وائس چانسلر گومل یونیورسٹی کی زیر صدارت102ویں سنڈیکیٹ میٹنگ

وائس چانسلر گومل یونیورسٹی کی زیر صدارت102ویں سنڈیکیٹ میٹنگ

  

ڈیرہ اسماعیل خان(بیورورپورٹ)وائس چانسلر گومل یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر افتخار احمد کی زیر صدارت 102ویں سنڈیکیٹ میٹنگ کا انعقاد کیا گیا۔ اس موقع پر ممبر سنڈیکیٹ/سینٹ /ایف اینڈ پی جسٹس(ر) محمد داؤد،رجسٹرار طارق محمود، ڈائریکٹر فنانس اقبال اعوان، ڈین فیکلٹی آف سائنسز و فارمیسی پروفیسر ڈاکٹر حلیم شاہ،ایسوسی ایٹ پروفیسر فیکلٹی آف ایگریکلچر ڈاکٹر محمد اقبال، نمائندہ سیکرٹری ہائیر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ محمد ندیم، نمائندہ اسٹیبلشمنٹ ڈیپارٹمنٹ احمد کمال، نمائندہ فنانس ڈیپارٹمنٹ حیات الرحمن، پرنسپل ڈگری کالج درابن محمد شکیل ملک،لیکچررشعبہ بزنس ایڈمنسٹریشن احمد علی‘اسسٹنٹ ڈائریکٹر آئی ٹی ریاض بیٹنی موجود تھے جبکہ ہائیر ایجوکیشن کمیشن اسلام آباد کے نمائندہ شیخ ایازیونیورسٹی شکار پور کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر غلام رضابھٹی اور پرنسپل گورنمنٹ گرلز ڈگری کالج نمبر1مسز شفقت یاسمین آن لائن میٹنگ میں موجود تھیں۔ وائس چانسلر ڈاکٹر افتخار احمد نے کہا کہ سنڈیکیٹ ایکٹ اور سٹیچیوٹس کے مطابق کام کرتی ہے اور کوئی بھی فیصلہ ایکٹ اور سٹیچیوٹس سے ہٹ کر نہیں کریگی۔ عدالت کے فیصلے پر فورم میں معزز ریٹائرڈ جج موجود ہیں جن کی رہنمائی کے بعد تمام تر قانونی تقاضے کو پورا کرکے گومل یونیورسٹی سنڈیکیٹ اپنے فیصلے کرتی ہے اور کریگی اور معزز عدالت کی عزت و تقدس کا خیال رکھے گی۔ سینڈیکیٹ میٹنگ میں گومل یونیورسٹی کا کافی عرصہ بعد بہترین بجٹ باقاعدہ طور پر سنڈیکیٹ سے پاس ہو کر منظوری کیلئے سینٹ میں بھیج دیا گیااس بجٹ میں پچھلاخسارہ کم کرکے 387ملین پر لا یاگیا جوانشاء اللہ جلد ہی ختم ہو جائے گا۔میٹنگ میں جنسی ہراسگی کیس میں گومل یونیورسٹی سے نکالے گئے شعبہ کمپیوٹرسائنسز کے استاد تفا خر حسین کو ذاتی شنوائی کیلئے سنڈیکیٹ ممبران کے سامنے پیش کیا گیا جہاں وہ اپنے دفاع نہ کر سکے اور سنڈیکیٹ نے تفاخر حسین کو جنسی ہراسگی کیس میں یونیورسٹی سے نکالنے کے فیصلے کو برقرار رکھا اوراس کے ساتھ گورنر انسپکشن ٹیم کو جنسی ہراسگی کیس سے متعلق اپنی رپورٹ 15دن کے اندر گومل یونیورسٹی میں جمع کرانے کی سفارش کی گئی۔ گومل یونیورسٹی اکیڈمک کونسل میں منظور ہونیوالے تین نئے شعبہ جات، بی ایس لائبریری، جیالوجی اوررسائیکالوجی شروع کرنے کی منظوری دی گئی۔ میٹنگ میں ممبران نے گومل یونیورسٹی کو ہائی کورٹ فیصلوں پر سپریم کورٹ سے فوری رجوع کرنے کا کہا۔ میٹنگ میں گومل یونیورسٹی سے ملحقہ پرائیویٹ اور سرکاری کالجزکے بارے کمیٹی کو ملحقہ کالجزمیں تعلیمی معیار اور ان اداروں کا جائزہ لینے کا بھی حکم صادر کیا گیا۔ میٹنگ میں دیگر اہم مسائل پر بھی تفصیلی بات چیت ہوئی۔وائس چانسلر ڈاکٹر افتخار احمد نے بجٹ کی تیاری میں ماہرین یونیورسٹی آف ہری پور کے مشیر برائے فنانس حاجی اکبر خان اورایبٹ آباد یونیورسٹی کے ڈائریکٹر فنانس غلام علی کوگومل یونیورسٹی کے شعبہ فنانس کی مددکرنے پر خراج تحسین پیش کیا۔کورونا وائرس کے باعث حفاظتی اقدامات کے ملحوظ خاطر رکھا گیا اور ممبران میں گومل یونیورسٹی کے شعبہ فارمیسی کے بنا ئے گئے سینیٹائزر بھی دیئے گئے۔ آخر میں وائس چانسلر گومل یونیورسٹی نے تمام ممبران کا شکریہ ادا کیا

مزید :

پشاورصفحہ آخر -