ایف بی آر کے چیئرمین پر پاکستان بار کونسل اور سپریم کورٹ بار کے اعتراضات

ایف بی آر کے چیئرمین پر پاکستان بار کونسل اور سپریم کورٹ بار کے اعتراضات

  

پاکستان بار کونسل اور سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے مطالبہ کیا ہے کہ گریڈ بائیس کے کسی غیر جانبدار افسر کو ایف بی آر کا چیئرمین مقرر کیا جائے، اگر ایسے چیئرمین کا تقرر نہ کیا گیا تو بار کونسل اور سپریم کورٹ بار جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی رپورٹ تسلیم نہیں کریں گی،بار کونسل کے وائس چیئرمین عابد ساقی اور سپریم کورٹ بار کے صدر سید قلب ِ حسن کا کہنا ہے کہ چیئرمین ایف بی آر کے تقرر کے معاملے پرحکومت کے اقدام کی شدید مزاحمت کی جائے گی، ایک اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ چیئرمین ایف بی آر کو اچانک تبدیل کر کے محمد جاوید غنی کو اضافی چارج کے ساتھ چیئرمین بنا دیا گیا۔ یہ اچانک تبدیلی حیران کن ہے ایسے وقت میں یہ تبادلہ کیا گیا جب جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا ہائی پروفائل مقدمہ ایف بی آر کو بھیجا جا چکا ہے، چیئرمین ایف بی آر کو ہٹانا بظاہر تحقیقات پر اثر انداز ہونے کے مترادف ہے، ایسے وقت میں چیئرمین کو ہٹانا اور مستقل چیئرمین مقرر نہ کرنا بدنیتی ہے۔ کہا گیا ہے کہ یوں لگتا ہے کہ جیسے حکومت ایف بی آر کی تحقیقات پر اثر انداز ہونا چاہتی ہے اور جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیس میں غیر جانبدار نہیں ہے اور ایسا نہ کر کے وہ توہین ِ عدالت کی مرتکب ہو رہی ہے، غیر جانبدار چیئرمین کے تقرر ہی سے معاملے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات ممکن ہے۔

ایف بی آر کی سابق سربراہ نوشین جاوید کو چھٹی والے دن تبدیل کیا گیا، اُنہیں ہٹانے کے لئے کابینہ سے ”سرکولیشن سمری“ کے ذریعے منظوری لی گئی اور بند دفتر کھلوا کر نوٹیفکیشن جاری کیا گیا۔لگتا ہے ایف بی آر میں حکومت کے کوئی ایسے معاملات اٹکے ہوئے تھے،جو ان کی موجودگی میں آگے نہیں چل رہے تھے،اب پاکستان بار کونسل اور سپریم کورٹ بار کے احتجاج سے اندازہ ہوتا ہے کہ اُن کے تبادلے کا تعلق جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیس سے بھی ہو سکتا ہے اور بعض دوسرے معاملات بھی ایسے تھے،جن میں سابق چیئرمین حسب ِ توقع کوئی اقدام کرنے کے لئے تیار نہیں تھیں،اِس لئے دو دِن انتظار کرنے کی بجائے اور کابینہ کا باقاعدہ اجلاس بُلا کر کوئی فیصلہ کرنے کا سیدھا راستہ اختیار کئے بغیر جلدی جلدی منظوری کے لئے کابینہ کے ارکان کو فرداً فرداً سمری بھیج کر اُن سے دستخط کرائے گئے۔ سپریم کورٹ فیصلہ دے چکی ہے کہ حکومت کی تعریف میں وزیراعظم اور کابینہ آتے ہیں اِس لئے کابینہ کے ارکان کو اعتماد میں لینے کے لئے اُنہیں سمری بھیجی گئی۔ سابق چیئرمین کو نسبتاً غیر اہم پوسٹ پر تعینات کیا گیا ہے، جس سے لگتا ہے کہ محض چیئرمین شپ سے ہٹانے سے غصہ ٹھنڈا نہیں ہوا۔ اُن کی جگہ جن صاحب کا تقرر کیا گیا وہ مستقل نوعیت کا نہیں ہے، بلکہ اُنہیں عبوری طور پر یہ چارج سونپا گیا ہے۔وکلا اداروں کے خیال میں یہ عبوری تقرر اِس لئے کیا گیا ہے کہ ہائی پروفائل کیس میں کوئی من پسند فیصلہ کرایا جائے۔ سپریم کورٹ نے حکم دیا تھا کہ ایف بی آر کورئر سروس کے ذریعے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ اور بچوں کے نام نوٹس بھیجے، معلوم نہیں یہ نوٹس اُن کی رہائش کے دروازے پر کیوں چسپاں کرائے گئے اور کورئر پرسن نے ذاتی طور پر اُن کے حوالے کیوں نہیں کئے، معاملات کی یہ ترتیب شکوک و شبہات میں اضافہ کرتی ہے۔

حکومت نے دو سال میں سرکاری ملازمین کے تبادلے جس سرعت سے کئے ہیں اس کی نظیر ماضی میں شاید ہی تلاش کی جا سکے، پنجاب میں چار چیف سیکرٹری اور چار آئی جی تبدیل کئے جا چکے ہیں، ایف بی آر میں بھی اِس وقت پانچواں چیئرمین لایا گیا ہے، اِن پانچوں میں ایک چیئرمین پرائیویٹ سیکٹر سے بھی لایا گیا اور اُن کے تقرر میں ضوابط کا پاس لحاظ نہیں رکھا گیا، اعلیٰ عدالتیں قرار دے چکی ہیں کہ اگر پرائیویٹ سیکٹر سے کسی کی خدمات درکار ہوں تو حکومت اس پوسٹ کو باقاعدہ مشتہر کرے اور جو لوگ درخواستیں دیں اُن میں سے بہترین امیدوار کا انتخاب کیا جائے، لیکن شبر زیدی کو چیئرمین مقرر کرتے وقت یہ راستہ اختیار نہ کیا گیا، یہ ظاہر کیا گیا کہ وہ اعزازی طور پر کام کریں گے۔ بہرحال وہ بھی اب قصہ ئ پارینہ بن گئے ہیں اُن کی جگہ نوشین جاوید کا تقرر کرتے وقت بتایا گیا تھا کہ وہ بڑی لائق فائق افسر ہیں اور ان کے دور میں ایف بی آر کی کارکردگی کو چار چاند لگ جائیں گے،لیکن چند ہی ماہ میں اُنہیں جلد بازی میں عہدے سے ہٹا کر ایک عبوری چیئرمین لگانا پڑا۔

پاکستان بار کونسل اور سپریم کورٹ بار کا یہ مطالبہ بالکل جائز اور درست ہے کہ اگر حکومت نے ایک چیئرمین کو ہٹا دیا ہے تو اُن کی جگہ گریڈ بائیس کا مستقل افسر مقرر کیا جائے، جو اپنے فرائض بلاخوف و خطر ادا کرے اور کسی دباؤ کا شکار نہ ہونے پائے،جس افسر کو تین ماہ کے لئے اضافی چارج دے کر بٹھایا گیا ہے خدشہ ہے کہ وہ غیر جانبدار رہ کر بلا خوف اپنے فرائض انجام نہیں دے سکے گا، کیونکہ اپنے مستقبل کے حوالے سے وسوسے اسے گھیرے ہوئے ہوں گے،”کہیں ایسا نہ ہو جائے، کہیں ویسا نہ ہو جائے“ ویسے یہ بات عجیب معلوم ہوتی ہے کہ عبوری تقرر کر کے فیصلے پر نقد و جرح کا راستہ کیوں کھلا رکھا گیا، اب اس کا حل یہی ہے کہ وکلا اداروں کا مطالبہ مان کر کسی غیر جانبدار افسر کا تقرر کیا جائے، اگر ایسا نہ ہوا تو ایک نیا جھگڑا کھڑا ہوسکتا ہے، جو کسی کے مفاد میں بھی نہیں ہو گا۔

مزید :

رائے -اداریہ -