اہل خانہ کو لات، تھپڑ، گھونسہ مارنے، اٹھا کر پٹخنے اور آنکھیں نکالنے پر سزا

  اہل خانہ کو لات، تھپڑ، گھونسہ مارنے، اٹھا کر پٹخنے اور آنکھیں نکالنے پر سزا

  

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر) وزارت انسانی حقوق کا گھریلو تشدد (تحفظ اور روک تھام) بل 2020 آج(جمعرات کو) قومی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا۔اس بل کو متعارف کرانے کا مقصد خواتین، بچوں،بوڑھوں اور دوسرے کمزور افراد جو ایک جگہ پر ساتھ رہتے ہیں اور گھریلو تشدد کا شکار ہیں انکا تحفظ ہے۔ اس طرح کے تشدد میں جسمانی طور پر جارحانہ حرکتیں شامل ہیں جیسے مارنا، لات مارنا، تھپڑ مارنا اوردھکا دیکر پھینکنے کے ساتھ دھمکیوں، آنکھیں نکالنے اور معاشی استحصال جیسی جذباتی طور پر مکروہ حرکتیں شامل ہیں۔ پنجاب، سندھ اور بلوچستان کی پارلیمنٹ کی حکومتیں پہلے ہی گھریلو تشدد کے مسئلے کو حل کرنے کے لئے صوبائی سطح پر قانون سازی کر چکی ہے۔ لہٰذا وزارت انسانی حقوق نے وفاقی سطح پر حقوق کے تحفظ کے لئے ایک مسودہ تیار کیا ہے۔ بل کی نمایاں خصوصیات میں مندرجہ ذیل شامل ہیں۔ اس بل کا مقصد اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹریری کے علاقائی دائرہ اختیار میں گھریلو تشدد کے خلاف خواتین، بچوں، بزرگوں اور دیگر کمزور افراد کے تحفظ، امداد اور بحالی کا ایک موثر نظام قائم کرنا ہے۔ اس سے گھریلو تشدد کا نشانہ بننے والے متاثرین کو راحت ملے گی جو گھریلو تعلقات میں ہیں اور ایک دوسرے سے وابستگی، شادی اور رشتہ داری وغیرہ سے وابستہ ہیں۔ یہ بل عدالتوں کو عبوری احکامات، تحفظ کی تحویل اور رہائش کے احکامات دینے کے ساتھ جواب دہندگان کی قیمت پر تشدد کا نشانہ بننے والے متاثرین کو مالیاتی ریلیف دینے کی بھی طاقت دیتا ہے۔ اس بل میں غمزدہ فرد کی مدد کرنے اور عدالت میں اس کی درخواست پر کارروائی کرنے کے لئے ایک پروٹیکشن کمیٹی بنانے کے بارے میں بھی غور کیا گیا ہے۔ وزارت انسانی حقوق نے متعلقہ اسٹیک ہولڈرز سے متعدد مشاورت کا اہتمام کیا۔ چودھری فواد حسین، وزیر سائنس وٹیکنالوجی، بیرسٹر مرزا شہزاد اکبر، وزیر مملکت برائے داخلہ، وزیر اعظم (ایس اے پی ایم) کے معاون خصوصی اور وزیر قانون و انصاف مسٹر فروغ نسیم کے ساتھ بھی اس معاملے پر اجلاس ہوا ہے۔

گھریلو تشدد

مزید :

صفحہ اول -