سرکاری سکیم کے عازمین کی رقوم کی2جولائی سے واپسی کا اعلان

سرکاری سکیم کے عازمین کی رقوم کی2جولائی سے واپسی کا اعلان

  

لاہور(ڈویلپمنٹ سیل) حج 2020ء سعودی حکومت کی طرف سے 26جون کو باقاعدہ حج منسوخی کے باقاعدہ اعلان کے باوجود وزارت مذہبی امور کی طرف سے سرکاری عازمین حج کے 50ارب سے زائد رقوم کی واپسی 29جون کو واپس کرنے کی بجائے 2جولائی 2020ء سے واپس کرنے کا اعلان کر کے کئی سوالات اٹھا دیئے۔ کیا فنانسل سال کے آخری دن30جون کے لیے بنکوں کو فائدہ پہچانے کے لیے ایسا کیا گیا؟ بنک سرکاری حج سکیم کی درخواستوں کی رقوم شریعہ اکاونٹ میں رکھتے ہیں مگر منافع کی مدمیں 7فیصد تک ادا کرتے ہیں۔ 26جون کو جب حج منسوخی کا اعلان ہوا اس دن جمعتہ المبارک کا دن تھا 27اور 28جون ہفتہ اور اتوار کو بنک بند تھے۔پیر29جون کو بنک کھلے تھے لیکن بنکوں کا دباؤ تھا کہ بنکوں سے رقم نہ نکلوائی جائے۔یکم جولائی دوبارہ کو بنک بند تھے 2جولائی کو وازرت نے پیسے واپس لینے کے لیے بنکوں سے رابطہ کی ہدایت کی تھی سنجیدہ حلقوں نے وفاقی وزیر مذہبی امور سے مطالبہ کیا ہے قوم کو بتایا جائے حج سے محروم رہ جانے والوں کو رقوم کی واپسی کے لیے 29جون کی بجائے 2جولائی کی تاریخ کیوں دی گئی۔ کیا کسی نے بنک فافیا سے سازبازکر کے بنکوں کو آخری فائدہ پہنچایا۔وزارت مذہبی امور اس حوالے سے موقف دینے کے لیے تیار نہیں ان کا کہنا ہے اکاؤنٹ کا مسئلہ ہے فائدہ کسی کو کیا ہو سکتا ہے سارا قام معمول میں کیا گیا ہے۔ 26جون کو اعلان ضرور ہو اہے لیکن باقاعدہ سرکاری طورپر اطلاع بعد میں دی گئی۔

رقوم واپسی

مزید :

صفحہ آخر -