زراعت ملکی معیشت کا اہم شعبہ، جینیاتی انجینئر نگ سے پیداوار بڑھا سکتے ہیں: فخر امام

زراعت ملکی معیشت کا اہم شعبہ، جینیاتی انجینئر نگ سے پیداوار بڑھا سکتے ہیں: ...

  

اسلام آباد(آن لائن) پاکستان میں زراعت میں انقلاب لا سکتے ہیں اور زراعت ملکی معیشت کا ایک اہم شعبہ بن سکتا ہے وزیر اعظم عمران خان نے زراعت کی اہمیت پر زور دیاہے۔ ان خیالات کا اظہار وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق سید فخر امام نے بدھ کے روز خریف سیزن کے بارے میں فیڈرل کمیٹی برائے زراعت (ایف سی اے) کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔سید فخر امام نے کہا کہ زراعت ملک کی معیشت کا اہم حصہ ہے، ہمیں گندم کی پیداوار میں اضافہ کرنا ہے۔ہمیں جینیاتی انجینئرنگ کے ذریعہ اعلی پیداوار گندم کی مختلف اقسام بنانے کی ضرورت ہے۔ ہمارے ملک میں آبپاشی کا بہترین نظام موجود ہے۔ گندم پاکستان کے کاشت شدہ رقبے کا 36 فیصد ہے۔فوڈ سیکیورٹی کمشنر ڈاکٹر وسیم نے کہا کہ کئی سالوں کے بعد ہمارے ملک نے ہدف سے زیادہ 540ٹن چنا پیدا کیا ہے۔اس سال پیداوار میں 23.71 فیصد اضافہ ہوا ہے۔پچھلے سال آلو کی پیداوار 4.4 ملین ٹن تھی جبکہ اس سال اس کی پیداوار 4.43 ملین ٹن ہے۔اس سال بلوچستان میں ٹماٹر کی زبردست فصل ہے۔سید فخر امام نے کہا کہ ہمیں تیل کے بیج (سورج مکھی، کینولا، روزہپ سیڈ اور سرسوں) کی پیداوار میں اضافہ کرنے کی ضرورت ہے۔ارسا کے نمائندے نے بتایا کہ اس سال خریف سیزن میں 9فیصد پانی زیادہ دستیاب ہوگا۔محکمہ موسمیات پاکستان کی نمائندے نے کہا کہ پوٹوہار اور کشمیر کے علاقے میں آئندہ 3 ماہ میں شدید بارش ہوگی جو فصلوں کے لئے تباہ کن ثابت ہوسکتی ہے۔اسٹیٹ بینک کے نمائندے نے بتایا کہ اس سال زرعی قرضوں کا 95فیصد ہدف حاصل کیا جائے گا۔ اس سال چاول کا ہدف 7.9 ملین ٹن، مکئی 6.7 ملین ٹن، مونگ 1 لاکھ 40 ہزار ٹن، ماش 10 ہزار 3 ہزار ٹن اور مرچ 1 لاکھ 21 ٹن ہے۔ ایف ایس سی اور آرڈی نے واضح کیا کہ وہ بلوچستان میں دالوں اور چارے کے بیج کی تیاری کے طریقہ کار پر کام کر رہے ہیں۔اس سلسلے میں ایف ایس سی اور آرڈی نے بلوچستان کی 3 کمپنیوں سے ملاقاتیں کیں۔

فخر امام

مزید :

صفحہ آخر -