شہید نانا اور تین سالہ معصوم نواسہ

شہید نانا اور تین سالہ معصوم نواسہ
شہید نانا اور تین سالہ معصوم نواسہ

  

آج میں نے ضمیر اختر کو بہت رنجور اور مجبور دیکھا ہے آج یہ خاموش ہے حالانکہ کب اسکی ہم سے تکرار نہیں ہوتی روزانہ کسی نہ کسی بات پر سوال کرتا ہے میں اسکی چپ پر بہت حیران ہوا پوچھا ضمیر اختر آج اتنے سنجیدہ اور رنجیدہ کیوں ہو بس اتنا پوچھنا تھا کہ ضمیر اختر نے حشر اٹھا دیا کہنے لگا کلیجہ چھلنی ہے پوچھا نصیب دشمناں کیا ہوا؟کہنے لگا خالد بن ولیدؓ کو جانتے ہو؟جنہوں نے ایک جنگ کے دوران دشمن کو زیر کرنے کے لئے ان پر دھاک جمانے کے لئے زہر پی لیا تاکہ دشمن لڑنے سے پہلے ہی شکست مان لے خدا نے اپنے فضل سے خالد بن ولیدؓ کو محفوظ رکھا دشمن پر خالد بن ولید ؓ کے زہر پینے سے ہیبت طاری ہوگئی تھی خالد بن ولید ؓ کے جسم کا کوئی ایسا حصہ نہ تھا جہاں تیر، تلوار، نیزے یا کسی دوسرے ہتھیار کا زخم موجود نہ ہو۔زندگی بھر خالدؓ بن ولید کے ہاتھ میں تلوار کا دستہ رہا اور وہ اللہ کی راہ میں جہاد کرتے رہے اور آج دشمن مسلمانوں پر اپنی دہشت کے مہیب سائے اور بھی گہرے کرکے مسلمانوں کو مرعوب کرنے کی سعی ناکام میں ہے اور ہم بے بس تہی دست و داماں مسلمانوں کے قتل عام کو دیکھ رہے ہیں ضمیر اختر نے کہا سلطان صلاح الدین ایوبی کا معلوم ہے؟دنیا نے ایسا بہادر۔ جری قابل اور رحم دل فاتح شاید ہی دیکھا ہو-صلیبیوں نے کوئی تین سو سال تک پے در پے مسلمانوں پر حملے کیے مگر ہر بار شکست کا سامنا کرنا پڑاجس سبب انکی فوج کے اعصاب مضمحل ہوگئے اور تھک کر وسوسوں کا شکار ہوگئے پیٹر نامی عیسائی مذہبی رہنما نے اپنے پیروکاروں کے ساتھ عزم کیا کہ مسلمانوں سے مقدس علاقے واپس لینے کیلئے ہر حربہ استعمال کیا جائے گا-سلطان صلاح الدین ایوبی نے 29 ستمبر 1182 کو دریائے اردن عبور کیا تاکہ کرک اور شوباک پر موجود افواج سے نپٹتے ہوئے فوجیوں کو قیدی بنا لیاجائے، صلیبی افواج اس وقت کی سب سے زیادہ بڑی اور طاقتور افواج میں شمار ہوتی تھی مگر اس کے باوجود صلاح الدین کے لشکر نے ان کو شکست دی۔

Chatillon کے بادشاہ رینالڈ نے مسلمان تاجروں اور حاجیوں کو پریشان کیارینالڈ نے شہرِ مکہ اور مدینہ پر حملہ کرنے کی دھمکی دی اور حاجیوں کے قافلوں کو لوٹا رینالڈ نے حاجیوں کے قافلے پر نہ صرف حملہ کیا تھا بلکہ ان کی رحم کی اپیل کو بھی مسترد کردیا تھا اور بہت سے حاجیوں کو موت کے گھاٹ بھی اتار چکا تھا- اس کے علاوہ رینالڈ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان میں گستاخی کا بھی مرتکب ہوا تھا- اس وقت صلاح الدین ایوبی نے قسم کھائی کہ وہ خود رینالڈ کو اپنے ہاتھوں سے موت کے گھاٹ اتارے گا- صلاح الدین ایوبی نے رینالڈ کو گرفتار کر کے قیدی بنایا اور حاجیوں کے قافلے پر حملہ کرنے کے جرم میں خود اس کا سر قلم کیا اور تاریخ میں سچے عاشقِ رسولﷺ ہونے کا ثبوت دیا بیت المقدس 88 سال بعد دوبارہ مسلمانوں کے قبضہ میں آیا اور تمام فلسطین سے مسیحی حکومت کا خاتمہ ہو گیا۔ بیت المقدس کی فتح صلاح الدین ایوبی کا عظیم الشان کارنامہ تھا۔ اس نے مسجد اقصٰی میں داخل ہوکر نور الدین زنگی کا تیار کردہ منبر اپنے ہاتھ سے مسجد میں رکھا۔ اس طرح نور الدین زنگی کی خواہش صلاح الدین کے ہاتھوں پوری ہوئی۔صلاح الدین نے بیت المقدس میں داخل ہوکر وہ مظالم نہیں کیے جو اس شہر پر قبضے کے وقت مسیحی افواج نے کیے تھے۔ اس نے زر فدیہ لے کر ہر مسیحی کو امان دے دی اور جو غریب فدیہ نہیں ادا کر سکے ان کے فدیے کی رقم صلاح الدین اور اس کے بھائی ملک عادل نے خود ادا کی۔بیت المقدس پر فتح کے ساتھ یروشلم کی وہ مسیحی حکومت بھی ختم ہو گئی جو فلسطین میں 1099ء سے قائم تھی۔

اس کے بعد جلد ہی سارا فلسطین مسلمانوں کے قبضے میں آ گیا۔بیت المقدس پر تقریباً 761 سال مسلسل مسلمانوں کی حکومت رہی1948ء میں امریکہ، برطانیہ، فرانس کی سازش سے فلسطین کے علاقہ میں یہودی سلطنت قائم کی گئی اور بیت المقدس کا نصف حصہ یہودیوں کے قبضے میں چلا گیا۔ 1967ء کی عرب اسرائیل جنگ میں بیت المقدس پر اسرائیلیوں نے قبضہ کر لیا۔ضمیر اختر مسلم سلاطین و فاتحین کے نام لئے جا رہا تھا میں نے ضمیر اخترسے کہا ان سب ہستیوں نے اپنے اپنے دور میں مثالی کارنامے انجام دئیے ہیں خالد بن ولید سے لے کر محمد بن قاسم تک سب نے اسلام کا پرچم بلند کیا اور غیر معمولی فتوحات کیں لیکن ضمیر اختر کچھ بتائیے تو ضمیر اختر نے کہا خالد بن ولید دشمن کو زیر کرنے کے لئے زہر پھانک لیتا ہے تو آج دشمن مسلمانوں کو نفسیاتی طور پر ہراساں کرنے کے لئے مقبوضہ کشمیر میں نواسے کے سامنے نانا کو گولی مار کر نانا کی نعش پر نواسے کو بٹھا تا ہے کہ دنیا کے مسلمان دیکھ لیں کہ انکی روشن تاریخ کے باوجود آج دشمن انکے ساتھ کیا سلوک کررہا ہے میں اپنے ضمیر کی بات سن کر تلملا کررہ گیا مقبوضہ کشمیر میں بھارتی قابض فوج نے سوپور میں تین سالہ نواسے کے سامنے نانا کو گولی مار کر شہید کر دیا تھا بھارتی فوجی لاش کی بے حرمتی بھی کرتے رہے 3سالہ سہما ہوا بچہ خوف اور دہشت میں رورو کر ہلکان ہوا جارہا تھا اس معصوم بچے نے بھارتی سورماؤں کے جبر کو آشکار بھی کر دیا تھا کہ اسکے نانا کو وردی والوں نے گولیاں ماریں بھارتی سورماؤں نے ضلع راجوڑی کے علاقے کیری میں سرچ آپریشن کی آڑمیں سات افراد کو شہید کر دیا تھا۔کشمیر میڈیا سروس نے جون میں ہونیوالی بھارتی سفاکیت کی رپورٹ جاری کی جس کے مطابق گذشتہ مہینے میں 54 کشمیریوں کو شہید کیا گیا، شہدا میں دو بچے بھی شامل تھے۔

82 افراد کو گرفتار کیا گیا، 29 کشمیری بھارتی فوج کی گولیوں سے زخمی بھی ہوئے، دو خواتین بیوہ ہوئیں، 5 بچے یتیم ہوئے اور کشمیریوں کے 25 گھروں کو تباہ بھی کیا گیامیں سوچ رہا ہوں یہ کہاں کی مردانگی ہے کہ 60 سالہ شخص کو 3سال کے نواسے کے سامنے قتل کردیاجائے۔میرا ضمیر ٹھیک ہی تو مجھ سے برہم ہوا اس کا کہنا بجا ہے کہ ایک شاندار ماضی رکھنے والی قوم آج پستیوں کا شکار کیوں ہے زیر عتاب کیوں ہے مسلم حکمرانوں اور سپہ سالاروں نے اسلام اور مسلمانوں کے لئے لازوال خدمات دیں اور کارہائے نمایاں انجام دئیے سلطان الپ ارسلانؒ ایک مردِ مجاہد تھاجس نے اپنی سلطنت کو استحکام دینے کے بعد بیرونی دنیا کی طرف پیش قدمی کرتے ہوئے جہاد فی سبیل اللہ اور اپنی پڑوسی مسیحی سلطنتوں میں اسلام کی اشاعت کے لیے مضطرب رہتا۔ ارمن اور روم کے علاقے اسلامی قلم رو میں شامل کرنے کے لئے انہوں نے بہت کوششیں کیں الپ ارسلاں نے ارمن اور جارحیا کے علاقے فتح کئے الپ ارسلان کی فتوحات سے رومی شہنشاہ ڈومانوس ڈیوجیس تلملا کررہ گیا۔ رومی اور سلجوقی فوجوں میں کئی خونریز معرکے ہوئے۔ ”ملاذکرد“ کا معرکہ ان سب میں زیادہ اہم ہے جو اگست 1070ء کو برپا ہوا۔ ابن کثیر لکھتے ہیں ”اور اس معرکے میں روم کا بادشاہ ڈومانوس پہاڑ کی مانند لشکروں کو لے کر روانہ ہوا۔ ان لشکروں میں روم، روس، برطانیہ اور کئی دوسرے ملکوں کے سپاہی شریک تھے۔ ڈومانوس کی جنگی تیاریاں بھی خوب تھیں۔“ الپ ارسلان کا ایک مختصر سے لشکر، جس کی تعداد 15 ہزار سے زیادہ نہیں تھی، کی مدد سے شہنشاہ روم ڈومانوس کے ایک لاکھ سپاہیوں پر مشتمل بہت بڑے لشکر کو شکست فاش دی جو غیر معمولی واقعہ تھاجس نے رومیوں کی کمر توڑ دی آج انڈین فوجی سورما مقبوضہ کشمیر میں سرچ آپریشن کے نام پر نوجوانوں کو قتل کررہے ہیں جب کہ بھارتی فوج خواتین کی عصمت دری میں بھی ملوث ہے۔

ایک خبر کے مطابق بھارتی فوج نے صرف جون میں ریاستی بربریت کا مظاہرہ کرتے ہوئے 54 کشمیریوں کو شہید کیا۔بھارتی حکمران چونکہ جموں کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرچکے ہیں اسلئے بھارت نے رواں سال یکم اپریل کو ایک اعلامیہ جاری کیا تھا جس کے مطابق اب مقبوضہ کشمیر میں ڈومیسائل (شہریت) کا نیا قانون نافذ ہوگا اور اُس کی رو سے سرکاری محکموں میں چپڑاسی، خاکروب، نچلی سطح کے کلرک، پولیس کانسٹیبل وغیرہ کے چوتھے درجے کے عہدوں کو کشمیریوں کے لیے مخصوص کیا گیا ہے جب کہ گزیٹڈ عہدوں کے لیے پورے بھارت سے امیدوار نوکریوں کے اہل ہوں گے فلسطین مقبوضہ کشمیر سمیت دنیا میں مسلمان اس وقت ظلم کی چکی میں پس رہے ہیں اور وقت کا کوئی خالدبن ولید کوئی صلاح الدین ایوبی کوئی محمد بن قاسم انکی امداد کو نہیں آرہا آج مسلم سلاطین، فاتحین کیا ہونگے وہ تو الٹا نریندر مودی جیسے مسلم دشمن وزیر اعظم کو مختلف ایوارڈز سے نواز رہے ہیں اور اپنے مفادات کو مقدم جانتے ہیں لیکن مسلم حکمرانوں کو یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ آج تین سالہ معصوم نواسہ بھارتی فوج کی بربریت سے اپنے نانا کی نعش پہ بٹھا دیا گیا کل روز محشر وہ آج کے حکمرانوں کے سینوں پہ بیٹھا اللہ سے انصاف مانگ رہا ہوگا۔

مزید :

رائے -کالم -