مرکزی، صوبائی حکومتیں عوام کو ریلیف دینے میں ناکام ہوگئیں،ذیشان اختر

  مرکزی، صوبائی حکومتیں عوام کو ریلیف دینے میں ناکام ہوگئیں،ذیشان اختر

  

بہاول پور(بیورورپورٹ)نائب امیر صوبہ جماعت اسلامی جنوبی پنجاب سید ذیشان اختر نے کہا ہے کہ فوجی آمریتوں، (بقیہ نمبر19صفحہ6پر)

شریف خاندان اور بھٹو زرداری خاندان کی سیاسی، قومی محاذ پر ناکامیوں کے بعد 2018ء کے انتخابات پر عوام کے تحفظات کے باوجود عمران خان برسرِ اقتدارآگئے اور یہ تاثر دیا گیا کہ حکومت اور ریاست ایک پیج پر ہیں لیکن یہ امر پوری قوم کے لیے بہت تکلیف دہ ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے سیاسی، اقتصادی، کشمیر،کرونا وبا پر کنٹرول، احتساب اور اسلامی نظریاتی شعائراسلام بالخصوص تحفظ ختمِ نبوت،تحفظِ مساجد و مدارس کے محاذ پر مسلسل ناکامیوں کی وجہ سے قوم کو مایوس کیا ہے۔ عوامی جذبات کو نظر انداز کرکے سستی شہرت کے لیے تعمیر ہونے والی دیگر مذاہب کی عبادتگاہوں کے معاملات میں حکومتی اقدامات اسلامیانِ پاکستان کے لیے انتہائی تکلیف دہ ہیں۔ مرکزی،صوبائی اور بلدیاتی حکومتیں عوام کو ریلیف دینے میں ناکام ہیں۔ اسٹیٹس کو پہلے سے بدتر اورحکمرانی کا نظام عوام سے چھین کر اسٹیبلشمنٹ کی دہلیز پر ڈھیرکردیاگیاہے۔ لاقانونیت، بے روزگاری اور کرپشن کئی گنا بڑھ گئی ہے۔ حکومتی نااہلی اور ناتجربہ کاری نے قومی اداروں اور نظام کو تباہ کردیاہے، ہر آنے والا دن یہ ثابت کررہا ہے کہ حکومت خود اپنی اصلاح اور اصلاحِ احوال کے لیے سنجیدہ نہیں۔ سیاست میں ڈائیلاگ کے دروازے بند کرلئے جائیں تو جمہوریت اور پارلیمانی نظام اور آئین کے لیے خطرات بڑھ جاتے ہیں۔ ملکی حالات کا تقاضا ہے کہ قومی ترجیحات پر قومی قیادت متحد ہو اور اتفاقِ رائے سے قومی حکمتِ عملی بنائی جائے وگرنہ جمہوری، پارلیمانی نظام کو حقیقی خطرات لاحق ہوجائیں گے۔اس کے ذمہ دار عمران خان ہی ہوں گے۔

ذیشان اختر

مزید :

ملتان صفحہ آخر -