صوبائی وزیر قانون سلطان محمد خان سے شادی ہالز ایسوسی ایشن کت وفدکی ملاقات

صوبائی وزیر قانون سلطان محمد خان سے شادی ہالز ایسوسی ایشن کت وفدکی ملاقات

  

پشاور(سٹاف رپورٹر)خیبرپختونخوا کے وزیر قانون وپارلیمانی امور اور انسانی حقوق سلطان محمد خان سے خیبرپختونخوا پختونخوا شادی ہالز ایسوسی ایشن کے وفد نے بدھ کے روز پشاور میں ملاقات کی اور شادی ہالز کھولنے بارے اور ایس او پیز کے متعلق تفصیلی بریفننگ دی۔وفد نے ایس اوپیز کے متعلق بتایا کہ ہالز میں تقریبات کیدوران سٹاف ماسک اور دستانوں کا باقاعدہ استعمال کرے گا اور ان کا ٹمپریچر بھی روزانہ کی بنیاد پر چیک کرایا جائے گا۔ ہر فنکشن کے بعد ٹیبل کلاتھ اور سیٹ کوور کو بھی تبدیل کیا جائے گا داخلی راستوں پر ہینڈ سینیٹائزر رکھے جائیں گے ہالز کیپیسیٹی کو 50فیصد تک کم کرکے ہر ٹیبل پر مہمانوں کی تعداد آدھی رکھی جائے گی کراکری کو ہر فنکشن کے بعد بھی سانیٹائز کیا جائے گا۔ وفد نے وزیر قانون کو کورونا وائرس کے پھیلنے سے نمٹنے کے لئے ہالز بند ہونے سے بے روزگار ہونے والے ایمپلائز کو درپیش مسائل سے آگاہ کیا وفد نے مزید بتایا کہ شادی ہالز بند ہونے سے صرف انکی انڈسٹری متاثر نہیں ہوئی ہے بلکہ جیولری،پرنٹنگ پریس اور ایمبرائیڈری جیسی انڈسٹری بھی متاثر ہوئی ہے جس سے ھزاروں لوگوں کا روزگار متاثر ہوا ہے۔سلطان محمد خان نے وفد کو بتایا کہ وزیراعظم عمران خان کی انسداد کورونا وائرس جیسی وباء جس نے ساری دنیا کو اپنے لپیٹ میں لیا ہے کے بارے میں لاک ڈاؤن اور اختیاطی تدابیر کی بہت واضح پالیسی ہے کہ کرونا وائرس سے بچنا بھی ہیاور معیشت کو بھی بچانا ہے انہوں نے اس موقع پر کہا کہ ایسوسی ایشن کی جانب سے پیش کردہ ایس اوپیز پر مبنی سفارشات وزیر اعلیٰ کو پیش کی جائیں گی جس کے بعد شادی ہالز کھولنے کا ختمی فیصلہ کیا جائے گا کیوں کہ کرونا سے بھی بچنا ہے واضح رہے کہ شادی ہالز ایسوسی ایشن نے ہالز کھولنے کے لئے احتجاج کیا تھا وزیر قانون کے کامیاب مذاکرات کے بعد ایسوسی ایشن نے احتجاج ختم کر دیا اور وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان سے انکی ملاقات کرائی گئی جس پر وزیر اعلیٰ نے ایسوسی ایشن سے مشاورت کے بعد سفارشاتی رپورٹ پیش کرنے کا انہیں ٹاسک سونپا تھا۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -