اک اور دریا کا سامنا ”ہے“ منیر مجھ کو

اک اور دریا کا سامنا ”ہے“ منیر مجھ کو
اک اور دریا کا سامنا ”ہے“ منیر مجھ کو

  

ڈبلیو ایچ او نے پھر انتباہ کیا ہے کہ کورونا ابھی کہیں نہیں جا رہا،جو ممالک احتیاطی تدابیر کا دامن ہاتھ سے چھوڑ رہے ہیں، وہ خطرناک صورتِ حال سے دوچار ہو سکتے ہیں،پچھلے ایک دو ہفتوں سے ہمارے مُلک میں بھی سمجھا جا رہا ہے کہ کورونا اب پاکستان سے گیا کہ بس گیا۔ٹی وی چینلز بھی اپنے خبرناموں میں کورونا کو تیسری یا چوتھی ہیڈ لائنز پر لے گئے ہیں،اخبارات بھی کم اہمیت دینے لگے ہیں، مگر ان باتوں کی وجہ سے اگر کوئی یہ کہتا ہے کہ پاکستان میں کورونا کا زور ٹوٹ گیا ہے تو وہ پرلے درجے کی غفلت کا شکار ہے۔ یہ تو بہت آسان ہے کہ آپ کورونا ٹیسٹوں کی تعداد گھٹا کر یہ باور کرائیں کہ کیسوں کی تعداد میں نمایاں کمی آ گئی ہے، لیکن جو زمینی حقائق ہیں اُن سے منہ چرانا مشکل ہے۔ آخر ایسا کیا ہوا ہے کہ جس کی بنیاد پر ہم کہیں کہ کرونا کی واپسی شروع ہوگئی ہے۔

وزیراعظم عمران خان نے این سی او سی کے سو دِنوں کی کامیابی کا نقشہ ضرور کھینچا ہے، یقینا اس حوالے سے کامیابیاں بھی حاصل ہوئی ہیں،خاص طور پر انفراسٹرکچر کو بہتر بنایا گیا ہے، مگر یہ تو ایک پہلو، دوسرا پہلو یہ ہے کہ ہم کورونا سے بچاؤ کی احتیاطی تدابیر پر ابھی تک عملدرآمد نہیں کرا سکے۔ حتیٰ کہ ماسک پہننے کی پابندی پر بھی عمل نہیں ہو رہا، سوشل ڈسٹینس کی تو بات ہی الگ ہے۔ہوا یہ ہے کہ حکومتوں نے اپنی ذمہ داری سے ہاتھ کھینچنا شروع کر دیا ہے آغاز میں کورونا مریض کے ملتے ہی جو ہنگامی صورتِ حال نافذہوتی تھی، اُس کا اب کہیں ذکر نظر نہیں آتا۔ اگر تو ان سب کی وجہ سے کورونا کیسز کم ہونا شروع ہوئے ہیں تو یہ ایک خطرناک راستہ ہے، ویسے تو یہ کہا جاتا ہے کہ کسی مُلک میں اگر کورونا کا کوئی ایک کیس بھی موجود ہے تو یہی سمجھا جائے گا کہ کورونا ابھی ختم نہیں ہوا، ہمارے ہاں تو ابھی سوا لاکھ سے زیادہ کیسز ہیں اور روزانہ سینکڑوں مزید بھی نکل رہے ہیں۔

بہت اچھا لگا جب پیارے وزیراعظم عمران خان نے یہ کہا کہ لوگوں کو عید گھر رہ کر گزارنی چاہئے، صرف عید کا دن ہی کیوں، عید سے پہلے ایک ہفتہ اگر لاک ڈاؤن کر دیا جائے اور صرف شہروں سے باہر لگی مویشی منڈیوں میں لوگوں کو ایس او پیز کے ساتھ جانے کی اجازت دی جائے تو بہت اچھے نتائج سامنے آ سکتے ہیں،ہفتے میں دود ن تو پہلے ہی پورے ملک میں لاک ڈاؤن ہوتا ہے، اگر اس کا دورانیہ سات دِنوں تک بڑھا دیا جائے تو کوئی قیامت نہیں آ جائے گی۔ البتہ وہ خدشات جو بقر عید پر بے احتیاطی کے ضمن میں ظاہر کئے جا رہے ہیں،اُن کا تدارک کرنے میں بڑی مدد ملے گی۔ عارضی مویشی منڈیوں کے بارے میں اگرچہ ایس او پی جاری کر دیئے گئے ہیں، تاہم اصل امتحان یہ ہے کہ اُن پر عملدرآمد بھی کرایا جائے۔ حکومت اور اس کی انتظامیہ اس سے پہلے اس امتحان میں بُری طرح ناکام ہو چکی ہے، مثلاً بڑے طمطراق سے یہ حکم جاری کیا گیا کہ اب گھر سے باہر نکلنے اور پبلک مقامات پر آنے کے لئے ماسک پہننا لازمی ہو گا، اس حکم پر کتنا عمل ہو رہا ہے،آپ کہیں باہر جا کر دیکھیں آپ کو اندازہ ہو جائے گا۔سوائے بینکوں اور چند دفاتر میں داخل ہونے کے باقی کسی جگہ ماسک پہننے کی پابندی نہیں کی جا رہی، ہمارے تاجر تو غالباً پیدا ہی اس لئے ہوئے کہ کسی قانون کو نہ مانیں۔وہ گاہکوں سے تو کیا ماسک پہننے کی پابندی کرائیں گے،خود بھی نہیں پہنتے، جب پوچھو تو جیب سے ماسک نکال کر دکھا دیں گے۔ یہ کیسا بھونڈا مذاق ہے کہ جو چیز منہ پر پہننے کی ہے وہ صرف دکھاوے کے لئے آپ نے جیب میں رکھی ہوئی ہے۔

چلیں جی اچھی بات ہے مویشی منڈیاں شہر سے دو تین کلو میٹر باہر لگیں گی، مگر اصل کام یہ ہے کہ وہاں آنے اور بیچنے والوں پر ماسک پہننے کی پابندی کا اطلاق کرایا جائے۔ اب تک کی کارکردگی کو دیکھتے ہوئے یہی لگتا ہے کہ انتظامیہ یہ ٹاسک پورا کرنے میں بُری طرح ناکام رہے گی۔ سب کچھ حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا جائے گا، مختلف علاقوں سے آتے ہوئے بیوپاری یا خود کورونا لے کر آئیں گے یا پھر کورونا کے ساتھ اپنے علاقوں کی طرف لوٹیں گے، ہر دو صورتوں میں کورونا کا پھیلاؤ ہو سکتا ہے،اِس لئے بہتیرا کہا گیا کہ اس بار منڈیاں نہ لگائی جائیں،بلکہ آن لائن خریداری یا پھر جسے چاہئے وہ خود مالک کے فارم تک جا کر جانور خرید لے تاکہ ہزاروں جانوروں اور ہزاروں لوگوں کا اکٹھ نہ ہونے پائے، مگر حکومتیں پھر دباؤ میں آ گئیں اور انہوں نے منڈیاں لگانے کی اجازت دے دی، سب جانتے ہیں کہ جو لوگ منڈی سے جانور خریدنے جاتے ہیں وہ پوری منڈی میں گھوم پھر کر جانور تلاش کرتے ہیں،اس حوالے سے کراچی کے ہمارے دوست شاعر شبیر نازش نے ایک خوبصورت شعر کہا ہے:

گھوم پھر کر نہ قتلِ عام کرے

جو جہاں ہے وہیں قیام کرے

مگر ہمارے عوام اور حکومتیں خود گھومنے پھرنے کے مواقع پیدا کرتی ہیں۔عیدالفطر کے دِنوں میں جو کچھ ہوا سب نے دیکھا۔بے لگام خریداری اور بے احتیاط کاروبار نے جو قیامت ڈھائی اس کا نتیجہ ہم آج تک بھگت رہے ہیں، سینکڑوں اموات والی تعداد ہزاروں میں بدل گئی اور ہزاروں کیسوں والی لاکھوں تک پہنچ گئی۔یہ بھی سب نے دیکھا کہ جب یہ ”قتل عام“ والی صورتِ حال پیدا ہوئی تو، کسی نے بھی اس کی ذمہ داری قبول نہیں کی، کیا انتظامیہ، کیا عدلیہ اور کیا عوام سب معصوم بن گئے، حالانکہ اس بے حتیاطی کی وجہ سے جو ہزاروں جانیں گئیں اور ہزاروں خاندانوں کو عمر بھر کے صدمے سے دوچار ہونا پڑا، اُس کی ذمہ داری کسی کو تو قبول کرنی پڑی ہے، کیا ہم اسے عیدالاضحی پر دہرا سکتے ہیں،کیا پھر ہزاروں جانوں کی قربانی دے سکتے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت اور این سی او سی اس حوالے سے بروقت اور کڑے فیصلے کرے۔وقتی مصلحتوں اور کسی دباؤ کو خاطر میں نہ لائے۔کسی نے جانور پال رکھے ہیں اور وہ بیچنا چاہتا ہے تو انسانی جانوں کی قیمت پر نہ بیچے۔ یہ بہت بڑا رسک ہے جو منڈیوں کے قیام کی اجازت دے کر لیا گیا ہے۔ ان منڈیوں میں صفائی ستھرائی کی حالت پہلے ہی ناگفتہ بہ ہوتی ہے، پھر بیوپاری دن رات وہیں قیام کرتے ہیں۔نہانے کی سہولت کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا،ہاتھ دھونے کی مناسب سہولت موجود نہیں ہوتی،جانوروں اور انسانوں کا فضلہ بھی تلف کرنے کا کوئی انتظام نہیں ہوتا۔ ایسے میں اگر کورونا بھی وہاں موجود ہو تو نتائج کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔کیا عجیب صورتِ حال ہے کہ ویسے تو ریستوران، میرج کلبوں اور پبلک مقامات پر اجتماعات کی پابندی ہے،لیکن مویشی منڈیوں میں ہزاروں جانوروں اور انسانوں کو ایک جگہ اکٹھے ہونے کا موقع فراہم کر دیا گیا ہے۔خدا نہ کرے ہم پھر کورونا کے حوالے سے اُس انتہا کو پہنچیں جس پر عیدالفطر کے بعد پہنچے، مگر اسباب تو ہم نے مہیا کر دیئے ہیں۔

اب ایک طرف اس فیصلے اور دوسری طرف وزیراعظم عمران خان کی اس ہدایت کو پیش نظر رکھیں کہ عید پر سب گھروں پر رہیں تو سارا تال میل بکھر سا جاتا ہے۔عید کے دن تو سوائے نماز کے لوگ گھروں پر ہی رہتے ہیں،مسئلہ تو عید سے پہلے کا ہے،اگر عید سے پہلے ایک ہفتے کے لئے لاک ڈاؤن کر کے مارکیٹیں بند کر دی جائیں اور مویشی منڈیوں پر سارا فوکس رکھ کے وہاں ایس او پیز پر پوری طرح عملدرآمد کرایا جائے، روزانہ وہاں سپرے کیا جائے اور ماسک کی پابندی یقینی بنا دی جائے تو ہم ایک بڑی تباہی سے بچ سکتے ہیں۔ صرف شہر کی حدود سے دو تین کلو میٹر باہر منڈیاں لگا دینے سے بات نہیں بنے گی، وہاں سے لوگ دوبارہ شہر میں آئیں گے۔اگر وہ کورونا کا شکار ہو کر گھر واپس آتے ہیں، تو گویا پورا شہر متاثر ہو سکتا ہے۔اللہ ہم سب کو ہوش کے ناخن لینے کی توفیق دے اور ہم اس مرحلے سے بخیرو عافیت گذر جائیں۔

مزید :

رائے -کالم -