مغرب،مندر اور مسلمان

مغرب،مندر اور مسلمان

  

آپ شاپنگ سنٹر میں داخل ہوتی ہیں۔ خریداری کا ارادہ ہے۔ یکایک پولیس آ کر آپ کو چہرے کا نقاب ہٹانے کا حکم دیتی ہے۔ساتھ ہی 150 یورو جرمانے کا ٹکٹ آپ کو تھما دیا جاتا ہے۔ جی ہاں، ایسا ہو چکا۔ پیرس میں 27 سالہ خاتون کے ساتھ عوامی مقامات پر چہرہ ننگا رکھنے کے قانون کے تحت یہی کیا گیا۔ اس قانون کے تحت سڑک اور پارک میں راہ گزرتی خاتون کو پولیس روک کر چہرہ ڈھانپنے کے جرم میں جرمانہ عائد کر سکتی ہے۔میڈیا رپورٹ کے مطابق نیدرلینڈ میں حجاب سے چہرہ ڈھانپنے پر 150 یورو، ڈنمارک میں 135 یورو ، آسٹریا میں 150 یورو، بلغاریہ میں 750 یورو،بلجئیم میں 7 دن قید، فرانس میں 150 یورو کا جرمانہ ہے۔فرانس میں سکول میں ہیڈ سکارف (سر ڈھانپنا) منع ہے۔ فرانس نے ساحل سمندر پربرکینی بین (مکمل سوئمنگ سوٹ پر پابندی) بھی نافذ کیا تھا، لیکن عدالتی فیصلے پر اس پابندی کو ختم کر دیا گیا تھا۔ یعنی لباس کے معاملے میں ملکی قانون کی اجازت سے ہی مذہب کی ہدایات پر عمل کیا جا سکتا ہے، بصورت دیگر نہیں۔

چند برس بیتے جنوبی افریقہ جانے کا اتفاق ہوا۔ اک مہربان میزبان کے گھر رات کے کھانے پر مدعو تھے۔ بتانے لگے کہ علاقے میں اب ایک گھر انہ غیر مسلم ہے اگر وہ بھی علاقہ چھوڑ جائے گا تو ہمیں بآواز بلند (لاؤڈ سپیکر) میں اذان کی اجازت مل جائے گی۔ کچھ عرصہ قبل مسلمانوں نے برطانوی پارلیمینٹ میں ایک پٹیشن دائر کی کہ برطانیہ میں 3 ملین سے زائد مسلمان ہیں۔ مسلم اکثریتی علاقوں میں کم از کم تین بار بلند اذان کی اجازت دی جائے۔ غیر سماجی اوقات میں (اجازت) نہ دی جائے۔ 28 ہزار لوگوں نے پٹیشن پر دستخط کئے۔ برطانوی پارلیمنٹ کی طرف سے جواب میں مقامی انتطامیہ سے رجوع کرنے کا کہا گیا۔ گویا بآواز بلند اذان کی اجازت بھی مقامی قانون سے مشروط ہے۔

غیر مسلم ممالک میں اقلیتی مسلمانوں کو جو مذہبی آزادی حاصل ہے اس غیر مسلم ملک کے قانون کے مطابق ہے۔ان کواتنی ہی آزادی حاصل ہے جتنا اس ملک کا قانون اجازت دے گا۔ یہ مثالیں جو میں نے ذکر کی ہیں ان سے واضح ہو جاتا ہے کہ کسی ملک کے قانون کے مطابق ہی وہاں اقلیتوں کو مذہبی آزادی حاصل ہوتی ہے۔ٹیکس تو مسلمان بھی غیر مسلم ممالک میں ادا کرتے ہیں، جس کے نتیجے میں ان کو جان و مال کی حفاظت اور شہری سہولیات وغیرہ دی جاتی ہیں۔ لیکن ٹیکس کی رقم سے مسلمانوں کو مساجد تعمیر کر کے نہیں دی جاتیں۔ پاکستان میں اقلیتیوں کو حقوق ملکی قانون اور اسلامی شریعت کی روشنی میں حاصل ہوں گے، کیونکہ پاکستانی آئین کے مطابق قرآن و سنت سے متصادم قوانین نہیں تشکیل دئیے جا سکتے۔پاکستان میں غیر مسلموں کی موجود عبادت گاہوں میں عبادت کرنا ان کا حق ہے۔ قیام پاکستان سے اب تک وہ اپنا یہ حق استعمال کر رہے ہیں۔

23 جون 2020 کو انسانی حقوق کے پارلیمانی سیکریٹری لال چند ملہی نے اس مندر کے لئے منظور شدہ 4کنال زمین پر تعمیراتی کام کا افتتاح کیا۔2017ء میں مقامی ہندو کونسل کو یہ جگہ مختص کی گئی تھی۔میڈیا کے مطابق اب وزیراعظم عمران خان نے تعمیرکے لئے دس کروڑ روپے گرانٹ کا اعلان کیا ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی رمیش کمار وانکوانی کے مطابق اس وقت راولپنڈی میں 30 سے 35 مندر بند پڑے ہیں اور زبوں حالی کا شکار ہیں۔ قابل ِ غور بات یہ ہے کہ پرانے مندر بند ہیں اور نئے بنائے جا رہے ہیں۔پنجاب اسمبلی کے سپیکر اور ملک کے سینئر سیاستدان پرویز الٰہی نے بھی اس مندر کی تعمیر کی مخالفت کی ہے۔سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو پیغام میں ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اسلام کے نام پر بنا تھا اور اسلام آباد میں نئے مندر کی تعمیر نا صرف اسلام کے خلاف ہے، بلکہ ریاست ِ مدینہ کے بھی خلاف ہے۔ انہوں نے کہا کہ پیغمبر اسلام نے فتح مکہ کے بعد 360 بْت تباہ کیے تھے۔

علماء نے بھی اس اقدام کی مخالفت کی ہے۔مذہبی جماعتوں نے اسلام آباد میں مند ر کی تعمیر کو نظریہ پاکستان کے مخالف قرا ر دیتے ہوئے کہا ہے کہ مسلمانوں کے خون پسینے کی کمائی سے مندر کی تعمیر کی اجازت نہیں دی جائے گی۔دینی جماعتوں نے مندر کی تعمیر کا معاملہ وفاقی شرعی عدالت میں لے جانے کا اعلان کیا۔ علما ء کرام نے اسلام آباد میں ہندو مندر کی تعمیر کے خلاف پریس کانفرنس کرتے ہوئے حکومت پر واضح کیا کہ مسلمانوں کے ٹیکس کے پیسوں سے بت خانہ تعمیر کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔جمعیت علماء اسلام کے مولاناعبدالمجید ہزاروی، مرکزی جمعیت اہلحدیت کے حافظ مقصود،جماعت اسلامی کے کاشف چودھری،مولانا تنویر علوی اور دیگر اس موقع پر موجود تھے۔پریس کانفرنس میں یہ بھی کہا گیا کہ اسلام آباد میں صرف 186 ہندوؤں کے لئے مندر تعمیر کرنا کہاں کا اصول ہے،جب سید پور گاؤں میں مندر موجود ہے تو نئے مندر کی کیا ضرورت ہے۔

ایک اور خبر کے مطابق وفاقی وزیر مذہبی امور پیر نورالحق قادری نے وزیراعظم عمران خان کو تجویز دی کہ اسلام آباد کے سیکٹر ایچ نائن تھری میں جہاں ہندؤوں کے لئے مندر بنایا جانا ہے وہیں پر سکھ برادری کے لئے گردوارہ مسلمانوں کے لیے مسجد،عیسائیوں کے لئے چرچ اور پارسیوں کے لئے بھی عبادت گاہ بنائی جائے۔ اس سے قبل کرتار پور گوردوارے پر میڈیا رپورٹس کے مطابق اربوں روپے خرچ کیے گئے اور اس کیلئے 800 ایکڑ اراضی مختص کی گئی، جس میں سے 104 ایکڑ مرکزی عمارت اور اس کے صحن کے لئے استعمال کی جا رہی ہے۔ 36 ایکڑ شجرکاری، پھلوں کے باغات اور فصلوں کیلئے مخصوص ہے۔4 ایکڑ تک محدودگوردوارہ اب دنیا کا سب سے بڑا گوردوارہ بن گیا ہے۔

غیر ملکی طاقتیں پاکستان میں اپنا ایجنڈا نافذ کرنے کے لئے عمل پیرا ہیں۔میڈیا کے مطابق امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی (یو ایس سی آئی آر ایف) نے بدھ کو واشنگٹن میں جاری ہونے والی ایک نئی رپورٹ میں کہا ہے کہ اگر پاکستان چاہتا ہے کہ امریکہ اسے ان ممالک کی فہرست سے نکال دے جہاں مذہبی آزادی کو خطرہ لاحق ہے تو پاکستان کو امریکی حکومت کے ساتھ ایک نیا معاہدہ کرنا چاہئے،جس کے تحت پاکستان ملک میں توہین رسالت کے تمام قوانین کے خاتمے یا ان پر نظرثانی کرنے کی یقین دہانی کروائے گا۔ کمیشن نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت پاکستان پینل کوڈ کے آرٹیکل 295اور298 اے کا خاتمہ کرے، جس کے تحت توہین رسالت کو جرم قراردیا گیا ہے۔

عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا تھا ”ہم اپنے شہر اور اس کے گرد ونواح میں پادری کی رہائش گاہ اور راہب کا جھونپڑانہیں بنائیں گے اور نہ ہی ان میں سے جو خراب ہو گیا اس کی تزئین و آرائش کریں گے، اور نہ ہی ان میں سے جو مسلمانوں کے علاقہ میں ہو اسے آباد کریں گے۔“مسندالفاروق 2/334 (663)۔ اقلیت کو حقوق دیں، لیکن اکثریت کے حقوق کو اور اسلام کے احکام کو نظر انداز مت کریں۔ پاکستان ایک اسلامی ملک ہے۔ وزیر اعظم اور صدرکے عہدے کے لئے بھی مسلمان ہونا لازمی ہے۔ اسلام پر عمل درآمد کرناہی نظریہ پاکستان کا تقاضا ہے۔

اپنی ملت پر قیاس اقوام مغرب سے نہ کر

خاص ہے ترکیب میں قوم رسول ہاشمی

مزید :

رائے -کالم -