پرائیویٹ سکولز کی طرف سے نجی تعلیمی ادارے ستمبر تک بند رکھنے کا فیصلہ مسترد

پرائیویٹ سکولز کی طرف سے نجی تعلیمی ادارے ستمبر تک بند رکھنے کا فیصلہ مسترد

  

پشاور (سٹی رپورٹر)پرائیویٹ سکولز ایسوسی ایشن خیبر پختونخوا نے وفاق کی جانب سے نجی تعلیمی اداروں کو ستمبر تک بند رکھنے کے فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ نجی سکولوں کا معاشی قتل و عام بند کیا جائے بصورت دیگر ملک گیر احتجاج کیا جائے گا ایسو سی ایشن کے صدراحمدعلی درویش،جنرل سکرٹری ابوالفیض،سینئرنائب صدر اسلام بہادر،سکرٹری مالیات شاہ ولی خان، ضلع پشاور صدر ڈاکٹر سہیل اور جنرل سکرٹری الیاس مروت و دیگر ممبران نے مشترکہ اخباری بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ وفاقی وزیر تعلیم کے نیشنل میٹنگ میں بغیر مشاورت کے تعلیم دشمن فیصلہ کر کے نجی تعلیمی اداروں کو ستمبر تک بند رکھنے کے فیصلے کو ھم سب یکسر مستر د کرتے ہیں۔اور اس فیصلے کو تعلیم دشمن اقدام قرار دیتے ہیں انھوں نے کہا ہے کہ کورونا کے بہانے ہمارے مستقبل کو تباہ کرنے کی سازش کی جارہی ہیں پوری دنیا اور پاکستان میں ہر شعبہ جات کو کھول دیئے گئے ہیں لیکن پرائیویٹ تعلیمی اداروں کو مزید دو ماہ کے لئے بند کرنا اور کچھ اماہ کے احتجاج کے باوجود واضح تعلیم دشمنی فیصلہ کر کے پاکستان کے سرد زون ڈسٹرکٹس نظر انداز کر گذشتہ سال دسمبر 2019 سے بند ہیں اور اس کے ساتھ خیبرپختونخوا پرائیویٹ سکولز میں کام کرنے والے تقریبا ساڑھے تین لاکھ سے زیادہ اساتذہ اور دیگر سٹاف کا معاشی قتل بھی کیا جا رہا ہیں. اب مزید تعلیمی اداورں کو بند کرنے کا کوئی جواز نہیں اور نہ ہی ھم اس ظالمان اور یکطرفہ فیصلے کو برداشت کرینگے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ نجی تعلیمی اداروں کا مزید معاشی قتل و عام بند کیا جائے اور بغیر مشاورت کے کوئی فیصؒہ قبول نہین حکومت اپنے فیصلہ پر نظر ثانی کریں بصورت دیگر پاکستان کہ تمام نجی سکولوں کے تنظیموں کیساتھ رابطہ کرنے کے بعدحکومت کے اس ظالمانہ اقدام کے خلاف ملک گیر اھتجاج کیا جائے گا۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -