”2014 میں مجھ پر قاتلانہ حملہ ہوا اور جب میں آغا خان ہسپتال میں زیر علاج تھا تو نوازشریف کے ایک وزیر اپنی اہلیہ کے ہمراہ میرے پاس آئے اور کہنے لگے کہ ۔۔“سینئر صحافی حامد میر نے حیران کن انکشاف کر دیا

”2014 میں مجھ پر قاتلانہ حملہ ہوا اور جب میں آغا خان ہسپتال میں زیر علاج تھا تو ...
”2014 میں مجھ پر قاتلانہ حملہ ہوا اور جب میں آغا خان ہسپتال میں زیر علاج تھا تو نوازشریف کے ایک وزیر اپنی اہلیہ کے ہمراہ میرے پاس آئے اور کہنے لگے کہ ۔۔“سینئر صحافی حامد میر نے حیران کن انکشاف کر دیا

  

لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن )سینئر صحافی حامد میر کا آج مقامی اخبار ” جنگ نیوز“ میں کالم شائع ہواہے جس میں انہوں نے 2014میں خود پر ہونے والے قاتلانہ حملے کے بعد کی تفصیلات سے پردہ اٹھایا ہے اور حیران کن انکشافات کیے ہیں ۔

تفصیلات کے مطابق حامد میر کا اپنے کالم میں کہنا تھا کہ یہ اپریل 2014ءکی ایک رات کا پچھلا پہر تھا۔آغا خان اسپتال کراچی میں میری آنکھ کھلی تو چھوٹا بھائی مجھ پر جھکا ہوا تھا اور تسلی دے رہا تھا۔اس نے کہا آپ سوتے میں کسی سے باتیں کر رہے تھے۔ میں اپنے ارد گرد اس بزرگ خاتون کو تلاش کر رہا تھا جو تھوڑی دیر پہلے مجھ سے باتیں کر رہی تھی۔

میں نے ذہن پر زور دیا اور یاد کیا کہ سفید لباس میں ملبوس یہ خاتون کون تھی جو مجھے بار بار کہہ رہی تھی کہ گھبرانا نہیں، یہ تمہارا ملک ہے تمہارے بزرگوں نے اس ملک کیلئے قربانیاں دی ہیں تم یہ ملک چھوڑ کر کہیں نہیں جاﺅ گے۔میں نے اپنی آنکھیں دوبارہ بند کیں تو اس بزرگ خاتون کا شفیق چہرہ دوبارہ میرے سامنے آ گیا۔

یہ محترمہ فاطمہ جناح تھیں اور اب مجھے خواب میں ان کے ساتھ ہونے والی گفتگو بھی یاد آرہی تھی۔اس خواب کا پس منظر یہ تھا کہ 19اپریل 2014ءکو کراچی میں مجھ پر قاتلانہ حملہ ہوا تھا جس میں مجھے چھ گولیاں لگیں اور دو گولیاں بدستور جسم کے اندر تھیں۔

وزیراعظم نواز شریف نے اس واقعے کی تحقیقات کیلئے سپریم کورٹ کے تین ججوں پر مشتمل ایک انکوائری کمیشن بنا دیا تھا لیکن ان کی کابینہ کے ایک وزیراپنی اہلیہ کے ہمراہ ہسپتال آئے اور علیحدگی میں مجھے کہا کہ جن لوگوں پر قاتلانہ حملے کی ذمہ داری ڈالی جا رہی ہے وہ بے قصور ہیں۔ڈاکٹر انعام پال نے میرے ساتھ ملاقاتوں پر پابندی لگا رکھی تھی لیکن کچھ اہم شخصیات اس پابندی کو توڑ کر میرے سرہانے پہنچ رہی تھیں اور علاج کیلئے بیرونِ ملک جانے کا مشورہ دے رہی تھیں۔

ان دنوں حالت یہ تھی کہ بستر پر پہلو بدلنا تو درکنار ہاتھ پاﺅں ہلانا بھی مشکل تھا۔ کندھے، پیٹ اور دونوں ٹانگوںمیں لگنے والی گولیوں کے باعث بستر سے اٹھ کر چلنا ناممکن نظر آتا تھا لہٰذا بیرونِ ملک چلے جانے کا مشورہ دینے والوں کو میرے ڈاکٹر نے سخت لہجے میں کہنا شروع کر دیا کہ آپ مریض کو تنگ مت کریں۔ ایک شام مجھے بتایا گیا کہ کل ایک خصوصی ایئرایمبولینس دبئی سے کراچی آ رہی ہے اور آپ بیرونِ ملک جا رہے ہیں۔

میں نے اپنے ڈاکٹر سے پوچھا۔وہ اس معاملے سے بے خبر تھے اور مجھے یقین دلا رہے تھے کہ میرا علاج پاکستان میں بالکل ممکن ہے اور میں آہستہ آہستہ اپنے پاﺅں پر کھڑا ہو جاﺅں گا۔مجھے ایسا لگ رہا تھا کہ مجھے علاج کیلئے نہیں بلکہ اس لئے باہر بھجوانے پر زور تھا تاکہ سپریم کورٹ کا انکوائری کمیشن میری غیر موجودگی کے باعث کام ہی نہ کرسکے۔

ایک دوست نے تو یہ بھی کہا کہ وزیراعظم صاحب آپ کی عیادت تو کر گئے ہیں لیکن اب انہی کی حکومت آپ پر غداری کا مقدمہ بھی بنائے گی اس لئے انکوائری کمیشن سے کوئی امید نہ رکھو۔یہ وہ ذہنی دباﺅ اور کشمکش تھی جس میں محترمہ فاطمہ جناح مجھے خواب میں ملیں اور کہا کہ دیکھو ! ان لوگوں نے میرے ساتھ کیا کچھ نہیں کیا مجھے غدار قرار دیا میرے سفید بالوں کا مذاق اڑایا لیکن میں اپنے لوگوں کے دلوں میں ابھی تک زندہ ہوں،جو مجھے غدار کہتے تھے انہیں تو ان کی اپنی اولاد بھی بھول چکی ہے۔مجھے ان کا یہ جملہ بھی یاد آ رہا تھا ...”انہیں کہہ دو تم پاکستان میں رہو گے کہیں نہیں جاﺅ گے“۔ہو سکتا ہے کہ میرے اندرونی احساسات محترمہ فاطمہ جناح کا روپ دھار کر خواب میں میرے سامنے کھڑے تھے لیکن اس خواب کے بعد میں پ±رسکون ہو چکا تھا۔صبح ہوئی تو طبی عملہ میری پٹیاں تبدیل کرنے آیا۔یہ ایک تکلیف دہ عمل ہوتا تھا جس میں میری بہت چیخیں نکلتی تھیں لیکن اس صبح میری کوئی چیخ نہیں نکلی۔

مزید :

قومی -