جنوبی پنجاب صوبے کیلئے پیپلزپارٹی کا سڑکوں پر آنیکا فیصلہ

جنوبی پنجاب صوبے کیلئے پیپلزپارٹی کا سڑکوں پر آنیکا فیصلہ

  

ملتان (نما ئندہ خصو صی) پاکستان پیپلزپارٹی کے ایم پی اے و ڈپٹی پارلیمانی لیڈر پنجاب اسمبلی سید علی حیدر گیلانی نے جنوبی پنجاب کے سینئر نائب صدر خواجہ رضوان عالم، ضلعی جنرل سیکرٹری راو ساجد علی، سٹی جنرل سیکرٹری اے ڈی بلوچ، پی ایل ایف جنوبی پنجاب کے صدر شیخ غیاث الحق ایڈووکیٹ، ملتان سٹی کے سینئر نائب صدر ساجد بلوچ، ضلعی سیکرٹری انفارمیشن (بقیہ نمبر45صفحہ7پر)

چوہدری یاسین، ڈپٹی سیکرٹری انفارمیشن و انچارج میڈیا سیل سٹی خواجہ عمران، پی ایل ایف جنوبی پنجاب کے نائب صدر ملک صفدر پہوڑ، پیپلز لیبر بیورو جنوبی پنجاب کے سیکرٹری انفارمیشن اعظم خان بوسن کے ہمراہ بلاول ہاوس ملتان میں صوبہ جنوبی پنجاب کے ایشو پر اہم پریس کانفرنس سے خطاب کیاانہوں نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کورونا وائرس کے خاتمے کے بعد پیپلزپارٹی جنوبی پنجاب کے حصول کیلئے اپنے قائد چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری کی قیادت میں سڑکوں پر نکلے گی جبکہ اپوزیشن کی اے پی سی میں بھی جنوبی پنجاب صوبہ کو اہم موزوں کے طور پر اٹھایا جائے گا پیپلزپارٹی نے ہمیشہ جنوبی پنجاب الگ صوبہ کیلئے تحریک چلائی ہے اب ہمارے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری ایک بار پھر الگ صوبہ کیلئے تحریک چلائیں گے اور اس تحریک کا مرکز ملتان ہوگا پاکستان پیپلزپارٹی نے پہلے بھی صوبے کیلئے قومی اسمبلی میں الگ صوبہ کا بل جمع کروایا ہوا ہے انہوں نے مزید کہا کہ پہلے غریب لاہور جانے کیلئے ایک بکری بیچتا تھا اور اپنے کاموں کیلیے لاہور جاتا تھا اب وہ غریب دو بکریاں بیچے گا پہلے بہاولپور پھر لاہور جائے گاانہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی سب سیکرٹریٹ کے قیام کی مذمت کرتی ہے اور یہ فیصلہ بھی وزیراعلی نے نہیں کیا اوپر سے آیا ہے پیپلزپارٹی کورونا وائرس کے خاتمہ پر جنوبی پنجاب کی جنگ لڑنے کیلئے تحریک چلائے گی سیکرٹریٹ کیلئے سب سے موزوں شہر ملتان تھا جس کو نظر انداز کیا گیا چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری سے اے پی سی میں جنوبی پنجاب کے حوالے سے لائحہ عمل کی درخواست کریں گے پیپلزپارٹی جنوبی پنجاب میں ایک صوبہ کے حق میں ہے جنوبی پنجاب کی عوام کا بنیادی مطالبہ علیحدہ صوبہ کا تھا2010 میں سید یوسف رضا گیلانی نے آئینی بل سینٹ سے دو تہائی اکثریت سے پاس کروایا قومی اسمبلی میں اکثریت نہ ہونے کی وجہ سے علیحدہ صوبہ نہ بن سکاپی ٹی آئی نے 2018 میں سو دن میں صوبے کے قیام کا وعدہ کیا تھا ایڈمنسٹریٹو یونٹ کی جغرافیائی حدود کا بھی تعین کیا گیا۔ پاکستان پیپلزپارٹی سیکرٹریٹ کی شکل میں تخت لاہور کی رعایا بننے سے انکار کرتی ہے پیپلزپارٹی سیکرٹریٹ کے قیام کے اعلان کو مسترد کرتی ہیپی ٹی آئی نے سولو فلائٹ کی کسی سٹیک ہولڈر کو اعتماد میں نہیں لیا پی ٹی آئی جنوبی پنجاب کے نمائیندے عوام سے منہ چھپاتے پھر رہے ہیں جنوبی پنجاب کے چار کروڑ عوام کا متفقہ مطالبہ الگ صوبہ ہے جنوبی پنجاب کی عوام نے پی ٹی آئی کو صرف صوبہ کی وجہ سے ووٹ دیا ہے آج پی ٹی آئی جنوبی پنجاب کے نمائیندے بتائیں کے وہ خود صوبے کے مطالبے امسے کیوں پیچھے ہٹ رہے ہیں تحریک انصاف کے پاس کوئی ایسی بات نہیں کہ صوبہ نہ بنایا جا سکے پی ٹی آئی غیر مقبول فیصلے کر رہی ہے تو یہ مقبول ترین فیصلہ کیوں نہیں لے رہی۔

پی پی

مزید :

ملتان صفحہ آخر -