امریکہ جیسا ترقی یافتہ ملک بھی آ ن لائن ایجوکیشن کیلئے تیار نہیں،ڈاکٹر جوبشپ

امریکہ جیسا ترقی یافتہ ملک بھی آ ن لائن ایجوکیشن کیلئے تیار نہیں،ڈاکٹر جوبشپ

  

سرگودھا (پ ر) عالمی وبا ء کورونا کے دوران پاکستان میں جدید تعلیم کے موضوع پر سرگودھا یونیورسٹی کے چوتھے ویبینار میں اقوام متحدہ کی جانب سے طے کئے گئے پائیدار ترقی کے ہدف نمبر 4”معیاری تعلیم کی فراہمی“ کو فروغ دیا گیا۔ امریکہ سے ڈاکٹر جو بشپ،ہانگ کانگ سے ڈاکٹر سوسن برجز،فرانس سے ڈاکٹر لیورنٹ لیما،ملائشیا سے ڈاکٹر محمد فیضل بن غنی،علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی اسلام آباد سے ڈاکٹر نصیر محمود،لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز سے ڈاکٹر فیصل باری اورآغا خان یونیورسٹی سے ڈاکٹر انجم ہلائی نے لیکچر دیے۔ڈاکٹر جو بشپ نے کہا کورونا کے باعث تعلیمی سرگرمیاں بھی منجمد ہو کر رہ گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ جیسا ترقی یافتہ ملک بھی آن لائن ایجوکیشن کیلئے تیار نہیں، امریکہ میں بھی بیشتر طلبہ کو انٹرنیٹ اور کمپیوٹر میسر نہ ہونے کی وجہ سے آن لائن کلاسز لینے میں دقت کا سامنا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمیں آفت کی صورت میں تدریسی عمل جاری رکھنے کیلئے آن لائن کا مناسب نظام بنانا ہوگا۔ ڈاکٹر سوسن نے کہا کہ ہنگامی صورتحال میں تعلیم کی ضرورت ختم نہیں ہو جاتی اس لیے ”پرابلم بیسڈ ایجوکیشن“ پر توجہ دینی چاہیے۔ڈاکٹرنصیرمحمود نے کہا کہ آن لائن ایجوکیشن میں سب سے بڑی رکاوٹ درست معلومات کا دستیاب نہ ہونا ہے۔ ویبینار میں ڈاکٹرمحمد فیضل بن غنی اورڈاکٹر فیصل باری نے بھی خیالات کا اظہار کیا۔

مزید :

میٹروپولیٹن 1 -