹائیں۔ محترمہ فاطمہ جناح ؒ ایک انتھک خاتون تھیں۔ انہوں نے دونوں ذمہ داریاں سنبھال لیں اور بھائی کی وفات حسرت آیات تک انہیں جس خوش اسلوبی سے نبھایا اس کی مثال مشکل سے ہی مل سکے گی۔

بے مثال ایثار

تاریخ کے اوراق پر نظر دوڑائیں تو ایسی ایثار پیشہ شخصیات بہت کم دکھائی دیتی ہیں جنہوں نے اپنی زندگی دوسروں کے لئے وقف کر دی ہو۔ یہ صرف درویشوں کا کام رہا ہے یا ان بندوں کا جن کے دل اللہ تعالیٰ نے انسانیت کی خدمت کے جذبے سے معمور کر دئیے ہوں۔ مادر ملت محترمہ فاطمہ جناحؒ بھی ان نیک انسانوں میں سے تھیں جو زندگی بھر دوسروں کی خاطر جیتے ہیں۔ مادر ملت ؒ کی تمام زندگی کو دیکھیں تو وہ قربانیوں اور محبتوں سے آراستہ دکھائی دیتی ہے۔ وہ صرف اپنے عظیم بھائی قائداعظم محمد علی جناحؒ اور برصغیر کے مسلمانوں کے لئے زندہ رہیں۔

قائداعظمؒ نے تو ان کی وفا کیشی اور انسانیت پرستی کا بار ہا اعتراف کیا۔ پاکستان کی تعمیر و ترقی اور جمہوریت کی خاطر انہوں نے جو گراں قدر خدمات سر انجام دیں اس کے حوالے سے ان کا مقام قائداعظمؒ ثانی کا بنتا ہے۔ مگر حکومت پر چونکہ قائداعظمؒ کے ساتھیوں کی بجائے جمہور دشمنوں نے قبضہ کر لیا تھا اس لئے انہوں نے مادر ِملت ؒ کے بارے میں ایک بھی کلمہ خیر نہ کہا۔

مادرِ ملت ؒ اس لحاظ سے عظیم خاتون ہیں کہ انہوں نے اپنوں کی تمام زیادتیوں اور منافقتوں کے باوجود پاکستانی عوام کے ساتھ اپنا ربط و ضبط منقطع نہ کیا اور سب کچھ جانتے ہوئے بھی تادم واپسیں حرف شکایت لب پر نہیں آنے دیا۔ محض اس لئے کہ اس طرح ملت میں خلفشار پیدا ہوگااور ملکی سلامتی خطرے میں پڑ جائے گی۔

قائداعظمؒ کی تیمار داری

قائداعظمؒ کی زندگی کے آخری دس سال انگریزوں اور ہندوؤں کے ساتھ جنگ لڑنے کے ساتھ ساتھ اپنی بیماری سے بھی نبرد آزمائی میں گزرے ڈاکٹروں نے انہیں بتا دیا تھا کہ اس قدر زیادہ کام ان کی صحت کے لیے مضر ہے لیکن قائداعظمؒ حصول پاکستان میں اس قدر مصروف تھے کہ آرام کے لیے ایک لمحہ بھی نہیں نکال پاتے تھے قیام پاکستان کے بعد قائداعظمؒ کی مصروفیات میں بے حد اضافہ ہو گیا جس سے ان کی صحت پر شدید اثر پڑا ڈاکٹروں کے مشورے کے برعکس انہوں نے اپنے معمولات جاری رکھے جس سے ان کا مرض بڑھتا چلا گیا چنانچہ 6 جولائی 1948ء کو مادرِ ملتؒ اپنے قائد اپنے بھائی کو بغرض آرام کوئٹہ لے گئیں مگر قائداعظمؒ نے وہاں بھی آرام نہ کیا اور کام جاری رکھا۔

قائداعظمؒ کی رحلت کا صدمہ

قائداعظمؒکی علالت نے مادرِ ملت کی مصروفیات اور تفکرات میں اضافہ کر دیا تھا وہ چوبیس گھنٹے اپنے بھائی کی تیماری داری کے لیے حاضر و مستعد رہتی تھیں بھائی کا کھانا اپنی نگرانی میں پکواتیں اور خود اپنے سامنے کھلاتیں‘ وقت پر دوائی کھلاتیں اور دن رات قائداعظمؒ کی طبیعت کو بشاش رکھنے کے لیے ان سے باتوں میں مصروف رہتیں ملک بھر سے قائداعظمؒ کی مزاج پرسی کے لیے آنے والی شخصیتوں سے ملاقات کرتیں ان کے نام آنے والی ڈاک کا مطالعہ کرتیں۔ مادرِ ملتؒ نے قائداعظمؒ کی خاطر دن کا آرام اور رات کی نیند حرام کر لی تھیں کوئٹہ میں بھی قائداعظمؒ کی طبیعت نہ سنبھلی تو ڈاکٹروں کے مشورے پر انہیں 11 ستمبر 1948ء کو کراچی منتقل کر دیا گیا جہاں اسی شام انہوں نے مادرِ ملتؒ کی طرف دیکھا اور آنکھوں کے اشارے سے اپنے قریب بلایا اور آخری بار کوشش کر کے زیر لب مخاطب ہوئے ”فاطی…… خدا حافظ …… لا الہ الا اللہ محمد الرسول اللہ“ پھر ان کا سر دائیں جانب کو آہستگی سے ڈھلک گیا اور آنکھیں بند ہو گئیں۔

محترمہ فاطمہ جناح کا وہ بھائی رخصت ہو چکا تھا جس نے زندگی بھر کسی سے ہار نہ مانی جس نے ہندو اور انگریز کے گٹھ جوڑ کو پارہ پارہ کر ڈالا اور جس نے پاکستان کی شکل میں صدی کا سب سے بڑا سیاسی معجزہ کر دکھایا۔ مادرِ ملتؒ جانتی تھیں کہ ان کا غم بھائی کو واپس نہیں لا سکتا خدا کی مرضی پوری ہو چکی ہے لیکن جس کے ساتھ زندگی کے پچپن برس گزارے ہوں جس بھائی نے ماں باپ بن کر بہن کی پرورش اور تربیت کی ہو وہ بہن انہیں کس طرح فراموش کر سکتی تھی۔

جمہوریت کے لئے جدوجہد

مادرِ ملّتؒ جمہوریت پسند خاتون تھیں۔ ان کی سیاسی تربیت قائداعظمؒ نے کی تھی جو خود مکمل جمہوریت کے قائل تھے۔ قائداعظمؒ متحدہ ہندوستان کے واحد رہنما تھے جنہوں نے رولٹ ایکٹ کو جمہوریت کے منافی قرار دیتے ہوئے اسمبلی سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ اس وقت آل انڈیا کانگریس میں بڑے بڑے جگا دری جمہوریت کے چیمپئین بنتے تھے لیکن رولٹ ایکٹ پاس ہونے کے بعد بھی ان کی جمہوریت پسندی بیدار نہ ہو سکی اور انہوں نے اس ایکٹ کے نتیجے میں قائم ہونے والی سول آمریت کو خاموشی سے قبول کر لیا۔ لیکن قائداعظمؒ نے بیانگ دہل اس قانون کی مخالفت کی اور جب ان کی بات نہ مانی گئی تو وہ استعفیٰ دے کر اسمبلی سے باہر آگئے۔ ایسے جمہوریت پسند قائد کی بہن ایک غیر جمہوری نظام کو کیسے گوارا کر سکتی تھی۔ یہی جذبہ انہیں آخر کار 1964ء میں عملی سیاست میں کھینچ لایا اور انہوں نے ایوب خان کے خلاف صدارتی امیدوار کی حیثیت سے ملک کے دونوں حصوں کے دورے کر کے آمریت اور آمرانہ نظام کی جڑیں ہلا کر رکھ دیں۔ مادرِ ملّتؒ کو نہ اقتدار کی خواہش تھی نہ نام و نمود کی۔ وہ اپنی زندگی میں سیاست کے تمام نشیب و فراز دیکھ چکی تھیں۔ انہوں نے قائداعظمؒ کی زندگی میں کوئی عہدہ قبول نہ کیا۔ اگر آخری عمر میں متحدہ حزب اختلاف کی دعوت اور پرزور اصرار پر عملی سیاست میں آئیں تو محض اس لئے کہ جمہوریت کو آمریت نے غصب کر لیا تھا۔

مادرِ ملت کی اخلاقی فتح

ایوب خان کی دھاندلی کے سامنے بظاہر تو مادرِ ملّتؒ ہار گئیں لیکن جمہوریت کے حوالے سے وہ جیت گئیں کیونکہ ا س الیکشن کے چند برس بعد پاکستانی عوام نے تحریک چلا کر ایوب خان کو معزول کر دیا۔ ڈھاکہ میں میٹنگ سے خطاب کے دوران ایوب خان کی جمہوریت کے بارے میں مادرِ ملّت ؒ نے کہا:

”ایوب خان کا کہنا ہے کہ لوگ جاہل ہیں وہ جمہوریت کو نہیں سمجھتے اس لئے انہیں بتدریج اختیارات دینے چاہئیں۔ یہ ایک مضحکہ خیز بات ہے۔ یہ کیوں کر ممکن ہے کہ جن لوگوں نے تحریک پاکستان میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور ریفرنڈم میں پاکستان کے حق مین اپنی آزادانہ رائے کا اظہار کیا وہ جمہوریت کو نہ سمجھ سکیں۔ سب سے زیادہ حیر ت کی بات تو یہ ہے کہ ایک سپاہی جس نے کبھی سیاسی امور میں حصہ نہیں لیا آج لوگوں کو سیاست سکھانے کی کوشش کر رہا ہے۔“

ایوب خان نے مادرِ ملّتؒ کوشکست دینے کے لئے ہر قسم کی بے ایمانی اور مکاری سے کام لیا تھا۔ جنوری 1965ء میں مادرِ ملّتؒ نے صدارتی انتخاب کے موقع پر یہ پیغام جاری کیا:

”آج پاکستان کے دونوں بازو جمہوریت کے پرچم تلے جس طرح متحد ہیں قائداعظمؒ کی وفات کے بعد وہ اس سے قبل کبھی اس طرح متحد نہیں ہوئے تھے۔ جمہوریت کی بحالی اب انکے ایمان کا حصہ بن چکی ہے۔“

مادرِ ملّتؒ کی ان خدمات کے حوالے سے قوم انہیں بطور محسنہ ملت ؒ ہمیشہ یاد رکھے گی۔ وہ اگر ایوبی آمریت کے خلاف جمہوریت کا پرچم اٹھا کر باہر نہ نکلتیں تو بعد میں پاکستانی عوام کے دلوں میں اپنے حقوق حاصل کرنے کا جو احساس و ادراک نموپذیر ہوا وہ کبھی پیدا نہ ہوتا۔ اس لحاظ سے قائداعظمؒ اگر بانی ئپاکستان ہیں تو محترمہ فاطمہ جناحؒ پاکستان کے اندر جمہوریت کو عوام میں متعارف کرانے کے باعث بانی ئجمہوریت ہیں۔

وفات حسرت آیات

آخر وہ ساعتِ غم ناک آپہنچی جب بانی پاکستان کی ہمشیرہ اور قوم کی ماں محترمہ فاطمہ جناحؒ 9جولائی 1967ء کو کراچی میں دارِ فانی سے کوچ کر گئیں۔ اس طرح جہاں قائداعظمؒ کی وفات سے سیاست کے ایک درخشاں دور کا خاتمہ ہو گیا وہاں مادرِملّتؒ کی وفات حسرت آیات سے فلاح و بہبود کا ایک دور ختم ہو گیا۔ مادرِملّتؒ کی وفات کی خبر لوگوں کو اچانک ملی۔ اس سے قبل ان کی بیماری کی کوئی خبر شائع نہیں ہوئی تھی چنانچہ ابتدا میں لوگوں نے اسے افواہ قرار دیکر مسترد کر دیا لیکن حقائق کو کون ٹال سکتا تھا۔ عوام کے یقین نہ کرنے کی ایک وجہ یہ تھی کہ مادرِملّتؒ نے ایک روز قبل میر لائق علی کی بیٹی کی شادی میں شرکت کی تھی۔ اگرچہ ان پر بڑھاپا طاری ہو چکا تھا پھر بھی وہ صحت مند دکھائی دے رہی تھیں۔ اسی لئے عوام کا ذہن اس خبر کو قبول نہ کرتا تھا۔ بالآخر جب ریڈیو پاکستان نے پروگرام روک کر مادرِملّتؒ کی وفات کی خبر سنائی تو عوام کو اس پر یقین کرنا پڑا۔ خبر کی تصدیق ہوتے ہی پورا ملک رنج و غم میں ڈوب گیا، ہزاروں لوگ قصر فاطمہ کے قریب جمع ہو گئے۔ ہر آنکھ اشکبار تھی لوگ سوچ رہے تھے کہ آج پاکستان کی سیاست سے جناح خاندان کا نام ختم ہو گیا کیونکہ مادرِملّتؒ اور قائداعظمؒ کے سوا اس خاندان کے کسی اور فرد کو سیاست یا فلاحی کاموں سے کوئی دلچسپی نہ تھی۔ حکومت پاکستان نے اعلان کیا کہ اگلے دن(سوموار) ملک میں مادرِملّتؒ کے سوگ میں عام تعطیل ہو گی۔ سرکاری عمارتوں پر قومی پرچم سرنگوں کر دیا گیا۔

مادرِملّتؒ کی قبر

مادرِملّتؒ نے یہ وصیت کر دی تھی کہ وفات کے بعد انہیں قائداعظمؒ کے قریب دفن کیا جائے۔ مادرِملّتؒ کی قبر مزارِ قائداعظمؒ سے ایک سو بیس فٹ دور بائیں جانب کھودی گئی۔

جنازے کا جلوس اور نماز جنازہ:

مرحومہ کی پہلی نماز جنازہ قصر فاطمہ میں مولانا ابن حسن جارچوی نے پڑھائی۔ جنازہ پونے نو بجے اٹھا تو دور دور تک انسانوں کا سمندر نظر آ رہا تھا۔ آنکھیں اشکبار تھیں۔ جذبات سے مغلوب لوگ مادرِملّتؒ زندہ باد کے نعرے لگا رہے تھے۔ صدر ایوب کے نمائندے وزیر خوراک شمس الضحیٰ‘ بحریہ کے سربراہ ایڈ مرل ایم حسن، گورنروں کے ملٹری سیکرٹری، کراچی کے اعلیٰ حکام، اسمبلیوں کے ارکان اور سیاسی رہنما اشک بہاتے ہوئے جنازے کے پیچھے چل رہے تھے۔ سورۃ یٰسین کی تلاوت ہو رہی تھی۔ پولیس کی وائر لیس گاڑی بھی ہمراہ تھی۔ جلوس ایک فرلانگ تک جا چکا تھا کہ مسلم لیگ نیشنل گارڈز نے ایک قومی پرحم مرحومہ کے جسد خاکی پر ڈال دیا۔ جلوس جوں جوں آگے بڑھتا گیالوگوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا چلا گیا۔ خواتین چھتوں سے جنازے پر پھولوں کی پتیاں نچھاور کر رہی تھیں۔ نماز جنازہ کا انتظام میونسپل کارپوریشن نے پولو گراؤنڈ میں کر رکھا تھا۔ جنازہ پہنچنے سے قبل ہی سارا گراؤنڈ لوگوں سے بھر چکا تھا۔ نمازجنازہ مولانا مفتی محمد شفیع اوکاڑوی نے پڑھائی۔ جب میت دوبارہ گاڑی میں رکھی گئی تو سوگواروں کی تعداد لاکھوں تک پہنچ چکی تھی۔

عوام کی پذیرائی

بیگم نورالصباح ایک انٹرویو میں کہتی ہیں کہ میں نے قائداعظمؒ اور نوابزادہ لیاقت علی خان کے جنازے بھی دیکھے تھے لیکن مادرِملّتؒ کے جنازے میں شریک ہونے والوں کی تعداد کہیں زیادہ تھی۔اس کی ایک وجہ تو یہ تھی اس وقت کراچی کی آبادی میں بہت اضافہ ہو چکا تھا۔ دوسرے صدارتی انتخاب میں ایوب خان کا مقابلہ کر کے مادرِملّتؒ نے پورے ملک کو زبان بخشی تھی۔ قبر تک پہنچتے پہنچتے شرکا کی تعداد ایک اندازے کے مطابق چار لاکھ سے تجاوز کر چکی تھی۔ جدھر نظر ڈالو مردوں اور خواتین کا سمندر دکھائی دیتا تھا۔ جنازے کا جلوس مزار قائد کے احاطے میں داخل ہوا تو سب سے پہلے شریف الدین پیرزادہ نے کاندھا دیا وہ اس وقت وزیر خارجہ تھے اوراقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے بعد کراچی کے ہوائی اڈے سے سیدھے یہاں پہنچے تھے۔ دوپہر کے بارہ بجے تک جنازے میں شرکا کی تعداد پانچ لاکھ سے بڑھ چکی تھی۔ چونکہ عام تعطیل کا اعلان ہو چکا تھا اس لئے ہر شخص کی خواہش تھی کہ وہ مادرِملّتؒ کے جنازے میں شرکت کی سعادت حاصل کرے۔ ہجوم بے قابو ہو رہا تھا۔

ایک اندازے کے مطابق جنازے میں شرکا کی تعداد کسی طرح بھی دس لاکھ سے کم نہ تھی۔ جب جنازہ قبر کے قریب پہنچا تو دن کے ساڑھے بارہ بجے تھے۔ بالآخر کے ایچ خورشید اور ایم اے ایچ اصفہانی نے کپکپاتے ہاتھوں کے ساتھ مادرِملّتؒ کے جسدِ خاکی کو لحد میں اتارا۔ اس موقع پر لاکھوں لوگ رو رہے تھے۔ 12بج کر 55منٹ پر قبر ہموار کر دی گئی۔ دوسرے ملکوں کے نمائندے بھی تدفین میں شریک ہوئے۔ مادرِ ملتؒ کی ابدی جدائی کو ہر شخص نے ملت کے لیے عظیم نقصان قرار دیا۔

٭٭٭

مزید :

ایڈیشن 1 -