اختر مینگل کی لاپتہ افراد سے متعلق فہرست درست نہیں، وزیر داخلہ بلوچستان

اختر مینگل کی لاپتہ افراد سے متعلق فہرست درست نہیں، وزیر داخلہ بلوچستان

  

کوئٹہ (آئی این پی)بلوچستان کے وزیر داخلہ میر ضیا اللہ لانگو کا کہنا ہے کہ بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ اختر مینگل کی جانب سے قومی اسمبلی میں لاپتہ افراد سے متعلق دی گئی فہرست میں تعداد درست نہیں، لاپتہ افراد کی تعداد 300کے لگ بھگ ہیں جن میں سے سو کے قریب واپس گھروں کو لوٹ چکے ہیں، ماضی میں پچھلی حکومت ہو یا اپوزیشن جماعتیں کسی نے لاپتہ افراد کے مسئلے کو درست انداز میں نہیں دیکھا، افغانستان کے ساتھ سرحد بند ہونے کی وجہ سے دہشتگردی کے واقعات میں واضح کمی آئی ہے، دہشتگرد چمن کا راستہ استعمال کرکے پاکستان آتے تھے اس لیے اب چمن سرحد پر آمد ورفت کے طریقہ کار تبدیل کیا جارہا ہے، مکران کی طرف بھی پاک ایران بارڈر پر مشکلات درپیش ہیں دہشت گرد واردات کرکے سرحد پار کر لیتے ہیں، پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات میں بھارت براہ راست ملوث ہے جس کے لئے افغان سرزمین استعمال کی جا رہی ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے ایک عرب خبر رساں ادارے کو انٹرویومیں کیاہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت پاکستان میں دہشتگردی کے واقعات میں براہ راست ملوث ہے اور افغانستان اپنی سرزمین استعمال کرنے کے لیے دے رہا ہے۔کورونا وائرس کی وجہ سے افغانستان سمیت دوسرے ممالک کے ساتھ سرحدیں بند ہونے کے بعد امن وامان سمیت دوسرے پہلوں کا جائزہ لینے کے اجلاس ہوتے ہیں۔امن وامان کی صورتحال کے جائزہ کے دوران پتہ چلا کہ دہشتگردی کی شرح میں بہت زیادہ کمی آئی ہے۔صوبائی وزیر داخلہ نے کہا کہ مزید تحقیقات کی گئیں اور پچھلے ریکارڈز کو دیکھا گیا تو پتہ چلا کہ دہشتگردوں کا چمن کے راستے آنا جانا بہت زیادہ تھا۔ ہم نے بہت سے ایسے دہشتگردوں کو پکڑا ہے جو اسی راستے سے آئے تھے۔اس لیے اب پاک افغان چمن سرحد پر پیدل آمد ورفت کے طریقہ کار کو تبدیل کیا جارہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاک افغان چمن سرحد پر اب پہلے جیسی (آزادانہ)آمد ورفت ممکن نہیں، آمد ورفت کے ضوابط پر عمل کیا جائے گا۔ پہلے کی طرح مکمل سرحد بحال کرنا ریاست اور ریاستی اداروں کے لیے مسئلہ ہے۔'فورسز کے خدشات اورمسائل کو بھی پیش نظر رکھیں گے اور سرحد کی بندش، پیدل آمد ورفت کے طریقہ کار تبدیل ہونے کے نتیجے میں متاثر اور بے روزگار ہونے والوں کو بھی سہولیات دیں گے۔ضیا لانگو نے کہا کہ متاثرہ افراد کو حکومت نے احساس پروگرام کے تحت امداد کی پیشکش کی ہے۔ ہم نے ان سے کہا ہے کہ جب تک آپ کے لیے کوئی متبادل روزگار تلاش نہیں کرتے ہم آپ کو تیس ہزار روپے مہینہ دے دیتے ہیں۔دوسرا ہم نے یہ آفر کی کہ ہم آپ کو ایف سی میں ملازمتیں دیں گے۔ ہم نے یہ بھی آفر کی ہے کہ بارڈر پر جو ہم باڑ لگارہے ہیں اس کے کام میں ہم آپ کو مزدوری پر لگائیں گے۔ ہم ان کو متبادل روزگار دے کر ہی کوئی فیصلہ کریں گے۔ان کا کہنا تھا کہ ہزاروں لوگوں کو ماہانہ بیس سے تیس ہزار روپے دینے کے لیے خطیر رقم کی ضرورت ہوگی لیکن ہمارے وہ لوگ جن کا روزگار جارہا ہے ہم انہیں بھوک سے مرنے نہیں دیں گے ان کے لیے حکومت ضرور قربانی دے گی۔ ترقیاتی یا غیر ترقیاتی بجٹ جہاں سے بھی ہوا کٹوتی کرکے ان کو پورا کریں گے۔

وزیر داخلہ بلوچستان

مزید :

پشاورصفحہ آخر -