پلاٹ کیس، لاہور ہائیکورٹ نے میر شکیل الرحمن کی درخواست ضمانت مستر د کر دی

پلاٹ کیس، لاہور ہائیکورٹ نے میر شکیل الرحمن کی درخواست ضمانت مستر د کر دی

  

لاہور(نامہ نگارخصوصی)لاہور ہائیکورٹ کے مسٹر جسٹس سرداراحمد نعیم اور مسٹر جسٹس فاروق حیدر پر مشتمل ڈویژن بنچ نے پلاٹ الاٹمنٹ کیس میں جنگ اور جیو کے ایڈیٹر انچیف میرشکیل الرحمن کی درخواست ضمانت مسترد کردی۔فاضل بنچ نے اڑھائی گھنٹے تک فریقین کے تفصیلی دلائل سننے کے بعد اپنافیصلہ سنایا،میر شکیل الرحمن کے وکیل امجد پرویز نے عدالت میں موقف اختیا رکیا کہ جنگ اور جیو کی طرف سے حکومت پر تنقید کی بناپر میرشکیل الرحمن کوانتقام کانشانہ بنایاگیا،نیب کو 54 کنال 5 مرلہ کی زمین پر کوئی اعتراض نہیں ہے،نیب نے قومی خزانے کو ایک دھیلے کے نقصان کی نشاندہی نہیں کی، 1986ء میں جب میر شکیل الرحمن کو پلاٹس الاٹ ہوئے تب ایل ڈی اے کا جوہر ٹاؤن کیلئے کوئی منظور شدہ ماسٹر پلان موجود نہیں تھا، 27 اگست 1990ء کو ماسٹر پلان منظور ہوا، 1998ء میں گھر مکمل ہوا اور ایل ڈی اے نے سرٹیفیکیٹ بھی جاری کیا، 2016ء میں پھر سے میر شکیل کی جائیداد کے کیس پر جائزہ لیا گیا، زمین کی قیمت کے معاملے پر میر شکیل کی فائل کا ایل ڈی اے میں کئی بار جائزہ لیا گیا۔ نیب کے سپیشل پراسکیوٹر سید فیصل رضا بخاری نے جوابی دلائل میں کہا کہ ریفرنس کے گواہ پٹواری بشیر احمد کی رپورٹ نشاندہی کے مطابق 59 کنال 3 مرلے زمین میر شکیل کے پاس ہے، میر شکیل 59 کنال 3 مرلے 77 فٹ رقبے پر قابض ہے، میر شکیل کا تمام رقم ادا کرنے کا دعوی بھی بے بنیاد ہے۔ملزم نے زیادہ زمین حاصل کرنے کے بعد رقم جمع نہیں کروائی اور اسی بنیاد پر 14 کروڑ 34 لاکھ روپے کا نقصان پہنچانے کا الزام ہے۔ فاضل بنچ نے دلائل سننے کے بعد میر شکیل الرحمن کی بعد ازگرفتاری ضمانت کی درخواست مسترد کردی۔

ضمانت مسترد

مزید :

صفحہ آخر -