پاکستان۔ حضور پاک ؐ کے حکم پر قائم اسلامی ملک ہے

پاکستان۔ حضور پاک ؐ کے حکم پر قائم اسلامی ملک ہے
پاکستان۔ حضور پاک ؐ کے حکم پر قائم اسلامی ملک ہے

  

قائداعظم ؒمحمد علی جناح بیسویں صدی کی عظیم ترین شخصیت تھے جن کی ولولہ انگیز قیادت میں مسلمانان ِ بر صغیر نے متحرک ہو کر دنیا کا سب سے بڑا اسلامی ملک پاکستان حاصل کیا تھا انہوں نے اپنی عظیم شخصیت کے ہر پہلو میں سچائی، قول و فعل میں ہم آہنگی اور تائیدایزدی کی کی بدولت حکمران انگریزوں، شاطر ہندوؤں کو شکست دیکر یہ وطن عزیز حاصل کیا تھا۔ آپ چاہتے تھے کہ مسلمانوں کیلئے ایسا آزاد ملک ہو جہاں نہ تو ہندوؤں کی شرکت،نہ ہی انگریزوں کا غلبہ ہو، ایسے ہی مسلم معاشرہ کیلئے انہوں نے علیحدہ پاک وطن کا مطالبہ کیا تھا۔11 ستمبر 1948 کو کروڑوں مسلمانوں کو آزادی دلا نے والا روشن سورج ہمیشہ کیلئے غروب ہوگیا تھا۔

میرے ایک بزرگ دوست جنرل (ر) سیدمظفر حسین اندرابی جو آتھو پیڈک ڈاکٹر ہیں ایک ایمان افروز وڈیو بھیجی ہے جو ایک امریکی نژاد مسلمان علی ایلن کی ہے، ٹی وی پر اظہار خیال کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ ہر پاکستانی کو یہ سمجھنا چاہیے کہ پاکستان ایک عام ملک نہیں ہے، اور اس کی حفاظت انہیں دل وجان سے کرنی چاہیے۔مسٹر علی ایلن نے بتایا کہ مجھے امریکہ میں میرے دوست اکثر یہ پوچھتے ہیں کہ تمہیں پاکستان سے اتنی محبت کیوں ہے اور تم اسکی اتنی حمایت کیوں کرتے ہو۔انہوں نے ٹی وی اینکر سے باتیں کرتے ہوئے اُردو میں بڑے خوبصورت لہجہ میں بتایا کہ اس کے والدین 1947 سے 1965 تک پاکستان میں رہائش پذیر رہنے کے بعد اب امریکہ میں مقیم ہیں۔

دوران گفتگو ایک بڑا خوبصورت اور ایمان افروز واقع سنایا،انہوں نے کہا کہ پاکستانیوں کو یہ علم نہیں ہے کہ پاکستان کس طرح وجود میں آیا تھا، کیوں بنا تھا اور اور کیسے بنا تھا، برِصغیر کے بہت بڑے عالمِ دین علامہ شبیر احمد عثمانی قائداعظم ؒ کے قریبی دوست تھے،انہوں نے ہی قائداعظمؒ کی نماز جنازہ بھی پڑھائی تھی۔انہوں نے بتایا کہ قائداعظم ؒ 1934 میں انگلینڈ میں تھے اور ایک روز اچانک واپس کراچی آگئے۔ان کے قریبی ساتھیوں بشمول لیاقت علی خاں بھی آپ کی اچانک آمد پر حیران تھے، علامہ شبیر احمد عثمانی نے قائداعظم ؒ سے پوچھا کہ آپ اچانک کس کے کہنے پر تشریف لائے ہیں تو انہوں کہا کہ میں ایک شرط پر آپ کو بتاؤنگا کہ آپ میری زندگی میں کسی سے یہ بات نہیں کرینگے۔قائداعظم ؒ نے بتایا کہ میں ایک رات انگلینڈ میں سویا ہو اتھا کہ اچانک میرا بیڈ ہلنا شروع ہو گیا، میں کچھ دیر بعد دوبارہ سوگیا۔تھوڑی دیر بعد زیادہ زور سے بیڈ ہلاتو میں سمجھاکہ زلزلہ کا جھٹکا ہے، میں نے باہر جاکر دیکھا تو سب لوگ سورہے تھے کیونکہ یہ زلزلہ نہیں تھا تیسری بار پھر زور دار جھٹکا محسوس ہوا تو میں اُٹھ کر بیٹھ گیا۔قائد اعظمؒ نے دیکھا کہ اُن کے سامنے ایک شخصیت کھڑی ہے۔

قائداعظم ؒ نے پوچھا " آپ کون ہیں " تو انہوں نے جواب میں فرمایا کہ میں آپ کا پیغمبرِ خدا حضرت محمد ﷺ ہوں، آپﷺ نے انگریزی میں فرمایا " ترجمہ (آپ فوری طور پر برِ صغیر جائیں جہاں آپ کی اشد ضرورت ہے،آپ بالکل پریشان نہ ہوں، انشاء اللہ آپ اپنے مشن میں کامیاب رہیں گے)" ایلن علی سے یہ واقع سننے کے بعد تحریک ِ آزادی کے تمام واقعات پر غور کیا جائے تو قدم قدم پر تائیدایزدی کی علامات نظر ا ٓتی ہیں۔ قائداعظم ؒ کس کس طرح کے مسائل سے بخوبی گزرتے رہے اور کیسے کوئی غیر مرئی قوت سایہ بن کر آپ کے ساتھ رہی، اہل ِ ایمان اسے بخوبی سمجھ سکتے ہیں۔ اسی طرح کے سگنل برِ صغیر میں علماء وشائخ عظام کو بھی ملتے رہے ہوں گے، جو قائداعظم ؒ کے ساتھ شانہ بشانہ شریک رہے۔ پاکستان کو تائیدخداوندی حاصل ہے اس لئے اس کے تمام حاسدین ملیا میٹ کر دیئے گئے اور آئندہ بھی تباہ و برباد ہوتے رہیں گے۔ اللہ کریم نے اس کی حفاظت کیلئے اسے ایٹمی قوت بنا کر تمام دشمنوں کا ہمیشہ ہمیشہ کیلئے خاتمہ کر دیا ہے۔

ادیب اور دانشور اشفاق احمد نے اپنے ایک ٹی وی پروگرام زاویہ میں واقع سنایا تھا جو میں قارئین سے شیئر کروں گا۔ایک مرتبہ مجھے کسی شادی پر اسلام آباد جانے کا اتفاق ہوا، اسی شادی میں مجھے ایک پیغام ملا کہ ایک روحانی با با جی آپ سے ملناچاہتے ہیں۔چنانچہ میں ان کے پاس گیا۔ انہوں نے مجھے دیکھتے ہی کہا کہ تم آگئے ہو تو سنو " تم اپنے پروگرام میں بڑے قصے کہانیاں سناتے رہتے ہو، میں تمہیں WARN کرتا ہوں، میں نے تمہیں وارننگ دینے کیلئے بلا یا ہے۔ تم لوگ بہت لا پرواہ ہو چکے ہو اور تم نے توجہ دینا چھوڑدی ہے۔تم ایک خطرناک اور خوفناک منزل کی طرف رجوع کررہے ہو۔ دیکھو! میں تمہیں بتانا چاہتا ہوں، یہ پاکستان ایک معجزہ تھا جتنا بڑا قوم ثمود کیلئے اونٹنی کے پیدا ہونے کا تھا۔اگر تم پاکستان کو حضرت صالح علیہ سلام کی اونٹنی سمجھنا چھوڑ دو گے، نہ تم رہو گے، نہ تمہاری یادیں رہیں گی۔بابا جی میرگلے میں موجو د صافے کو پکڑ کر کھینچ رہے تھے۔آپ اندازہ کر سکتے ہیں کہ میری کیا کیفیت ہو گی، پسینے چھوٹ گئے تھے۔

انہوں نے کہا کہ تم نے حضرت صالح کی اونٹنی کے ساتھ اچھا سلوک نہیں کیا۔ اٹھاون برس گزر گئے، تم نے اس کے ساتھ وہی رویہ اختیا ر کیا ہو اہے جو قوم ثمود نے کیا تھا اندر کے رہنے والوں اور باہر کے رہنے والے، دونوں کو میں تنبیہ کررہا ہوں، تم سنبھل جاؤ ورنہ وقت بہت کم ہے۔اس اونٹنی سے جو تم نے چھینا ہے اور جو کچھ لوٹا ہے، اندر کے رہنے والوں اس کو لوٹا دو اور اس کو واپس کردو۔اور با ہر کے رہنے والو، ساؤتھ ایشیا کے سارے ملکو ں کو وارننگ دیتا ہوں کہ اس کو کوئی عام چھوٹا سا، معمولی سا جغرافیا ئی ملک سمجھنا چھوڑ دو۔ یہ حضرت صالح علیہ سلا م کی اونٹنی ہے۔ہم سب پر اس کا ادب اور احترام واجب ہے۔ اسکے ساتھ ہونے والی کوتاہیوں کی معافی مانگتے رہو۔ اشفاق احمد صاحب کہتے ہیں کہ میں ان کی کسی بات کا کوئی جواب نہ دے سکا، اور خوف ذدہ ہو کر کھڑا رہا،پھر انکو سلام کرکے سرجھکا ئے واپس چلا آیا اور دیر تک پسینہ صاف کرتا رہا۔

پاکستان بلا شبہ حضرت صالح علیہ سلام کی اونٹنی ہے اور ہماری قوم کا حشر بھی قوم ثمود سے مختلف نہیں ہوگا۔ میں نے جب زاویہ میں یہ واقع پڑھا تو میرے بھی رونگٹے کھڑے ہوگئے پاکستا ن کو حضرت صالح کی اونٹنی سمجھتے ہوئے ہر پاکستانی کو وطنِ عزیز سے پیار کرنا چاہیے اور ملک بھر میں جگہ جگہ اس کی تشہیر کرنی چاہیے۔ بچوں کے کور س میں شامل کرنا چاہیے تا کہ بیس کروڑ پاکستانی عوام میں سے ایک بھی شخص یہ نہ کہہ سکے کہ تجھے تو اس بات کا علم ہی نہیں تھا کہ پاکستا ن کا قیا م ایک معجزہ ہے اور یہ حضر ت صالح علیہ سلام کی اونٹنی کے مترادف ہے۔

مزید :

رائے -کالم -