فِتنہ بدَتر اَز قَتل اَست

فِتنہ بدَتر اَز قَتل اَست
فِتنہ بدَتر اَز قَتل اَست

  

میں، میری اولاد،میرے ماں باپ،میری عزت وآبرو، میرا مال ومتاع، میرے روز و شب،میری ایک ایک سانس قربان ہومیرے آقاء کائنات حضرت محمد (ص)پر اوراْن کی آل مبارکہ پر۔ لاکھوں بار سلام آپ کے گھرانے پر اور اْن کی حرمت پر میرے لہو کا ایک ایک قطرہ نثار ہو۔

چند روز قبل جو گستاخی خاتون جنت شہزادی سیدہ فاطمہ الزاہرہ کی شان میں کی گئی۔اس پر دل بہت رنجیدہ اور مضطرب ہے۔بہت دیر سے سوچ رہا تھا کہ قلم کو جنبش دوں مگر اس موضوع کا حق ادا نہ کر سکنے کے خوف میں مبتلا رہا پھر سوچا کہ حرکت قلب بند ہونے سے پہلے قلم کو حرکت دینا وقت کی اہم ضرورت ہے ورنہ میں کیا اور میری اوقات کیا۔

ان نازک حالات میں کہ جب ملک بہت سی مشکلات سے دو چار ہے اور ہر روز کسی نہ کسی کے بچھڑنے کی خبر دل کو رنجیدہ کیے رکھتی ہے، ملک میں فرقہ واریت کو ہوا دینا کسی نہ کسی بیرونی ایجنڈے کا شاخسانہ محسوس ہو رہا ہے اور پھر حال ہی میں کراچی سٹاک ایکسچینج پر حملہ بھی اسی کی ایک کڑی ہو سکتی ہے۔ ملک دشمن عناصر کو جب کچھ نہ ملے تو فرقہ واریت پھیلانے کے لیے سرگرم عمل ہو جاتے ہیں۔ یہ عمل اسلامی اقدار کو پامال کرنے کی ایک مجرمانہ سازش ہے، جس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔ قرآن کی آیت مبارکہ ہے کہ”فتنہ قتل سے بھی بْرا عمل ہے“ (البقرہ- 191) ایک اور جگہ فرمایا گیا کہ”اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقے میں نہ پڑو“(آل عمران-103)یہ دونوں آیات مبارکہ اس طرح کے معاملات میں مسلمانوں کے لیے مشعل راہ ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ قرآن کا حرف حرف پوری نوع انسانیت کے لیے ہدایت کا ذریعہ ہے مگر ان دو مختصر آیات میں اللہ رب العزت نے مسلمانوں کو سمجھا دیا کہ ایک مسلمان کا مال، جان اور عزت دوسرے مسلمان پر حرام ہے اس لیے اتفاق اور اتحاد ہی مسلمانوں کی نجات اور کامیابی کا ذریعہ ہے۔

ایسے معاملات جو انتہائی سنجیدہ اور نازک ہوں ان کو بغیر کسی وجہ کے چھیڑنا اور ملک میں انار کی پھیلانا کسی طور بھی عقلمندی کی بات نہیں۔مولانا رومی جب زرق برق والا لباس پہنے ہوئے کسی شخص کو دیکھتے تو اس سے فرماتے”میاں بولو تاکہ تمہاری دانش، قابلیت اور عقل و حکمت کا اندازہ ہو سکے۔“ان حالات میں آصف جلالی کا فتنہ پرور بیان بہت سے دلوں کو افسردہ اور ایک جنگ و جدل کا سما ں پیدا کر گیا کہ جس کی کسی طور بھی ضرورت نہیں تھی۔ ا یسے نازک معاملات پر بہت سے جیّد علما ء کرام پہلے ہی بات کر چکے ہیں اور اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ اس معاملے میں کبھی مسلمانوں کے درمیان اتفاق رائے نہیں ہو سکا اگر چودہ سو سال میں کسی بات پر اتفاق نہیں ہو سکا تو اب ایک تقریر سے کیسے اتفاقِ رائے پیدا ہو سکتا ہے۔اس بات سے اب یہاں بہت سے سوالات جنم لیتے ہیں کہ اس بے وقت کی راگنی کی اصل وجہ کیا ہے؟ اس سے کیا مقاصد حاصل کرنا مقصود ہیں؟ اس کا اصل فائدہ کس کو ہو گا؟ اس گفتگو کو کس کے اشارے پر دوبارہ چھیڑا گیا؟ اس فتنہ پرور شرارت کا اصل مقصد کیا ہے؟ آصف جلالی نے اپنے کن مقاصد کو حاصل کرنے کی کوشش کی؟ کیا یہ سستی شہرت حاصل کرنے کے لیے تو نہیں کیا گیا؟ کسی فرد واحد کو اْمت کا اتحاد پارا پارا کرنے کی اجازت نہیں ہونی چاہئیے۔

پوری اْمت میں اختلافات کو ختم کرنے کا واحد راستہ اتحاد ِ بین المسلمین ہے۔جب مسلمانوں میں اتحاد اور دل میں ایک دوسرے کا احترام ہو گا تو مسائل پیدا ہی نہیں ہو ں گے۔ اس لیے احترام کے باہمی رشتوں کو برقرار رکھنا لازمی ہے۔ ہماری کیا حیثیت کہ ہم ان نازک عوامل پر لب کشائی کریں۔ راوی دونوں اطراف بہت کچھ لکھ گئے ہیں اب ہمارے لکیر پیٹنے سے کچھ نہیں ہو گا۔ بس اس پر خاموشی ہی بہترین عمل ہے۔ کیونکہ فتنہ قتل سے بھی بڑا جرم ہے۔اب یہ امر بھی لازم ہے کہ مسلمانوں کی دل آزاری دونوں اطراف سے نہیں ہونی چاہئے۔ کسی کو حق نہیں پہنچتا کہ وہ زہر آلود زبان استعمال کرے۔ کسی کو حق نہیں پہنچتا کہ وہ کسی بھی قابل احترام ہستی کی شان میں گستاخی کی جسارت کرے۔ذرا سوچو تو سہی کس ہستی کے بارے میں بات کر رہے ہو کہ جس شہزادی سیدہ خاتون جنت کی تکریم میں خود رسول خدا کھڑے ہو جایا کرتے تھے اور اپنی چادر بچھا کر ان کو اس پر بیٹھا یا کرتے تھے وہ جو علی المرتضی شیر خدا کی عزت ہیں وہ ہستی کہ جو امام حسن اور امام حسین کی ماں ہیں اْس ہستی کی شان میں ایسے الفاظ استعمال کرنے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہو نا چاہئے۔

مجھے تو شدید افسوس ہے کہ آج اتحاد بین المسلمین کے لیے مسلمانوں کو حرمت اور عزیمت کی اہمیت سکھانی پڑ رہی ہے۔ درحقیقت ہونا تو یہ چاہیے کہ ہم بجائے کسی فرقہ میں بٹنے کے آپس میں اتحاد پیدا کریں۔ہمارے لئے تو لڑنے کے اور بہت سے محاذ ہیں، ہمیں تو اور بہت سے چیلنجز کا سامنا ہے۔ دشمن صفیں باندھے ہم پر حملہ آور ہونے کو تیار کھڑا ہے اور ہم ان مسائل میں اْلجھے ہوئے ہیں۔ اْس دور کو یاد کیجیے جب چنگیز اور ہلاکو نے بغداد پر حملہ کیاتھا تو اْس وقت بھی مسلمان اسی طرح کے فروعی اختلافات میں اْلجھ کر ملی اتحاد اور یگانگت سے دور ہو چکے تھے۔

برطانوی رْکن پارلیمنٹ جارج گیلوے کی یہ بات بہت گہری سوچ کو تحریک دیتی ہے۔ انہوں نے عربوں سے مخاطب ہو کر کہا کہ جب دشمن کی تلوار چلتی ہے تو وہ یہ نہیں پوچھتی کہ کٹنے والی گردن کس فرقے کے مسلمان کی ہے اور انہوں نے مزید کہا کہ مسلمانوں کے لیے میرا پیغام ہے کہ اگر ہزاروں اختلافات اور مختلف زبانوں کے باوجود مغرب کے تمام ممالک اور عیسائی اپنے مفاد کے لیے اکٹھے ہو سکتے ہیں تو مسلمان کہ جن کا خالق و مالک ایک ہے رسول (ص) ایک ہیں، کتاب ایک ہے اور تمام عرب ممالک کی زبان ایک ہے تو پھر وہ اکٹھے کیوں نہیں ہو سکتے۔ جارج گیلوے کا کہنا کہ اگر میں آج جا کر کسی بھی برطانوی رْکن پارلیمنٹ سے پوچھوں کہ وہ مسلمانوں کے فرقوں کے بارے میں کیا جانتے ہیں تو یقین جانیے کہ کسی ایک کو بھی معلوم نہیں ہو گا کیونکہ وہاں پالیسیاں مسلمانوں کے لیے بنتی ہیں کسی فرقے یا گروہ کے مسلما نوں کے لیے نہیں۔

پھر یہاں میں ایڈوڈ سڈ کی کتاب اورینٹلزم کا حوالہ دینا چاہوں گا کہ جس میں ایڈوڈ ڈبلیو سڈ نے ایک خاص گروہ کا ذکر کیا ہے جس کا کام ہی مسلمانوں میں انتشار اور تباہی پھیلانا ہے اور فرقوں و گروہوں میں بٹّے مسلمانوں کے اختلافات کو ہوا دے کر اپنے مفادات حاصل کرنا ہے۔اس نے اپنی کتاب میں اورینٹلسٹ سوچ کی عکاسی بہت احسن انداز میں کی ہے وہ اورینٹلسٹز کے بارے میں مزید لکھتے ہیں کہ اْن کا مشن ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ اسلام کا علم حاصل کریں اور مسلمانوں کے درمیان اختلافات کو ہوا دیں اور ایسے ہم عصر لوگ پیدا کریں جو مسلمانوں کو اْن کی اصل منزل سے دور رکھیں اور خاص طور پر ایسا اسلام ان کے ہم عصر لوگوں کی مدد سے دنیا کے سامنے پیش کیا جائے جس میں ملاوٹ کر کے اس کی اصل شکل کو مسخ کیا جا سکے۔ سڈ نے مزید کہا کہ اورینٹلسٹ گروہ امریکہ اور یورپ میں کثرت سے پائے جاتے ہیں اور وہ اپنا کام بڑی کامیابی سے کر رہے ہیں۔

اب آپ خود سوچئیے کہ ہم کس طرف جا رہے ہیں؟ ہماری ڈور کون اپنے ہاتھ میں لینا چاہتا ہے؟ ہمیں کون ان فروعی اختلافات میں ڈالنا چاہتا ہے؟ ہمیں کون تباہ و برباد کرنے کی سازش کر رہا ہے؟ حکومت کو ایسے فتنہ پرور اشخاص کیخلاف شدید کارروائی کرنی چاہیے اور جیّد علما ء کرام کو اس پر اپنی حکمت اور تدبر سے ملک و ملت کی درست سمت میں راہنمائی کرنی چاہیے۔تاکہ ملک کسی طور بھی انتشار کا شکار نہ ہو۔

مزید :

رائے -کالم -